کمر دردوجوہات،علامات ، علاج، احتیاطی تدابیر 100

جب پیٹ میں اُلٹی گنگا بہتی ہے

تحریر: ڈاکٹر نذیر مشتاق
قدرت نے ہمارے جسم کا ہر نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ وہ طے شدہ اصولوں کے مطابق اپنا اپنا کام کرتا ہے۔ جب تک ہر نظام قواعد و اصولوں کے تحت کام کرتا ہے تب تک انسان کسی بھی قسم کی ناراحتی محسوس کئے بناء ایک صحت مند زندگی گذارتا ہے لیکن کسی وجہ سے جب کوئی نظام یا کسی نظام کا ایک عضو یا ایک خلیہ بغاوت پر آمادہ ہو جاتا ہے اور طے شدہ اصولوں کے خلاف کام کرنے لگتا ہے تو سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور انسان کسی خاص قسم کی ناراحتی محسوس کرنے لگتا ہے…یا کسی خاص قسم کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ قدرت نے ہمارے نظام ہاضمہ کو اس اندازسے بنایا ہے کہ جو کچھ بھی ہم اپنے منہ میں ڈالتے ہیں وہ خوراک کی نالی کے ذریعہ معدہ تک پہنچتا ہے اور معدہ اپنا کام انجام دے کر غذا کو آنتوں میں دھکیل دیتا ہے،چھوٹی اوربڑی آنتیں اپنی اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں اور غذائوں سے لازمی حیاتین نمکیات وغیرہ جذب کر لیتی ہیں اور جو غیر ضروری مواد بچتا ہے وہ فضلہ کی صورت میں مقعدسے خارج ہوتا ہے۔ یعنی غذا کے ایک لقمہ کا سفر منہ سے شروع ہو کر مقعد پر ختم ہو جاتا ہے۔
ہمارے معدہ میں مختلف غذائوں کو ہضم کرنے کے لئے ایک خاص قسم کا تیزاب (ہائیڈروکلورک ایسڈ)بنتا ہے۔یہ تیزاب ہمیشہ ایک معین مقدار میں بنتا رہتا ہے اور کبھی بھی معدہ سے واپس خوراک کی نالی میں نہیں جاتا ہے یعنی تیزاب کبھی اپنا رُخ نہیں بدلتا ہے، اُلٹا نہیں بہتا ہے کیونکہ اگر یہ اُلٹا بہنے لگے تو خورا ک کی نالی پر بے حد مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن کسی وجہ سے معدہ میں موجود تیزاب کبھی اپنا رُخ بدلتا ہے…ایک بیماری جو کشمیریوں میں عام ہے، ایسی ہے جس میں تیزاب معدہ سے اُلٹا خوراک کی نالی میں جانے لگتا ہے اِس بیماری کو ایسڈ ریفلکسن ڈزیز “Acid Reflux Disease” یا گیسٹروایسوفیجل ریفلکس ڈزیز(GERD) کا نام دیاگیا ہے ۔ ڈاکٹری اصطلاح میں اس بیماری کوARDیاGERDکا نام دیاگیا ہے اس بیماری کے تعلق جو سوالات پوچھے جاتے ہیں، وہ اور اُن کے جوابات درج ذیل ہیں :
س: ایسڈ ریفکس بیماری (ARD) کیا ہے ؟
ج:مرض برگشت تیزاب (اے آر ڈی)ایک ایسی بیماری ہے جس میں معدہ میں موجود تیزاب واپس خوراک کی نالی میں چلا جاتا ہے۔ اس تیزاب سے خوراک کی نالی کی اندرونی جھلی پر انتہائی مضر اور تباہ کن اثرات پڑتے ہیں۔ ہر کوئی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ، کسی نہ کسی وقت معدہ سے تیزاب کا اُلٹا بہائو محسوس کرتا ہے جیسے کہ پرُخوری یا ’’وازہ وان ‘‘ کھانے کے بعد اکثر لوگ محسوس کرتے ہیں جب ایسا ہوتا ہے تو مریض سینے میں جلن سی محسوس کرنے کے علاوہ ایک عجیب قسم کی بے چینی محسوس کرتا ہے۔بعض لوگوں میں ایسا بار بار ہوتا ہے اور وہ کچھ خاص علائم کا اظہار کرتے ہیں، جن لوگوں میں ایسا بار بار ہوتا ہے ان کی خوراک کی نالی متورم ہو جاتی ہے اس کی اندرونی تہہ ’’جل جاتی ہے ‘‘ اور اگر انہیں بروقت علاج نہیں ملتا ہے تو اُن کی خوراک کی نالی کا اندرونی حلیہ اس حد تک بگڑ جاتا ہے کہ اُن کے سرطان میں مبتلا ہو جانے کے امکانات واضح ہو جاتے ہیں۔
س: میں نے کبھی اِس بیماری کے بارے میں نہیں سنا ہے ، کیا یہ کوئی نئی بیماری ہے؟
ج: نہیں! یہ ایک قدیم بیماری ہے اسے سوزشِ دل کے نام سے جانا جاتا تھا۔لیکن بیس برس قبل اِسے ایسڈ ریفکس بیماری (Acid Reflux Disease) کا نام دیاگیا جو زیادہ مناسب اور صحیح ہے۔ اِس بیماری کو GERDیاGORD یعنی گیسٹرواپسوفیجل ڈزیز بھی کہا جاتا ہے لیکن ایسڈ ریفلکس ڈزیز زیادہ موزوں ہے کیونکہ اِس بیماری میں معدہ کا تیزاب واپس خوراک کی نالی میں چلا جاتا ہے۔
س: اس بیماری کے علائم کیا ہیں؟
ج: اس بیماری کے خاص علائم یہ ہیں:
٭سوزشِ دل…سینے کے وسط میں جلن اور درد
…ایک عجیب قسم کی بے چینی۔
٭منہ میں کھٹے یا کڑوے تیزاب کا آنا ۔
٭نگلنے میں دشواری
بعض مریض ہر وقت سینے میں درد اور جلن محسوس کرتے ہیں اور اکثر اُنہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معدہ میں سے تیزاب یا کچھ اور غذائی اجزاء اُن کی خوراک کی نالی سے ہوتے ہوئے منہ تک آجاتے ہیں اور اُن کا منہ ہر وقت کڑواکسیلا اور بدمزہ رہتا ہے۔ ایسے مریض ڈر کے مارے غذا کھانے سے کتراتے ہیں۔
س: ایسڈ ریفلکسن بیماری کے وجوہات کیا ہیں؟
ج: جب ہم غذا کھاتے ہیں، وہ معدہ میں پہنچ جاتی ہے،خوراک کی نالی کا نچلا حصہ کچھ اس طرح اپنا کام انجام دیتا ہے کہ یہ تیزاب اور غذا کو واپس خوراک کی نالی میں جانے سے روکتا ہے۔ بعض لوگوں میں خوراک کی نالی کا نچلا حصہ کمزور ہو جاتا ہے اور وہ معدہ میں موجود تیزاب یا غذا کو واپس خوراک کی نالی میں جانے سے روکنے میں ناکام ہو جاتا ہے او ریوں تیزاب اور غذا کا کچھ حصہ ایک قسم کا اُلٹا بہائو اختیار کرتا ہے۔ اِس سے خوراک کی نالی کی اندرونی تہہ پر شدید مضر اثرات پڑتے ہیں۔
س: یہ بیماری کن لوگوں میں زیادہ عام ہے؟
ج: یہ بیماری کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو زندگی کے کسی بھی موڑ پر اپنی گرفت میں لے سکتی ہے۔ چالیس برس کی عمر کے بعد اِس بیماری کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ پچاس فیصد مرد اور عورتیں پینتالیس سال کی عمر میں، ایسڈ ریفلکس بیماری کے شکار ہو جاتے ہیں۔امریکہ میں سات ملین لوگ اِس بیماری میں مبتلا ہیں، کشمیر میںبھی یہ ایک عام بیماری ہے جس کی وجہ یہاں کے لوگوں کی غذا کے معاملے میں لاپروائی کا برتنا ہے۔ اکثر لوگ اس بیماری کا خود ہی علاج کرتے ہیں یعنی اپنی مرضی سے ضدِ تیزاب ادویات کا استعمال کرتے ہیں اور بعض مریض چند دنوں تک کسی ماہر معالج کا علاج کرنے کے بعد، ادویات کا استعمال ترک کرتے ہیں کیونکہ اُنہیں یہ نہیں سمجھایا جاتا ہے کہ اس بیماری کو ٹھیک ہونے میں کافی وقت لگتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا مریضوں کے ہاتھوں میں مختلف معالجوں کے ڈھیر سارے نسخے ہوتے ہیں اور وہ ہر دو چار روز بعد اپنا معالج بدلتے ہیں۔
س: سوزش دل اور ایسڈ ریفلکس بیماری میں کیا فرق ہے ؟
ج: ایسڈ ریفلکس بیماری ایک مرض ہے اور سوزشِ دل (ہارٹ برن) اس کی ایک مخصوص علامت ہے۔ سوزش دل کا مطلب ہے کہ مریض سینے کے وسط میں یا سینے کے بائیں طرف پستان کے نیچے جلن اور درد محسوس کرتااہے۔ اگر سوزشِ دل بار بار ستائے اور مریض کی روز مرہ کی زندگی اثر انداز ہو جائے تو یہ ایسڈ ریفلکس بیماری کی طرف واضح اشارہ ہے۔
س: انڈوسکوپی کیا ہے ؟ کیا اس سے یہ بیماری تشخیص دی جاسکتی ہے ؟
ج: انڈوسکوپی ایک تشخیصی طریقہ عمل ہے جس میں ایک پتلی نلی، مریض کے منہ سے داخل کی جاتی ہے اور خوراک کی نالی و معدہ کا عینی مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ ایک ماہر امراض نظام ہاضمہ یا انڈوسکوپسٹ اپنی آنکھوں سے خوراک کی نالی اور معدہ کو دیکھتا اور پرکھتا ہے اور کسی بھی خرابی یا نقص کی تشخیص کرسکتا ہے۔ اس سے آسان طریقے سے ایسڈ ریفلکس بیماری کی تشخیص ہو سکتی ہے اور یہ پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ خوراک کی نالی کس حد تک متاثر ہو چکی ہے۔ انڈوسکوپی کے ذریعہ ماہر معالج خوراک کی نالی سے بائیوپسی (Biopsy) بھی لیتا ہے جس کا ماہرانہ طریقہ سے معائینہ کرنے کے بعد یہ پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ کہیں کسی سرطانی بیماری کا آغاز تو نہیں ہوا ہے۔ جن لوگوں کو نگلنے میں دشواری محسوس ہوتی ہو یا منہ میں بار بار تیزاب کی آمیزش محسوس ہوتی ہو اُنہیں کسی ماہر امراض نظام ہاضمہ سے انڈوسکوپی کروانے میں کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہئے۔علاوہ ازیں جن مریضوں کو طویل مدت تک ادویات کے استعمال سے افاقہ نہ ہوا ہو اُنہیں بھی انڈوسکوپی کروانی چاہئے۔ اکثر لوگ انڈوسکوپی کے نام سے ہی گھبراتے ہیں، وہ یہ سوچتے ہیں کہ یہ عمل انجام دینے سے اُن کے گلے میں زخم نمودار ہوں گے۔ ایسا سوچنا بالکل بے بنیاد ہے، انڈوسکوپی کروانے سے مریض کو کسی خاص قسم کی اذیت نہیں ہوتی ہے بلکہ اُسے یہ فائدہ ملتا ہے کہ بر وقت بیماری کا پتہ چلتا ہے اور معالج کو علاج کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔
س: کیا مصالحے دار غذائیں کھانے سے ایسڈ ریفلکس بیماری کی شدت بڑھ جاتی ہے؟
ج: مصالحے دار غذائیں یا فاسٹ فوڈز کھانے سے یہ بیماری وجود میں نہیں آتی ہے ہاں بعض مریضوں کا مرض کسی حد تک شدت اختیار کرتا ہے۔ دراصل کوئی بھی غذا کھانے سے یہ بیماری شروع ہو سکتی ہے اگر کھانے والا اپنا شکم پوری طرح پُر کر لے،بعض مریضوں میں، غذا کھانے کے بعد، فوری طور لیٹ جانے سے، مرض میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسی کوئی شہادت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ کوئی خاص قسم کی غذا کھانے سے بیماری کی شدت بڑھ جاتی ہے ہاں بعض مریضوں کو نفسیاتی وجوہات کی بناء پر کچھ خاص قسم کی غذائیں کھانے سے منع کیا جاتاہے۔ اِس بیماری میں مبتلا مریض کو ہر وقت بالکل کم مقدار میں غذا کھانا چاہئے تاکہ معدہ زیادہ پُر نہ ہو اور اِس میں موجود تیزاب اور غذا واپس خوراک کی نالی میں نہ جاسکے۔ ایسے مریضوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ اُن کے غذا کھانے کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ اُن کی خوراک کی نالی کے نچلے حصے کا نقص ہے جس کی وجہ سے اُن کے پیٹ میں اُلٹی گنگا بہتی ہے اور وہ بے چینی اور درد محسوس کرتے ہیں۔
س: سگریٹ نوشی اور ایسڈ ریفلکس بیماری کے درمیان کوئی ربط ہے ؟
ج: سگریٹ نوشی یا تمباکو نوشی سے یہ بیماری وجود میں نہیں آتی ہے۔بعض مریضوں میں کثرتِ تمباکو نوش یا سگریٹ نوش مرض کوبڑھاوا دے سکتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ نکوٹین سے خوراک کی نالی کا نچلا حصہ ڈھیلا پڑ جاتا ہے جس سے تیزاب اُلٹا خوراک کی نالی میں جانے لگتا ہے اور مریض سوزشِ دل یا سینے میں درد محسوس کرتاہے۔ بہرحال اِس بیماری میں مبتلا مریضوں کو سگریٹ نوشی ترک کرنی چاہئے۔اس کے علاوہ کچھ ایسی ادویات ہیں جو معدہ کا تیزاب خالی کرنے میں مانع ہو جاتی ہیں اور اِس بیماری کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ ایسڈ ریفلکس بیماری میں مبتلا مریضوں کو چاہئے کہ وہ اپنے معالج کو ہر اُس دوائی کے بارے میں مطلع کریں جو وہ استعمال کرتے ہوں۔
س: اس بیماری سے بچنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟
ج: اس بیماری سے بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے، چونکہ یہ بیماری معدہ کے تیزاب کے اُلٹے بہائو کی وجہ سے ہوتی ہے اس لئے ایسے مریضوں کو درج ذیل ہدایات پر عمل کرنا چاہئے تاکہ وہ اس بیماری کے علائم کم سے کم محسوس کریں:
٭ پُرخوری سے اجتناب کرنا چاہئے۔ دن میں چھ دفعہ غذا مگر بالکل کم مقدار میں لینا مناسب ہے۔
٭ جن غذائوں سے علامتیں ظاہر ہوں اُن سے پرہیز کرنا بہتر ہے۔
٭ غذا کھانے کے بعد لیٹ جانے سے گریز کرنا چاہئے۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد تین گھنٹے سے پہلے سونا نہیں چاہئے۔
٭ غذا کھانے کے بعدجھکنا یا کوئی اور کام کرنا جس میں بار بار جھکنا پڑے بیماری کے علائم میں شدت پیدا کرسکتا ہے۔
٭ شلوار یا ’’پینٹ ‘‘ کا کمربند قدرے ڈھیلا رکھنا چاہئے۔
٭ معالج کی ہدایات پر پابندی سے عمل کرنے کے علاوہ اپنی ایک ذاتی ڈائری مرتب کرنا بہت ہی سود مند ہے، اپنی ڈائری میں اُن غذائوں کے نام اور وہ دیگر محرکات درج کرنے چاہئیں جن سے سوزشِ دل یا سینے میں جلن اور دردپیدا ہوتا ہو اور پھر اُسی حساب سے اپنے طرزِ زندگی میں بدلائو لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
س: کیا یہ بیماری قابل علاج ہے ؟
ج: جی نہیں،بدقسمتی سے دور حاضر میں ایسڈ ریفلکس بیماری سے کسی مریض کو پوری طرح چھٹکارا دلانا ممکن نہیں ہے۔بعض مریض وقتی طور اس مرض سے چھٹکارا پاتے ہیں لیکن پھر بعض وجوہات کی بناء پر یہ مرض عود کر آتا ہے۔ اگر یہ بیماری دورانِ حاملگی شروع ہو تو حاملہ عورت بچہ جننے کے بعد اس بیماری سے نجات پالیتی ہے۔ اگرچہ اِس بیماری سے پوری طرح چھٹکارا پانا ممکن نہیں لیکن مریض اپنا طرزِ زندگی بدل کر اور ’’ اپنے آپ کو پہچان کر ‘‘ اِس بیماری کی علامتوں سے بچ سکتا ہے اور اپنے خوراک کی نالی پر مضر اثرات مرتب ہونے سے بچا جاسکتاہے۔ اگر بیماری کسی بھی طرح قابو میں نہیں آتی ہے تو جراحی ایک متبادل ذریعہ ہے لیکن جراحی کی ضرورت بہت کم مریضوں کو پڑتی ہے، اکثر مریض ادویات استعمال اور اپنا طرز زندگی بدل لینے ہی سے ایک صحت مند زندگی گذارنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
llll

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں