میں یوں ہی شرمسار ہو جاتا 87

دور ہم سے وہ دیوانی چلی گئی

ظفر صدیقی۔۔۔لکھنؤ

دور ہم سے وہ دیوانی چلی گئی
لب چُم دیکر نشانی چلی گئی
دوریاں اس قدر بڑھائی ہمسے
نزدیکیاں غیر سے بڑھاتی چلی گئی
سوچا اسکو تو سوچتا ہی رہا
آنکھ عشق بھاتی چلی گئی
رسوائیوں کے گھنے جنگل ہی جنگل
اُداسیاں راستہ بھٹکاتی چلی گئی
مجبوریاں کچھ حالات کی تھی
زندگی ہر قدم پے آزماتی چلی گئی
لاچاری ہے گھٹن ہے بے سہارا ہو
بڑھاپے میں دیکر غم جوانی چلی گئی
خون کے رشتے بھی پانی پانی ہو گئے
یہی بات روز رولاتی چلی گئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں