103

غزل

منظر زیدی

کھڑا ہے صدیوں سے تنہا یہ میل کا پتھر
بھٹکنے والوں کی خاطر بنا ہوا رہبر
کسی کی یاد کا آنسو جو دل میں ٹھہر ا تھا
ہماری آنکھ سے ٹپکا ہے اب لہو بنکر
فضا میں گھُل سی رہی ہے عجیب سی خوشبو
گلاب جیسے کھلے ہوں کسی کے عارض پر
ہزار چاہیں گے مجھکو امّید تھی لیکن
شہر کی بھیڑ میں اب رہ گیا میں گُم ہو کر
مرے بدن میں تو اب خون بھی نہیں باقی
یہ کس نے پھر میری جانب بڑھا دیا خنجر
میں اسکی آنکھ کے شیشے میں خود کو چھو لیتا
نہ چلتا گر کسی جانب سے لفظ کا نشتر
یہ میرے نام کی تختی اتاردی کس نے
یہ کون پھر مجھے گمنام کر گیا منظرؔ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں