سبزار احمد بٹ
انسان کا اپنے گردونواح کے حالات و واقعات سے واقف رہنا بے حد ضروری ہے آجکل اگر چہ دنیا ایک عالمی گاؤں (Global Village) بن گیا ہے اور دنیا کے کسی بھی کونے میں رونما ہونے والے واقعات انٹرنیٹ اور باقی زرائع ابلاغ کی بدولت پلک جھپک میں ہی پوری دنیا تک پہنچ جاتے ہیں اس سلسلے میں سوشل میڈیا، ریڑیو، ٹی وی وغیرہ نمایاں اہمیت رکھتے ہیں لیکن اخبارات اپنا الگ ہی مقام رکھتے ہیں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبریں زیادہ قابلِ یقین نہیں ہوتی ہیں جبکہ اخبار میں شایع خبریں زیادہ مصدقہ اور قابل اعتبار ہوتی ہیں اخبارات کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ بہت سستے داموں پر ملتے ہیں اور بہ آسانی دستیاب ہوتے ہیں اخبارات میں جہاں مقامی خبروں کے ساتھ ساتھ قومی اور بین القوامی خبریں بھی شایع ہوتی ہے اور انسان اپنے ارد گرد میں پیش آنے والے واقعات سے باخبر رہتا ہے وہاں اخبارات میں خبروں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوتا ہے اور اخبارات کی زبان سادہ اور سلیس ہونے کی وجہ سے کم پڑھے لکھے لوگ بھی اخبارات سے مستفید ہورہے ہیں بلکہ زندگی کا شاید ہی کوئی شعبہ ہوگا جو اخبارات سے اثرانداز نہ ہوتا ہو جہاں عام لوگ اخبارات کی مدد سے سرکار کی پالسیوں کے بارے ميں نا صرف جانکاری حاصل کرتے ہیں بلکہ ان پالسیوں پر تبصرہ بھی کرتے ہیں وہیں تاجر حضرات اخبارات کے زریعے مختلف ایشا کے گرتے بڑھتے داموں کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں جہاں اخبارات کے زریعے بے روزگار طبقہ مختلف قسم کی سرکاری اور نجی نوکریوں کے بارے میں جانکاری حاصل کرتا ے وہیں طالب علم اخبارات میں سے اپنے من پسند خبروں اور مضامین کا مطالعہ کر کے نہ صرف زبان پر دسترس حاصل کرتے ہیں بلکہ علم کا خزانہ اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں جہاں سائینس سے تعلق رکھنے والے حضرات نئی نئی ایجادات کے بارے ميں معلومات حاصل کرتے ہیں وہیں شعروادب سے دلچسپی رکھنے والے حضرات اخبارات میں شایع ہونے والی مختلف غزلوں، نظموں، اور افسانوں وغیرہ کا مطالعہ کر کے اپنی پیاس بجھاتے ییں تاجر حضرات اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لئے بھی اخبارات میں اشتہارات دے سکتے ہیں بلکہ دیتے ہیں خواتین اخبارات کے زریعے کھانا پکانے کی مختلف تراکیب سے آگاہی حاصل کرتی ہیں یہ اخبارات ہی ہیں جن سے ہمیں ملک کے سیاس حالات کا پتہ چلتا ہے اور سیاسی لوگوں کے بیانات بھی اخبارات کی بدولت ہی اگلی صبح پوری دنیا تک پہنچ جاتے ہیں اتنا ہی نہیں اخبارات زبانوں کی بقاء وترویج میں اپنا کلیدی کردار نبھاتے ہیں اردو زبان و ادب کی ترویج میں اخبارات کا کردار ناقابلِ فراموش ہے اخبار کا مطالعہ کرنے کے لئے نہ ہی بجلی کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی کوئی ریچارج کرنے کی، نہ ہی آنکھوں پر برا اثر پڑھنے کا ڈر رہتا ہے اور نہ ہی مطالعہ کرنے کا کوئی مخصوص وقت ہوتا ہے ۔بلکہ آدمی جب اور جس جگہ چاہیے مزے لے لے کر اخبار کا مطالعہ کر سکتا ہے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اخبارات کے بے شمار فائدے ہیں
لیکن افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ نسل اخبارات کے مطالعے سے کنارہ کشی اختیار کرتی جا رہی یے جو پوری نسل کے لئے ایک لمحے فکریہ ہے نہ جانے کیوں موجودہ نسل کتب بینی اور اخبار بینی سے دور بھاگتی جا رہی ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ علم و ادب سے دوری اختیار کی جا رہی ہے تو بیجا نہ ہو گا آخر موجودہ نسل کو اپنا سود و زیاں صرف اور صرف موبائل فون اور ٹیلی ویژن میں ہی کیوں نظر آرہا ہے جبکہ یہ دونوں آلات بہت ساری مضر اثرات کی حامل ہیں ان دونوں آلات سے نہ صرف ہمارا خرچہ بڑھ رہا ہے بلکہ ان سے معاشرے میں عریانی اور فحاشی بھی بڑھ گئی ہے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون تھمانے سے قدرے بہتر تھا کہ ان میں اخبار بینی کا شوق پروان چڑھایا جاتا ۔مضمون نگار یا کالم نویس محنت مشقت کر کے مضمون یا کالم تیار کر کے اخبار میں شایع کرتا ہے بلکہ مختلف اخبارات ہفتے میں مختلف موضوعات پر کالم اور مضامین شائع کرتے ہیں لیکن بے حد افسوس ہوتا ہے کہ لوگوں پر ان مضامین کا مطالعہ کرنا بار گراں گزرتا ہے حال ہی میں ایک دوست سے اخبار بیجنے کے لیے کہا جواب میں انہوں نے بڑے درد بھرے لہجے میں کہا “بھائی اب اخبار پڑھتا کون ہے میں نے کئی بار اخبارات لائے لیکن پڑے رہے یہیں کسی نے اخبار نہیں لیا”۔
آخر کیوں؟ اخبارات سے یہ بے رخی کیوں ؟اس معلوماتی خزانے سے یہ دوری کیوں۔آجکل کہیں گاڑی میں سفر کریں تو سب لوگوں کے ہاتھوں میں موبائل ہوتے ہیں نہ کہ اخبار، ہمارے گھروں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے گھر کے سبھی افراد موبائل فونوں سے چپکے رہتے ہیں کاش ہمارے گھروں میں اخبار بینی کا رجحان بڑھ جاتا تاکہ ہماری نئی نسل بھی اخبار بینی کی عادی ہوتی حالانکہ تہذیب و تمدن والے ممالک میں اخبارات ایک لازمی جز مانے جاتے ہیں لیکن نہ جانے ہمارے یہاں لوگوں کا رجحان اس کے برعکس کیوں ہے بھارت میں اگر چہ ہر سال 29 جنوری کو اخبار بینی کا قومی دن منایا جاتا ہے اور مختلف تقاریب میں اخبار بینی کی اہمیت اجاگر کی جاتی ہے لیکن زمینی سطح پر حالات بلکل مختلف ہیں لوگ اخبار بینی سے کنارہ کشی اختیار کرتے جا رہے ہیں ہمیں چاہیے کہ کم سے کم اپنے گھروں کے لئے ایک اخبار کا اہتمام کریں اپنے لئے نہ صحیح بلکہ اپنی نئی نسل کے لئے ایسا کرنا ناگزیر یے تاکہ ہماری نئی نسل علم و ادب سے جڑی رہے میں اساتذہ کرام سے بھی بے حد احترام سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ کم سے کم اپنے اسکولوں کے لیے ایک اردو اور ایک انگریزی اخبار کا اہتمام کریں جس سے بچوں میں اخبار بینی کا شوق پروان چڑھایا جا سکے اساتذہ کرام اخبارات کا مطالعہ کر کے ان اخبارات کی مدد سے بچوں میں مختلف قسم کی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکتے ہیں کشمیر سے شایع ہونے والے چند اخبارات ہر دن نئے موضوعات پر مضامین شائع کرنے کا اہتمام کرتے ہیں جن میں سائنس، ادب، اقتصادیات، تعلیم ثقافت اسلامیات جیسے موضوعات قابل ذکر ہیں ایسے اخبارات کا مطالعہ کرنا یقینا سودمند ثابت ہوگا دراصل اخبار محض کاغذ کی پرچی نہیں ہوتی بلکہ اخبار ایک آئینہ ہوتا جس میں سے ہمیں اپنا معاشرہ نظر آتا ہے معاشرے کی ہر اچھائی، برائی نظر آتی ہے اخبار معاشرے کو اپنا چہرہ دکھاتا رہتا ہے اتنا ہی نہیں اخبار ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے ہم سماجی برائیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں مختلف سماجی برائیوں پر اخبارات میں رائے زنی کر کے ان سماجی برائیوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے بقولِ شاعر
کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو
لہزا ہمیں اخبارات کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی اخبار نہیں بڑھتا بلکہ کچھ لوگوں کو تب تک ناشتہ حلق سے نہیں اترتا جب تک ان کے ہاتھ میں اخبار نہ ہو لیکن ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے بلکہ کچھ لوگ موٹی موٹی خبروں کو مشاہدہ کر کے اخبار پھینک دیتے ہیں جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ پورے اخبار کا مطالعہ کر کے اسے دوبارہ شروع سے ہی بہت دلچسپی سے پڑھا جاتا تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ اخبار بینی کا شوق بھی بڑھ جاتا کاش ہمارے ہاتھوں میں پھر ایک بار موبائل فون کی جگہ اخبار ہوتا ہمارے علم و ادب میں بھی اضافہ ہوتا اور ہم خرافات سے بھی بچ جاتے
سبزار احمد بٹ
اویل نورآباد
