علامہ اقبالؒ چند افکار ونظریات 106

پرینک کے نام پر معصوم لوگوں کی عزت پر حملہ

از قلم: منتظر مومن وانی

بدقسمتی سے مغربیت کی اندھی تقلید میں ملوث ہمارے نوجوان اس قدر غفلت کے شکار ہورہےہیں کہ اب کسی کے عزت پر حملہ کرنا فنکاری اور اداکاری سمجھتے ہیں۔جس نوجوان کو ڈاکٹر اقبال نے شاہین کا لقب دیا تھا آج وہی نوجوان بداخلاقی کے اس کنارے پر کھڑا ہے کہ ہر عقل محو حیرت ہے۔ جہاں مغربیت نے ریش وار کے نوجوانوں کو ہر اعتبار سے اپنا غلام بنایا ہے وہی پر اب ایسی بداخلاقیاں تولد ہوتی ہیں کہ انسان واویلا کرتا ہے کہ ولیوں اور بزرگوں کی وادیوں میں یہ کیسے جرائم وجود میں آئے ہیں کہ ہر کوئی فن کاری کے لباس میں شریف انسانوں کی عزت پر حملہ کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے جہاں مختلف بداخلاقیاں عروج پر پہنچی ہیں وہیں پر ایک نیا پاگل پن آج دیکھنے کو ملتا ہے وہ ہے پرینک یعنی کسی انسان کی شرافت یا معصومیت پر حملہ کرکے بعد میں اسے مذاق کا رنگ دینا۔ یہ بداخلاقی ہندوستان کے باقی ریاستوں کے ساتھ اب وادی میں بھی اپنے شباب پر ہے اور اس کی ترویج وہی لوگ کرتے ہیں جو سماجی ترجمانی کا دعوا کرتے ہیں۔ حال ہی میں خود کو معروف صحافی کہنے والے شخصنے جس بداخلاقی کا مظاہرہ کیا اس سے اس بات کی وضاحت ہوئی کہ سماج میں بے غیرتی اور بے حیائی کا دور ہے اور ہر بداخلاقی کو فن ہی سمجھا جاتا ہے جس سے یہاں کے اچھے فنکاروں کی عظمت بھی داغ دار ہوئی ہے۔یہ شخص پرینک کے نام پر ایک معصوم ڈیلوری بوائے کو فون پر بے عزت کرکے اپنے کاروبار کو فروغ دیتا ہے یعنی بندہ اس قدر کمزور مزاج کا مالک ہے کہ کسی کیعزت کا سودا کرکے اپنے کاروبار کا فروغ چاہتا ہے اور چند سماج کے مردہ ضمیر انسان تالیاں بجا کر داد دیتے ہیں ۔جس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ کشمیر میں لوگوں کو فن کے نام پر کس قدر پاگل بناتے ہیں۔ اب یہ شخصاس بداخلاقی کو فروغ دینے میں ایک ہی نام نہیں ہے بلکہ ایسے بہت سرے لوگچند برسوںسے سوشل میڈیا پر سستی شہرت اور چینلوں کے فروغ کے لیے معصوموں کیعزت کا سودا سرعام کرتے ہیں۔ مومن کی حرمت کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ ہے۔ اسلام نے کسی کی عزت کے خلاف کسی بھی عمل پر شدید تنقید کی ہے۔ اللہ اور امام کائنات ﷺ کے نزدیک مومن کے جسم وجان اور عزت وآبرو کی اہمیت کعبتہ اللہ سے بھی زیادہ ہے۔ امام الانبیاﷺ نے ایک مومن کی حرمت کو کعبے کی حرمت سے زیادہ محترم قرار دیا ہے۔ حضرت عبداللہ عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی ﷺ کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا(اے کعبہ!)تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے!مومن کے جان ومال کی حرمت اللہ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہیے”۔ اس پرینک کرنے والے شخص کی سوچ اس قدر کمزور ہے کہ یہ لوگوں کیعزت کا پرواہ کیے بغیر انہیں رسوا کرنے میں پریشانی محسوس نہیں کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے اس گناہ کے حوالے سے قران کے سورتہ الحجرات میں واضح کیا ہے.
“اے ایمان والو!دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان (مذاق اڑانے والوں)سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان(مذاق اڑانے والی عورتوں)سے بہتر ہوں۔ اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاو اور نہ کسی کو برے لقب دو۔ایمان کے بعد فسق برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں۔
جس طرح مسلمان کے جان ومال کو نقصان پہنچانا حرام ہے اسی طرح انسان کے آبرو پر حملہ کرنا حرام ہے۔ کشمیر میں روز نئے فتنے تولد ہوتے ہیں۔ جس سے یہاں کا اخلاقی صورتحال پامال ہوتا ہے۔ اس شخص جیسےنوجوانوں نے ایک ایسا مزاج قائم کیا ہے کہ معصوم لوگ ذلت کے شکار ہوتے ہیں۔ ان نوجوانوں سے قوم کے باہوش لوگ گزارش کرتے ہیں کہ اس فتنے کو مقفل کرکے قوم میں کسی اچھی عمل کی اشاعت کرکے صالح معاشرے کی تعمیر کرنے میں کردار ادا کرے۔
منتظر مومن وانی
بہرام پورہ کنزر بارہمولہ
رابط:6006952656

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں