نالہ شب کہاں سے اُٹھتا ہے 106

مجھ کو رُلانے لگی ہے میری اُداسی

غزل

یاور حبیب۔۔بڈکوت ہندوارہ

 

مجھ کو رُلانے لگی ہے میری اُداسی
چین و سکوں سے دھلی ہے میری اُداسی
حُسن سے راز و نیاز کی ہے تمنّا
زلفِ پریشان سی ہے میری اُداسی
دیکھ لو کیسا سکوت مجھ میں ہے طاری
طاق میں جیسے جلی ہے میری اُداسی
یار مرے جب سے تھے اُداس ہو بیٹھے
گردشِ نس میں چڑھی ہے میری اُداسی
کیوں نہ کروں میں دلِ گداز کا ماتم
رنگِ حنا سے سجی ہے میری اُداسی
پھر جو تنہائی میں جکڑ دیا مجھ کو
قسمتِ زنجیر سی ہے میری اُداسی
میرے نشے نے نجانے کیا کیا یاور
شمع جلی یا جلی ہے میری اُداسی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں