بلال صہبا
ازل سے رہا ہے یہ اعجاز تیرا
زمیں آسماں میں ہے پرواز تیرا
سمندر سے قطرہ جدا گر ہے اب بھی
کرے وصل ممکن یہ ہمراز تیرا
ہیں تیرے لئے دو جہاں یہ مسخّر
یہ تحت الثّرا ہے یہ افراز تیرا
نظارے کو تیرے کہا دید اپنی
کِیا اس قدر جلوہ ممتاز تیرا
حسینوں میں تجھ کو بنایا حسیں تر
نزاکت تیری اور اغماز تیرا
اصل بھید اس نے تو تم کو بنایا
چھپایا تمہی سے مگر راز تیرا
یوں رندوں کے اس دوستانے سے صہبا
ہوا نام مشہور مے باز تیرا
94
