طاق میں روشن دیا سا ہے یہاں 101

جام خالی ہے صراحی دوٗر ہے

غزل

بلال صہبا

جام خالی ہے صراحی دوٗر ہے
نوش کی ہے نا نشے میں چوٗر ہے
گِر رہا ہے اشک پیہم آنکھ سے
درد سے دل اس قدر رنجور ہے
برق سے یکلخت میں جو راکھ ہو
لن ترانى کا نہیں یہ طوٗر ہے
ہم بھی ان کے دید کے مشتاق ہیں
کیا بتائیں وہ کہاں مستوٗر ہے
دیر میں وہ نا ملا ہے حرم میں
نحن اقرب سے سنا مشہوٗر ہے
ایسی باتیں غیر کیا جانے بھلا
دل نہیں جب عشق سے معموٗر ہے
راز سارا کھولتا صہبا مگر
واقعہ منصوٗر سے مجبوٗر ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں