مرے دکھوں کا مداوا نہیں کرے گا وہ 144

مرے دکھوں کا مداوا نہیں کرے گا وہ

ساگر سرفراز۔۔۔حاجن سوناواری کشمیر

مرے دکھوں کا مداوا نہیں کرے گا وہ
مجھے یقین ہے ایسا نہیں کرے گا وہ
عطا کیا ہے خدا نے اسے یدِ بیضا
اگر وہ چاہے، تو کیا کیا نہیں کرے گا وہ
وہ تشنہ کام گزرجائے گا بیاباں سے
مگر سراب کا پیچھا نہیں کرے گا وہ
مرے ہی بام پہ وہ ماہتاب رہتا ہے
مرے ہی گھر میں اجالا نہیں کرے گا وہ
ہے اس کا دعویٰ بجا وہ تو ابن مریم ہے
مریض غم کو تو اچھا نہیں کرے گا ہو
بچھڑنے والا بڑا سخت جان ہے ساگر
میں جانتا ہوں کہ رویا نہیں کرے گا وہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں