پچاس لفظی افسانچے 108

گجرات کی بیٹی عایشہ کی فریاد

فلک ریاض۔۔

میرے بابا سے یہ کہنا
اے بابا چین سے رہنا
نہ ڈھونڈھے مجھ کو اب گھر میں
ملوں گی اب میں محشر میں
میں سنگ زخموں کے جاوں گی
خدا کو سب بتاوں گی
کیا خستہ مجھے غم نے
رلایا مجھ کو “آدم ” نے
مٹایا مجھ کو “آدم ” نے
ستایا مجھ کو “آدم ” نے
جدا جس کو سمجھتی تھی
خدا جس کو سمجھتی تھی
وہی مجھ سے خفا نکلا
ارے کیوں بے وفا نکلا
نکاح ہے نام الفت کا
نکاح ہے نام چاہت کا
نہ یہ جور و جفا مانگے
محبت بس وفا مانگے
میں نے خود کو مٹایا تھا
سدا تن من لٹایا تھا
میں بابا کی دلاری تھی
بہت اماں کو پیاری تھی
مجھے غربت میں پالا تھا
نکھارا تھا سنبھالا تھا
قرض لے کر میرے ابو
فرض اپنا نبھایا تھا
خود ہی مہندی سجائی تھی
میری شادی رچائی تھی
مگر کیوں پیار میں دھوکا
تیرے اقرار میں دھوکہ
سزا میں نے یہ پایی کیوں
ارے یہ بے وفائی کیوں
چمن کی اک کلی تھی میں
بہت ہی لاڈلی تھی میں
دكهوں سے چور کر بیٹھے
مجھے مجبور کر بیٹھے
ابھی باقی کہانی تھی
ابھی تو نو جوانی تھی
سدا خوش حال رہنے کا
مجھے بھی حق تھا جینے کا
جو سچ ہے وہ کہوں گی میں
جو تیکھا ہے لکھوں گی میں
سدا آنکھوں مین ہے پانی
ہے عورت درد کی رانی۔۔۔۔۔
تڑپنا میری امی کو
میرے بابا کو رونا تھا
مجھے خاموش ہونا تھا
سدا مٹی میں سونا تھا
سدا مٹی میں سونا تھا۔۔۔۔۔۔۔

فلک ریاض۔۔حسینی کالونی۔چھتر گام۔کشمیر۔۔بھارت۔۔
فون۔۔۔6005513109

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں