اس جہاں میں جانے کتنے آدمی کے چہرے ہیں 95

نُــور جــہــاں

افسانہ نگار : پرویز مانوس

چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آسمان کی وسعتوں میں جلوہ افروز تھا ۔۔ جس کی روشنی سے تاریکی کا وجُود تار تار ہو کر بکھر رہا تھا ،اُس کی دُودھیا چاندنی میں اس بڑے پہاڑ سے بہتا شفاف آبشار صاف دکھائی دے رہا تھا ۔۔نیچے پتھروں پر گر کر بکھرتے پانی سے فضا میں ایک پُر کیف ترنم پیدا ہو رہا تھا اور اس سے اُٹھنے والی ہوا سے آس پاس کے پیڑوں کے پتّے انگڑائیاں لے رہے تھے ۔۔۔ آبشار کے پاس ہی ایک بڑے پتھر پر آج پھر نُور جہاں اپنی اُسی محبت کے انتظار میں مضطرب بیٹھی تھی جس سے وہ اکثر اسی آبشار کے نیچے ملتی تھی اور اس کی محبت کا نام تھا سلیم نوُر جہاں کی بےتاب نگاہیں بار بار اُس پگڈنڈی کی جانب اُٹھ جاتیں جہاں سے چل کر اکثر سلیم اُس سے ملنے آتا تھا ، طویل انتظار کے بعد بھی جب سلیم نہ آیا تو نُور جہاں فکر کے سمندر میں ڈوب گئی اور اُس کے دل میں یادوں کی ٹیس اُٹھنے لگی ۔اُس کا دل چاہتا تھا کہ فُرقتِ غم میں اپنا گریبان چاک کر ڈالے ۔
سلیم پیشے سے ایک رینج آفیسر تھااور حال ہی میں اس علاقے میں تعینات ہوا تھا کیونکہ اس علاقے میں جنگل چوروں نے سبز سونے کو دو دو نہیں چار چار ہاتھوں سے لوٹا تھا ، اور علاقے کے لوگوں کا کہنا تھا یہ سارا کام خواجہ علی جوُ کی سر پرستی میں انجام دیا جارہا تھا ۔۔۔،،، علی جُو اس علاقے میں سب سے پرانا جنگلات کا ٹھیکیدار تھا اور بھر پور سیاسی اثر رسوخ رکھتا تھا ، ہر ہفتے کسی نہ کسی سیاسی لیڈر یا کسی اعلیٰ افسر کی اس کے گھر پر دعوت ہوتی ۔دعوت کا اہتمام تو وہ شہر میں اپنے گھر پر بھی کر سکتا تھا لیکن اس علاقے کے قبائلی لوگوں پر رعب جمانے کا یہ بھی ایک اچھا طریقہ اُس نے اختیار کر رکھا تھا ،،،
شہر کی بلند و بالا عمارتوں کے درمیاں پلے بڑھے اوروہاں کی آلودہ فضا میں سانس لینے والے سلیم کو گاؤں کا یہ فطرتی ماحول عجیب فرحت بخش رہا تھا ۔ اونچے اونچے برف سے ڈھکے پہاڑ ، ہر جانب سر سبز مرغزار ، شفاف پانی کا بل کھاتا دریا ، آس پاس لہلہاتی کھیتیاں اور کُھلا کُھلا نیلا آسمان دیکھ کر وہ اپنے آپ کو کسی جنت کا مکین تصوّر کر رہا تھا… اسی لئے اُسے جنگلوں کی اہمیت کا اندازہ تھا کیونکہ شہر کی آلودہ فضا میں تو اس کو اپنا دم گھُٹتا محسوس ہوتا تھا جبھی تو اس نےبلا تاخیر یہاں جوائن کر لیا۔
نُور جہاں کی پہلی ملاقات سلیم سے اُس دن ہوئی جب وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ جنگل سے لکڑ یاں سمیٹتے ہوئے اپنی سُریلی آواز میں کوئی لوک گیت گا رہی تھی۔ وہ اُس آواز کا پیچھا کرتے کرتے وہاں تک پہنچ گیا۔ اُسے اپنے سامنے دیکھ کر پہلے تو وہ گھبرا گئی لیکن پھر جلدی ہی حوصلہ دکھاتے ہوئے سہیلوں سے بولی چلو اب چلتے ہیں اور لکڑیوں کا گٹھا اُٹھا کر سہیلوں کے ساتھ گھر کی طرف چلدی ۔ وردی میں ملبوس اُس کی پُر کشش شخصیت نے نُور جہاں کو متاثر ضرور کیا لیکن اُسے ایک اجنبی سمجھ کر اُس نے سلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی ۔۔۔، نُور جہاں ایک قبائلی خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔اُس کا باپ تاج الدین ایک معمولی لکڑ ہارا تھا جو خواجہ کے ہاں لکڑیاں وغیرہ کاٹ کر ٹھکانے لگانے کا کام انجام دیتا تھا اور ماں بیگم جان ایک سیدھی سادی گھریلو عورت تھی ۔۔۔۔، کچھ روز بعد نُور جہاں پنچائت گھر میں لگے ہینڈ پمپ سے پانی کا گھڑا بھر کر نکلنے لگی تو گیٹ پر اُس کا سامنا سلیم سے پھر ہو گیا، چونکہ اس کا سرکاری کواٹر پنچائت گھر کے متصل تھا اور دونوں احاطوں کا گیٹ بھی مشترکہ تھا، اس لئے پانی بھرتے وہ نُور جہاں کواکثر دیکھتا تھا ۔وہ اُس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔ اُس کی لمبی چوٹی ، بل کھاتا سڈول جسم سادہ لباس میں بھی قہر ڈھارہا تھا۔ سلیم اُس کی جھیل سی آنکھوں میں کھو سا گیا اور ایک ٹِک اُسے دیکھتا رہا ۔وہ دل ہی دل میں نُور جہاں کے خوبصورت چہرے اور بھر پوُر جوانی پر فریفتہ ہو چُکا تھا..، مجبور ہو کر اُس نے اُس کا راستہ چھوڑ دیا اور نُور جہاں شرما کر تیز تیز چلتی ہوئی گھر کو چلدی ۔۔۔۔
آخر ایک دن اسی جگہ دونوں کے لبوّں کی چُپی ٹوٹی اور پھر جذبوں کی ٹہنی پر محبت کے شگوفوں نے خوبصورت پھولوں کی شکل اختیار کر کے سارے گاؤں کو مہکا دیا۔سلیم کو بھی تنہائی بانٹنے کے لیے ایک اچھا ساتھی مل گیا تھا _۔۔۔۔،،
رفتہ رفتہ سلیم گاؤںکے ان قبائلی لوگوں سے پوری طرح گھُل مل گیا تھا ۔ وہ لوگ بھی جنگلات کو بچانے میں عامر کی بھر پوُر مدد کر رہے تھے حالانکہ خواجہ نے اُنھیں سرکاری حلقوں میں بُری طرح بدنام کر رکھا تھا کہ یہی قبائلی لوگ جنگلات کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ ان کی زندگی کا انحصار تو انہی جنگلات پر ہے ۔سلیم سوچتا یہ لوگ بھلا جنگلات کو زک کیسے پہنچا سکتے ہیں۔اعلیٰ آفیسران سلیم کے کام سے بہت خوش تھے۔کیونکہ سلیم نے جنگل چوری پر کافی حد تک قابو پالیا تھا ۔۔۔۔،،
ایک رات بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلیم نے دو فارسٹ گارڈوں کی مدد سے کچھ جنگل چوروں کو گھوڑوں سمیت لکٹری لے جاتے ہوئے پکڑ لیا تو اُس پہ یہ انکشاف ہواکہ یہ لکڑی اور گھوڑے خواجہ صاحب کے ہیں ۔ بس پھر کیا تھا ،سلیم نے اُس کے خلاف ایف آئی آر درج کروا کے گرفتار کرا دیا ۔ حالانکہ خواجہ نے اُسے شیشے میں اُتارنے کی بہت کوشش کی لیکن سلیم نے اپنا ایمان بیچنے سے انکار کر دیا ۔ کچھ روز بعد خواجہ ضمانت پر رہا تو ہو گیا مگر اپنی بے عزتی کے اس گھاو نے اُسے تملا کر رکھ دیا۔ اورانتقام لینے کے لیے وہ موقعہ کی تاک میں رہا ۔۔۔،،،، اس دوران اُس نے بہت کوشش کی کہ یہاں سے سلیم کا تبادلہ ہو جائے لیکن وزیرِ جنگلات اُس کے کام سے بے حد خوش تھا ، اُس نے تو سلیم کی بہترین خدمات کے لیے اُس کا نام بھی سرکاری اعزاز کے سرکار کو بھیج دیا تھا ۔
پچھلے کئی دنوں سے سلیم اعلیٰ آفیسران کے ہمراہ جنگلات کا معائینہ کرنے میں مصروف تھا ۔اُس کا دل چاہ رہا تھاکہ کام چھوڑ کر نُور جہاں سے ملنے چلا آئے کیونکہ آج پہلی بار وہ نُور سے اتنے دنوں تک دور رہا تھا لیکن اُس کا دماغ اور ضمیر اُس کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلا کر یہاں ٹھہرنے پر مجبور کر دیتے یہاں مواصلاتی نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے وہ نُور جہاں سے بات بھی نہیں کرسکتا تھا…… اُدھر نُور جہاں بھی سلیم کی فُرقت میں جل بِن مچھلی کی مانند تڑپ رہی تھی۔ جب بھی موبائل کی بیل بجتی تو وہ جھٹ سے موبائل اٹھا لیتی لیکن سلیم کا نام نہ دیکھ کر اُس کا موڈ خراب ہو جاتا ،مگر کر بھی کیا سکتی تھی،،، اب تو موبائل فون بھی اُسے بےکار اور فالتو چیز لگ رہا تھا۔۔۔‘‘ خواجہ اپنے شیطانی دماغ میں کوئی منصوبہ ترتیب دے رہا تھا، اسی لیے وہ آج کل تاج الدین پر کچھ زیادہ ہی مہربان تھا۔ایک دن کچھ رقم دینے کے بعد اُس نے تاج الدین سے کہا :
اوئے تاجیا ! تجھے کچھ احساس ہے تیری بیٹی اب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چُکی ہے ، جلدی سے کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کر اس کے ہاتھ پیلے کر دے ،،آج کل نا زمانہ بڑا خراب ہے تاج الدین نے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے کہا،
خواجہ صاحب آپ درُست فرماتے ہیں، لیکن ابھی تک تو کوئی لڑکا نہیں دیکھا، فکر تو ہر باپ کو ہوتی ہے , سو مجھے بھی ہے ، اگر آپ کی نظروں میں کوئی اچھا سا لڑکا ہو جو نُور جہاں کو خوش رکھ سکے ضرور بتائیں۔۔۔۔۔۔
یہ پوچھ کر خواجہ تاج الدین کو ٹٹولنا چاہتا تھا….کیونکہ اُس کا چھوٹا بھائی جو بچپن سے ہی معزور تھا اب شادی کی عمر کوپہنچ ہو چُکا تھا ۔تاج الدین کی نظر نُور جہاں پر تھی کہ اُس کی شادی اپنے بھائی سے کرادے، اسی لئے وہ تاج الدین کو آہستہ آہستہ شیشے میں اُتار رہا تھا۔ بےچارہ تاج الدین نُور جہاں اور سلیم کی محبت سے بے خبر تھا اورسوچتا کوخواجہ صاحب اُس کی کتنی پرواہ کرتا ہے۔۔۔۔
ادھر جنگل سے واپس آکر سلیم نُور جہاں سے ملا تو نُور جہاں اُس پر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہی تھی۔۔۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی محبت کا یہ دریا بہتا رہا۔ ایک دن نُور جہاں اور سلیم اسی آبشار کے نیچے بیٹھے باتوں میں مصروف تھے ۔نُور جہاں نے سلیم سے پوچھا :
تمہیں اس گاؤں میں کون سی چیز سب سے اچھی لگتی ہے ؟
تو سلیم نے نُور جہاں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا ،، تم!
سچ ؟ نُور جہاں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا رہا،،
اور اگر میں نہ رہی تو ؟
نُور جہاں ۔۔۔۔! سلیم نے نُور جہاں کے یاقوتی لبوّں پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ،،
ایسا مت کہو ! تم تو میری زندگی کا ایک اہم حصّہ بن چُکی ہو….. میرے جینے کا مقصد ہو ، تمہارے دل میں میرے لئے کیا ہے مجھے معلوم نہیں.. مگر میں نے تمہارے سوا کسی کو نہیںچاہا ،،
ایسی بات نہیں! ہم قبائلی لوگوں کو جس سے محبت ہو جائے تو اُس کے لیے اپنے جان بھی دیتے ہیں اور جس سے دُشمنی ہو جائے تو اُس کی جان لے بھی لیتے ہیں !
نُور جہاں نے اندازِ بے نیازی سے اپنے ماتھے سے بالوں کی لٹ ہٹاتے ہوئے کہا ،،،،
نُور جہاں ! اگر تم کہو تو میں جلدی ہی اپنے والدین کو شہر سے بُلا کر تمھارے بابا سے اپنی شادی کی بات کرنے بھیجتا ہوں۔۔۔۔تم کیا کہتی ہو ؟ میرے بابا تو چاہتے ہیں کہ گھر داماد لے آئیں ، نُور جہاں نے صاف صاف بتادیا ۔ ٹھیک ہے میں اپنے گھر والوں سے بات کرتا ہوں ،مجھے اُمید ہے میرے والدین اس بات کے لیے تیار ہو جائیں گے کیونکہ میرے اور بھی دو بھائی ہیں ،،،ابھی وہ باتوں میں ہی مصروف تھے کہ ٹھیکیدار علی جوُ اپنی جیپ میں جنگل کا کام دیکھ کر واپس لوٹ رہا تھا ،آبشار کے پاس سے گُزرتے ہوئے اس کی نظر یں بیساختہ آبشار کی طرف اُٹھ گئیں تو سلیم اور نُور جہاں کو ایک ساتھ دیکھ کر وہ آگ بگولا ہو اُٹھا ۔اُس نے اس بارے میں تاج الدین کو بتانا مناسب نہیںسمجھا اور دانت پیس کر وہاں سے چلا گیا ۔اُسے اپنے ارادوں پر پانی پھرتا نظر آیا،،،،
پھر اُسی رات اُس نے اپنے چند مُشٹنڈوں کے ذرئعے سلیم کو کواٹر سے اٹھوا لیا اور پھر کئی دنوں تک اُس کا کوئی اتہ پتہ ہی نہیں نہ چلا۔ گاؤں والوں نے جرگہ بُلا کر اُسے بہت تلاش کیا ، پولیس بھی سلیم کو شد و مد سے ڈھونڈھ رہی تھی ،مگر بے سوُد۔
وہ دن نُور جہاں کے لئے نہایت ہی اذیت ناک تھا جب گاؤں میں یہ خبر پھیل گئی کہ سلیم کو کسی جنگلی جانور نے اپنا شکار بنا لیا ۔نُور جہاں تڑپ اُٹھی ،اُس کا سر چکرا گیا اور وہ دھڑام سے فرش پر گر پڑی۔ کچھ دیر بعد اُسے ہوش تو آیا مگر اس صدمےنے اُسے کھاٹ سے اُٹھنے نہیں دیا ،کئی روز تک اُس نے کسی سے بات بھی نہیں کی صرف آنکھوں سے اشکوں کا دریا بہاتی رہتی اور اندر ہی اندرگھٹتی رہی۔بیگم جان اور تاج الدین کے ساتھ ساتھ باقی رشتہ دار بھی پریشان تھے کہ ہرنی کی طرح چوکڑیاں بھرنے والی اور بُلبل کی طرح چہکنے والی نُور جہاں کو اچانک کیا ہو گیا ۔وہ دن بھر صرف چھت کو گھورتی رہتی۔
اپنے گاؤں کے علاوہ پاس والے گائوں سے بھی کئی حکیموں کو بُلایا گیا لیکن کسی کی سمجھ میں نُور جہاں کی بیماری نہیں آرہی تھی ،سوائے خواجہ کے ۔کیونکہ اُس نے اپنے کرتوت کا الزام بے زبان جنگلی جانور کے سر تھوپ دیا تھا ۔ نُور جہاں تو جیسے سودائی ہو چُکی تھی ،وہ دن بھر بڑبڑاتی رہتی ،،وہ آئے گا ،ضرور آئے گا وہ چاند کے ساتھ آئے گا ،کہہ کر گھر سے باہر دوڑنے لگتی اورسب اُس کی طرف حیرت زدہ نظروں سے دیکھتے رہتے ۔ اسی دوران موقعہ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے خواجہ نُور جہاں کے لئے اپنے بھائی کا رشتہ لے کر آگیا۔ہماری بچی کی یہ حالت ہے اور تم رشتے کی بات کرنے آئے ہو ،ارے شرم کرو ! بکرے کو جان کی پڑی ہے، قصائی کو ماس کی ۔انسانیت نام کی بھی کوئی چیز ہے تم میں ؟ بیگم جان خواجہ پر برس پڑی ۔نُور جہاں کی حالت دیکھ کر خواجہ نے کچھ روز انتظار کرنا ہی مناسب سمجھا اور وہاں سے اُلٹے پاؤ ںلوٹ آیا ۔ اسی دوران دوسرے گاؤں سے آئے ایک خُدا دوست بزرگ نے نُور جہاں کو دیکھا تو دیکھتے ہی تاج الدین سے کہہ دیا کہ اس کو اس کی پسندیدہ جگہ پر لے جایا جائے تو اس کی بے چینی دُور ہوسکتی ہے ۔ جب بزرگ نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نُور جہاں سے پوچھا کہ وہ کہاں جانا چاہتی ہے تو نُور جہاں نے پہلی بار بات کرتے ہوئے کہا جھرنے پر جھرنے پر اور باہر کی طرف دوڑنے لگی ۔کیونکہ آخری بار سلیم نے اُس سے اسی آبشار کے نیچے انتظار کرنے کے لیے کہا تھا ،،،لیکن وہ تو بہت کمزور ہو چُکی تھی آخر اُس بزرگ کی بات کو مانتے ہوئے تاج الدین نے اپنے سفید گھوڑے کو تیار کیا جو نُور جہاں کو بہت ہی پیارا تھا اور پھر نُور جہاں کو اُس پر سوار کر کے آبشار کے پاس پہنچایا گیا۔۔۔۔ جہاں اس بڑے پتھر پر کھڑا ہو کر وہ اپنی باہیں پھیلا کر چاند کو غور سے دیکھ رہی تھی اُس کے ساتھ آئے ہوئے سارے لوگ چُھپ چُھپ کر اس کی حر کتیں دیکھ رہے تھے کہ اچانک ابر کے ایک بڑے ٹُکڑے نے چاند کو اپنی آغوش میں لے لیا اور اسی کے ساتھ تاریکی نے سارے عالم کو اپنی چادر میں ڈھانپ لیا ۔تھوڑی دیربعدجب ابر کے ٹُکڑے نے چاند کو آزاد کردیا تو سارے لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ نُور جہاں وہاں سے غائب تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں