تحفظات اطفال کے مناسم 91

طمع

 تحریر: منظور احمد ملک

ایک بڑے محل نما مکان کے سامنے صحن میں چھوٹا باغیچہ تھا ۔اس باغیچے میں کرسیاں اور میز رکھے ہوئے تھے ۔میز پر اخباروں کے اوراق ہوا سے اڑ رہے تھے ۔پاس ہی میں سرفراز اور اس کی بیوی عطیقہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے ۔سرفراز آنکھوں پر عینک لگائیے کچھ پڑھ رہا تھا۔
عطیقہ بات چھیڑتے ہوئے کہتی ہے کہ خدا کا فضل وکرم ہے ۔سب‌ کچھ ہے ہمارے پاس۔گاڑی، بنگلہ دھن، دولت اور بیٹا عیار بھی اچھی کمائی کرتا ہے ۔اب بس ایک بہو کی کمی ہے ۔
سرفرازنے جواب دیامیں بھی یہی سوچ رہا ہوں ۔عیار کی شادی کی عمرہے ۔کوئی اچھی سی لڑکی مل جاتی تو رشتہ پکا کرتے۔بہو سے یہ گھر چمک اٹھے گا۔لیکن آج کل اچھی لڑکیاں ملتی کہاں ہے ۔
عطیقہ : ذرا شادی لال کو فون کرکے بلاؤ
سرفراز : وہ آنے ہی والا ہے میں نے اس کو بول رکھا ہے ۔
گیٹ کا دروازہ کھلا اور سفید بالوں والا شخص دھیرے دھیرے باغیچے میں مسکراتے ہوئے آگیا ۔اور آداب بجا لا کر کرسی پر بیٹھا اورتھیلے میں سے کچھ نکال کر کہنے لگا ۔
شادی لال : یہ لو فوٹو اور دیکھ کر پسند کرلو ۔پڑھی لکھی شہزادیاں ہیں ۔جہیزبھی خوب ملے گی ۔
سرفراز نے فوٹو بغیر دیکھے اپنی بیوی عطیقہ کی طرف بڑھایا۔وہ فوٹو دیکھ کر کہنے لگی ،دیکھو شادی لال، ہمیں بہو چاہیے کسی فلم کی ہیروئن نہیں ۔ یہ جو نیم برہن تصویریں کیوںلائے ہو۔
شادی لال : آج کل تو ایسی ہی لڑکیاں ملتی ہیں۔ اب وہ شرم و حیا والی لڑکیاں نہیں رہیں اور نہ ہی ہم ایسی تربیت دیتے ہیں۔
سرفراز: ایسا نہیں ہے ۔ڈھونڈھنے سے تو خدا ملتا ہے ۔نیک سیرت لڑکی کیوں نہیں ملے گی ؟
شادی لال : پھر تو آپ کو خود رشتہ مانگنے کے لیے جانا ہوگا ۔وہاں میری بات نہیں چلے گی ۔لڑکی مانو جنت کی حور ہے اور لل عارفہ کی طرح شریف بھی ۔
سرفراز : مطلب ۔۔۔فوٹو نہیں لائے ہو ۔
شادی لال : نہیں ۔۔۔وہاں میری دال نہیں گلی ۔میں نے مانگی تھی لیکن انہوںنے کہا کہ لڑکی بکاؤ نہیں ہے جو مارکیٹ میں اشتعار دینے کی ضرورت پڑے گی ۔
عطیقہ : پھر تو وہ ضرور شرم و حیا سے مالامال ہوگی ۔
ہم خود ہی جاکر دیکھیں گے ۔
شادی لال: دیکھنے کو مارو گولی ، میری بات مانو سیدھا لڑکی کا ہاتھ مانگو ۔۔۔ایسی لڑکیاں تو اب سپنے میں بھی نہیں ملتی ہیں۔لڑکی کا نام پاکیزہ ہے۔
سرفراز ،عطیقہ اور شادی لال پاکیزہ کے گھر پہنچ گئے
گھر والوں نے مہمان خانے میں بٹھایا ۔پاکیزہ کے والدین بھی صوفوں پر براجمان ہوئے۔
شادی لال نے تعارف کرایا اور آنے کا مقصد بھی ظاہر کیا ۔ جان پہچان نہ ہونے کی وجہ سے پاکیزہ کے والدین نے تھوڑا تحمل سے کام لیا ۔
لیکن عیار کے والدین نے بہت اصرار کیا اور کہا ہمیں صرف آپ کی بیٹی چاہیے وہ بھی ایک جوڑے کپڑے میں۔۔ ۔
عطیقہ :”خدا کا دیا ہوا ہمارے پاس سب کچھ ہے۔کسی چیز کی کمی نہیں ہے ۔سوائے ایک بیٹی کے ۔۔۔ میں ایک شریف اور خوبصورت بہو ڈھونڈرہی ہوں جو مجھے ماں کہہ کر پکارے اور بیٹی جیسا سلوک کرے ۔۔۔میں جانتی ہوں کہ ایسی لڑکیاں ملنامشکل ہے ۔لیکن پاکیزہ میں وہ ساری خوبیاں موجود ہیں ۔
پاکیزہ کی ماں :لیکن ۔۔۔؟
عیار کی ماں : بات کاٹتے ہوئے ۔۔لیکن ویکن کچھ نہیں ۔ہمیں کوئی جہیز وغیرہ نہیں چاہیے اور نہ ہی کوئی بری رسم ۔ہم آپ کی بچی کو مہارانی بنا کر رکھیں گے ۔
حد سے زیادہ اصرار کے بعد یہ طے پایا کہ لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقعہ دیا جائے تاکہ ایک دوسرے کو وہ پسند بھی کریں اور دل کے اندر کے وسوسوں کو دور بھی ۔
عیار نے جب پاکیزہ کو دیکھا تو وہ دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔دونوں نے ملاقات کی ۔ایک دوسرے کی پسند جانی اور سمجھی ۔عیار نے ایسے باتیں کیں جیسے انصاف کا کوئی فرشتہ ہو ۔پاکیزہ خوش ہوئی اور عیار کی ہاں میں حامی بھر لی ۔۔۔۔پاکیزہ اس کی باتوں میں آگئی۔۔اس کے دل میں خوشیوں کا چشمہ پھوٹ گیا تھا ۔وہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھ رہی تھی ۔وہ مشکل سے اپنے جذبات پر قابو کررہی تھی ۔وہ سوچنے لگی ، ۔۔۔خدا کا شکر ہے مجھے ایک اچھا رشتہ ملا ۔میری شادی میرے والدین پربوجھ نہیں بنے گی ۔۔۔ ۔وہ خوبصورت اور خوشحال زندگی‌ کے سپنے بُننے لگی ۔
بات پڑوسیوں اور رشتے داروں میں پھیل گئی۔ لوگ مبارکبادی کا پیغام بھیجنے لگے ۔سب لوگ پاکیزہ کو خوش قسمت لڑکی کہہ رہے تھے ۔کچھ لوگ کہتے تھا ۔۔۔ایسے رشتے تو نصیب والوں کو ہی ملتے ہیں ۔۔
لیکن کہتے ہیں نہ کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ۔۔۔
ایک رشتے دار نے عیار کی ماں کے کان بھرے اور الٹی پٹی پڑھی کہ پاکیزہ کے والدین نے جہیزکے لئے بڑی رقم بنک میں جمع کررکھی ہے ۔۔پر آپ نے تو جہیزلینے سے انکار کیا ۔۔۔آپ کا ایک ہی بیٹا ہے ۔۔۔سوچ لو ۔۔۔یہ موقع پھر نہیں ملنے والا
عطیقہ : سوچنے لگی ۔۔۔بات تو صحیح ہے ۔۔ان کی بھی ایک ہی بیٹی ہے اور ہمارا بھی ایک ہی بیٹا ہے ۔
عطیقہ نے اپنے شوہر کو ان کی اچھی آمدنی کا عندیہ دیا اور وہ لالچ میں آگیا ۔اور اس نے موقعے کا فائدہ اٹھانا غنیمت سمجھا ۔اور جہیزکی مانگ کی۔ پاکیزہ کے والدین پر قیامت ٹوٹ پڑی۔لیکن بیٹی کی آبرو پر حرف نہ آنے کے خاطر خاموش رہ گئے ۔عیار کے والدین نے نقدی دس لاکھ کی مانگ کی ۔شرم کے مارے پاکیزہ کے والدین نے ایک مانگ پوری کی تو دوسری مانگ آجاتی ۔یوں شادی کا دن آگیا ۔پاکیزہ شادی کے منڈپ میں دلہن بن کے تیار تھی کہ ایک آدمی ان کے گھر میں جیسے آفت بن کر وارد ہوا اور کہا ۔۔۔ بارات تب تک نہیں آئےگی جب تک آپ لڑکے کے باپ یعنی سمدھی کے گلے میں سونے کا ہار نہیں ڈالو گے ۔۔۔۔یہ خبر لڑکی کے گھر والوں کے لئے کسی آفت سے کم نہیں تھی۔۔بے عزتی اور رسوائی سے بچنے کے لئے کسی نہ کسی طریقے سے ہار کا انتظام ہوا اور سمدھی کے گلے میں ڈال دی گئی ۔تب جا کے بارات آئی اور دلہن کو وداع کیا گیا
ر خصتی سے پہلے ماں نے بیٹی یعنی پاکیزہ کے کانوں میں کہا ۔۔۔۔ ‘بیٹی لڑائی جھگڑا کر کے یا روٹھ کر یا تنگ آکر واپس مت آنا ،تحمل سے کام لینا اور صبر کرنا۔۔۔۔یاد رکھنا میکے سے ڈھولی اٹھتی ہے اور سسرال سے تابوت۔
دلہن جب گھر پہنچی تو کچھ دنوں تک سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔۔۔لیکن اچانک ساس نے تحائف میں نون میں نکتہ ڈھونڈنا شروع کیا ۔۔۔۔یہ کیا ہلکے سونے کی انگوٹھی اور نقلی چیزیں ۔پاکیزہ ساس کا یہ رویہ دیکھ کر دھنگ رہ گئ اور سوچنے لگی ۔۔۔کیا یہ وہی عورت ہے جو بہو کی صورت میں بیٹی ڈھونڈ رہی تھی یا کسی فلم کی ویلن ۔۔۔۔خیر اس زمانے کی ساسوں میں لالچ ہوتی ہی ہے ۔۔۔ لیکن میرا سسر اور پتی تو نیک دل ہیں ۔۔۔اگلے دن پاکیزہ کے سُسر نے اس کے والدین کو فون پر بتایا کہ انہیں ایک گاڑی کی ضرورت ہے اور گھر میں ٹی وی ،فریج ،واشنگ میشین اور باورچی خانے کے لئے جدید طرز کے سامان چاہئے ۔پاکیزہ یہ سن کر ہکا بھکا رہ گئی اور من ہی من میں سوچنے لگی ۔۔۔۔کیوں نہ میں اپنے شوہر سے جا کر ان کے کرتوت بتادوں۔۔ ۔لیکن وہ معصوم لڑکی اس بات سے بے خبرتھی کہ اصل ترکیب تو اس کے شوہر ہی کی تھی ۔پاکیزہ جب اپنے کمرے میں گئی تویہ جان کر اس کو جیسے برقی رو کا جھٹکا لگا کہ اس کا شوہر امریکہ جانے کے لیے اپنے سسر سے دو ٹکٹیں مانگ رہا تھا جو کہ اصل میں کمپنی کی طرف سے پاکیزہ کے والد کو مفت میں ملی تھیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ وہ امریکہ میں آنے جانے کے لئے ایک کار کی بھی مانگ کررہا تھا ۔پاکیزہ گونگی ہوگئی۔ ادھر اس کے والدین آئے دن کی مانگوں سے پریشان ہوگئے ۔ان کے سامنے انسانوں کی صورت میں جیسے خونخوار حیوان بھوکے پیاسے بدہواس ہو کر پیچھے پڑ گئے تھے ۔ وہ بیٹی کی خوشی کے لیے مانگ پر مانگ پوری کرتے گئے ۔اُدھر ان کی حالت پتلی ہو رہی تھی۔
امریکہ پہنچنے کے بعد عیار نے اپنی بیوی پاکیزہ سے کہا ۔۔۔۔ میں نے تم کو بحیثیت نوکرانی اپنے ساتھ لایا ہے ۔۔۔لہذا تو اس میز پر کھانا نہیں کھائے گی جس میز پر میں کھانا کھاوں گا۔۔ ۔گھر کے سارے کام کاج کرنے کے بعد باورچی خانے میں ہی بچا کھانا کھا لینا۔۔۔
یہ ساری باتیں پاکیزہ کے دل کو چیرتی تھیں اس کا کلیجہ پھٹنے کو آتا تھا۔۔ اس کی راتیں آنکھوں میں کٹنے لگیں ۔وہ چیخنا چاہتی تھی ۔اس پر ہورہے طرح طرح کے ظلم و ستم نے اس کی زندگی کو دوبھر کیا تھا ۔وہ جب بیمار ہوتی تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتاتھا اور نہ ہی کوئی دوائی لانے والا ۔۔۔گھر میں جو کھانے کی چیزیں لائی جاتیں وہ مشکل سے عیار کا پیٹ بھرتیں۔ اگر کچھ بچ جاتا تو پاکیزہ تناول کرتی ورنہ وہ کئی دنوں تک خالی پیٹ ہی سو جاتی تھی اور اس کا شوہر اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتاتھا۔
پاکیزہ والدین سے اپنے ظلم و ستم سے بھری کہانی بیان کرتی لیکن اس کو ماں کی وہ بات یاد آتی کہ بیٹی لڑائی جھگڑا کر کے واپس مت آنا ۔لہذا وہ سب کچھ سہتی رہی اور کسی سے کچھ نہیں کہا ۔
ایک دن تو حد ہی ہوگئی جب اس کے پتی نے پاکیزہ سے کہا:۔۔۔۔ کہ اپنے باپ سے کہہ دو کہ وہ گھر ہمارے نام کردے۔۔ ۔پاکیزہ جانتی تھی کہ اب اس کے والدین کے پاس صرف وہ گھر ہی بچا تھا باقی سب ریٹائر منٹ کے بعد ملنے والا پینشن اور جی پی فنڈ ختم ہوگیا تھا۔اس لئے تھوڑی سی ہمت جٹا کر پاکیزہ نے کہا: ۔۔۔کیوں ؟ ان کے پاس کوئی فرم ہے کیا ؟ ۔جو وہ ہر چیز تیرے نام کر دیں گے ۔۔تو مردوں کے نام پر ایک کلنگ ہے۔۔میں ایسا ہرگز نہیں کروں گی ۔۔ویسے بھی زیادہ لالچ ٹھیک نہیں ہے۔۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ اندھے کے آگے روئے اپنے ہی نین کھوئے۔۔۔۔تجھے سمجھانا بیکار ہے۔ ۔۔عیار جاموں سے باہر ہوکر پاکیزہ کو پیٹنے لگا اور گلا دبانے لگا ۔یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا ۔پاکیزہ اس امید سے صبر کرتی رہی کہ کبھی نہ کبھی اس کا شوہر سمجھ جائے گا اور اس کے ستم پیار میں بدل جائیں گے ۔وہ ہر دن کھڑکی سے دیکھتی رہتی کہ شاید آج اس کا شوہر خوشی سے مسکرا کر اس سے پیار سے پیش آئے گا ۔لیکن ایسا کبھی بھی نہ ہوا بلکہ حالات بد سے بد تر ہوتے گئے ۔آخر ایک دن اس کے شوہر عیار نے اپنا قیمتی سامان ایک بیگ میں ڈال کر کہیں جانے کی تیاری کی۔پاکیزہ نے ساتھ جانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانا اور پاکیزہ کو گھر میں بند کر کے چلا گیا ۔گھر کے تالے کی دونوں چابیاں اسی کے پاس تھیں ۔ظلم۔کی انتہا کرتے ہوئے اس نے گھر میں جو پانی کا فلٹر تھا وہ توڈ دیا اور کھانے کی کوئی چیز نہیں چھوڑی ۔
پاکیزہ چار دنوں تک بھوکی پیاسی اسی گھر میں تڑپتی رہی یہاں تک کہ اس کی حالت تشویشناک ہونے لگی ۔ان حالات میں بھی جب پاکیزہ نے اس سے فون پر گھر لوٹنے کی بات کہنی چاہی تو جناب نے جواب دینے کی زحمت نہیں کی ۔بلاخر پاکیزہ نے وومنز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو فون کیا اور ان ہی کی مدد لے کر اپنی جان بچائی اور پھر والدین سے بھی بات کی ۔جوفوراً وہاں پہنچے اور اپنی بیٹی کو ساتھ لاکر اس سے نئی زندگی بخشی ۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد قانونی کاروائی کی گئی۔طلاق ہوا اور وہ جہیز کا سامان مع نقدی واپس لیا گیا ۔۔۔۔کچھ عرصے بعد ہی عیار ایک سڑک حادثے کا شکار ہوا اور عمر بھر کے لئے معزور بھی ۔۔اس کے ماں باپ نے پاکیزہ سے معافی مانگی اور پھر سے رشتہ جوڑنے کی کوشش کی ۔۔لیکن ایسا ممکن نہ تھا اور ناہی جائز۔۔۔۔پاکیزہ کے والدین نے کہا:۔۔آپ وہ مضافی ہیں جو اصلی ہیرے کو نہ پہچان سکے ۔۔۔اب تیل دیکھو تیل کی دھار
منظور احمد ملک ۔۔۔
قصبہ کھل کولگام
9906598163

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں