منظر زیدی
کھڑا ہے صدیوں سے تنہا یہ میل کا پتھر
بھٹکنے والوں کی خاطر بنا ہوا رہبر
کسی کی یاد کا آنسو جو دل میں ٹھہر ا تھا
ہماری آنکھ سے ٹپکا ہے اب لہو بنکر
فضا میں گھُل سی رہی ہے عجیب سی خوشبو
گلاب جیسے کھلے ہوں کسی کے عارض پر
ہزار چاہیں گے مجھکو امّید تھی لیکن
شہر کی بھیڑ میں اب رہ گیا میں گُم ہو کر
مرے بدن میں تو اب خون بھی نہیں باقی
یہ کس نے پھر میری جانب بڑھا دیا خنجر
میں اسکی آنکھ کے شیشے میں خود کو چھو لیتا
نہ چلتا گر کسی جانب سے لفظ کا نشتر
یہ میرے نام کی تختی اتاردی کس نے
یہ کون پھر مجھے گمنام کر گیا منظرؔ
