انجینئر منظر زیدی
جس مدرسہ کی بنیاد سر سیّد احمد خان کے ذریعہ۲۴ مئی ۱۸۷۵ئ کو ۷ طلبہ کو لیکر رکھی گئی تھی وہ ۸ جنوری ۱۸۷۷ئ کو ۱۲۳ طالب علموں پر مشتمل محمڈن انگلو اورینٹل کالج بن گیا تھا۔مگر سر سیّد احمد خان کا خواب اسے یونیورسٹی بنا نا تھا جو انکی زندگی میں ممکن نہیں ہوا مگر انکے انتقال کے ۲۲ برس بعد سر سیّد احمد خان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا۔۹ ستمبر ۱۹۲۰ئ کو مسلم یونیورسٹی کے قیام کے متعلق قرار داد ہندوستان کی نیشنل اسمبلی میں منظور کرکے ہندوستان کے گورنر جنرل کو بھیج دی گئی جہاں ۱۴ ستمبر ۱۹۲۰ئ کو اسے منظوری دیدی گئی جسکے نتیجہ میں محمڈن انگلو اورینٹل کالج یکم دسمبر ۱۹۲۰ئ کو مسلم یونیورسٹی میں تبدیل ہو گیا جسکا افتتاح ۱۷ دسمبر ۱۹۲۰ئ کو کیا گیا۔یونیورسٹی کے پہلے چانسلر کی حیثیت سے بھوپال کی بیگم سلطان جہاں کا تقرر ہوا جو دسمبر ۱۹۲۰ئ سے مئی ۱۹۳۰ئ تک اس عہدے پر فائز رہیں۔یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر مہا راجہ محمودآباد محمد علی خان ہوئے جنہوں نے دسمبر ۱۹۲۰ئ سے فروری ۱۹۲۳ئ تک اس عہدے پر رہکر فرائض انجام دئے۔یونیورسٹی کے پہلے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاالدین احمد ہوئے جو مارچ ۱۹۲۱ئ سے اپریل ۱۹۲۸ئ تک اس عہدے پر رہے۔ یونیورسٹی میں ایک سو سال میں گیارہ چانسلر رہے اور بارویں چانسلر اس وقت سیّدنا مفدّل سیف الدین ہیں۔ یونیورسٹی کے ۲۱ ویں وائس چانسلر جناب طارق منصور ہیں۔
محمڈن انگلو اورینٹل کالج سے یونیورسٹی وجود میں آنے تک زیادہ تر طلبہ کی رہائش اور تعلیمی شعبے سر سیّد ہال میں قائم تھے۔ اسکے علاوہ چند ہاسٹل جیسے ممتاز، آفتاب، موریسن، میکڈونل ہوسٹلوں کے علاوہ چار ہوسٹل منٹو سرکِل میں تعمیر ہو چکے تھے اور طلبا کی تعدادایک ہزارسے زاید ہو گئی تھی مگر یونیورسٹی کے ۵۰ سال مکمل ہونے تک یعنی ۱۹۷۰ئ تک یونیورسٹی میں طلبہ کی رہائش کے لئے ۷ ہال وجود میں آ چکے تھے اور طالبات کے لئے ۲ ہال تعمیر ہو چکے تھے۔ایک ہال میں چار سے لیکر سات ہوسٹل تک ہیں۔یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات کی کُل تعداد ۸۰۰۰ ہوگئی تھی۔اب جبکہ یونیورسٹی کے قیام کو ایک سو سال ہو رہے ہیں،یونیورسٹی میں کُل طالبِ علموں کی تعداد ۲۲۰۰۰ سے تجاوز کر چکی ہے جن میں دو ہزار سے زاید مختلف شعبوں میں ریسرچ کر رہے ہیں۔یونیورسٹی میں ۱۲ فیکلٹی ہیں جہاں ۳۳۲ مختلف مضامین میں تعلیم حاصل کرنے کی سہولت ہے۔ اسکے علاوہ یونیورسٹی کے زیرِ سر پرستی دس اسکول ہیں جہاں دسویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔اس وقت طلبہ کی رہائش کے لئے۱۵ ہال اور طالبات کی رہائش کے لئے۵ ہال موجود ہیں۔یونیورسٹی میں مختلف ۱۲۵ شعبوں میں تعلیم دینے کے لیئے ۲۰۰۰ سے زاید استاد ہیں۔ یونیورسٹی میں ہندوستان کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک کے طالب علم تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں افریکہ، مغربی ایشیا، جنوب مشرق ایشیا وغیرہ شامل ہیں۔یونیورسٹی میں مسلم طلبہ کے علاوہ غیر مسلم طلبہ بھی بغیر تفرق مذہب وملت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔خاص طور پر میڈیکل کالج، انجینیرنگ کالج اور پالی ٹیکنک میں غیر مسلم طلبہ کی تعداد ۵۰ فی صد سے زاید ہے۔ غیر مسللم طلبا کو بھی یونیورسٹی اور ہاسٹلوں میں وہی سہولیات حاصل ہیں جو مسلم طلبا کو۔سر سیّد احمد خان ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے۔ ۱۸۷۷ئ میں ۱۲۳ طلبہ سے شروع ہونے والے کالج میں ۱۲ طلبہ غیر مسلم تھے۔ ۲۲ ممبران کی مینیجنگ کمیٹی میں ۶ غیر مسلم تھے۔ مشہور حساب داں جے۔سی۔ چکرورتی کالج میں حساب کے استاد تھے جو بعد میں رجسٹرار بھی رہے اور مینیجنگ کمیٹی اور بلڈنگ کمیٹی کے ممبر بھی رہے۔کالج سے شروع ہوئی ہندو مسلم اتحاد کی روایت یونیورسٹی کے ایک سو سال ہونے تک برقرار ہے۔
علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو ’ انڈیا ٹوڈے‘ میگزین کے ذریعہ ہندوستان کی ایک ہزار سرکاری اور غیر سرکاری یونیورسٹیز میں تیسرے مقام پر رکھا گیا ہے۔’ انڈیا ٹو ڈے‘ کے مطابق یونیورسٹی کے شعبہ قانون کو گیارواں مقام حاصل ہے۔ ’انڈیا ٹوڈے‘ کے مطابق ۲۰۱۹ ئ میں یونیورسٹی کے میڈیکل کالج کو بہترین ۴۰۰ کالجوں میں ۱۲ واں مقام اور انجینئرنگ کالج کو بہترین ۴۰۰ کالجوں میں ۲۱ واں مقام حاصل ہے۔علیگڈھ مسلم یونیورسٹی ہندوستان کی واحد یونیورسٹی ہے جسے یونائیٹڈ نیشن گلوبل جیو اسپیشیل انفورمیشن مینیجمینٹ ( UNGGIM)کی ممبرشپ حاصل ہے۔علیگڈھ مسلی یونیورسٹی کے علاوہ دنیا کی ۴۹ یونیورسٹیز کو یہ ممبرشپ حاصل ہے۔۲۰۱۹ئ میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کو ۱۸ واں مقام حاصل ہے۔ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی صرف ایک معیاری تعلیمی ادارہ ہی نہیں بلکہ تہذیب و تمدّن کا گہوارا بھی ہے۔ سر سیّد احمد خان تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی زور دیتے تھے۔ اسکے مدّ نظرانہوں نے کالج کی ڈریس معیّن کی۔اسلامی روایات کا خیا رکھتے ہوئے ڈریس میں کالی شیروانی اور سفید پاجامہ رکھا گیا۔ان کا خیال تھا کہ طالب علم کی نشودنما تربیت سے بہتر ہو تی ہے جسکے لئے انہوں نے ہاسٹل قائم کئے۔ ہاسٹلوں میں طلبہ کی تفریح کے لئے کلب قائم کئے گئے جن میںمختلف قسم کے ثقافتی پروگرام، انڈور کھیل اور آؤٹ ڈور کھیل ہوتے ہیں۔ ہاسٹلوں کے علاوہ یونیورسٹی میں بھی کرکٹ،ہاکی،فٹبال اور باسکٹ بال وغیرہ کھیلوں کے علاوہ ورزش گاہ اور تیراکی کے لئے سویمنگ پُول کی سہولیات بھی مہّیا کرائی گئیں۔ ہاسٹل میں طالب علموں کے لئے دستورالعمل بنائے گئے۔سینئر کو جونئر طالبِ علم سے کیسے بات کر نی ہے ا ور جونئر کو سینئر طالبِ علم سے کس طرح پیش آنا ہے، یہ سب ہاسٹل میں تہذیب کے طور پر سکھایا جاتا ہے۔ ڈائیننگ ہال کا بھی نظام ہے۔ہاسٹل سے باہر کرتا ،پاجامہ اور چپّل پہن کر نہ کلاس جا سکتے ہیں اور نہ ہی ڈائیننگ ہال میں۔ڈاکٹر ذاکر حسین نے جب کالج میں داخلہ لیا تھا تو انہوں نے لکھا ہے کہ مجھے پہلے دن ڈائننگ ہال پہنچنے میں اس لئے دیر ہو گئی کہ مجھے جوتے کے فیتے باندھنے نہیں آتے تھے۔ سر آکلینڈ کالوِن جب علیگڈھ آئے تو انہوں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ علیگڈھ کی تہذیب، تمدّن اور شائستگی کی وجہ سے میں بھیڑ میں بھی بتا سکتا ہوں کہ کونسا طالبِ علم علیگڈھ کا ہے۔آج بھی یونیورسٹی رہائشی یونیورسٹی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ۹۰ فی صد طلبہ ہاسٹلوں میں رہتے ہیں۔یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کی طبّی سہولت کے لئے یونیورسٹی اسپتال ہے۔ اسکے علاوہ یونیورسٹی کے میڈیکل کالج، طبّیہ کالج،اور ڈینٹل کالج کے اسپتالوں میں بھی طبّی سہولیات فرہام کرائی جاتی ہیں۔
یونیورسٹی سے متعلق دوسری اہم معلومات
یونیورسٹی مسجد: ۔سر سیّد احمد خان نے انگریزی تعلیم و تربیت کے ساتھ اسلامی روایات کا خیال رکھتے ہوئے دینی تعلیم فراہم کرانے کی غرض سے شعبۂ دینیات قائم کیا تھا۔ اسکے علاوہ سر سیّد ہال کے وسط میں مغرب کی جانب یونیورسٹی مسجدکی بنیاد بھی ۱۸۷۹ئ میں رکھی تھی۔ مسجد کے صدر دروازے پرسورۃ فجر کی آیاۃ کندہ ہیں۔مغل شہنشاہ شاہجہاں نے تاج محل کی خطّاطی کے لئے ایران سے خطّاط بلوایا تھا۔انہیں کے ذریعہ تاج محل پر مکمل خطّاطی کی گئی تھی ۔ انہوں نے ہی دہلی کی اکبری مسجد پر خطّاطی کی تھی۔ ۱۸۵۷ئ کے سانح کے بعد انگریزوں نے اکبری مسجد کو شہید کر دیا تھا۔ سر سیّد احمد خان نے اکبری مسجد کے ملبے سے ۱۰۲ روپے میں خرید کر ان دلکش کندہ آیاۃ کویونیورسٹی کی مسجد کے صدر دروازے پر نسب کرایا تھا۔مسجد کی تعمیر جنوری ۱۹۱۵ئ میں میں مکمل ہوئی۔
طلبہ یونین ہال: ۔کالج کے زمانہ میں کالج کے پہلے پرنسپل کے نام پر سڈونس یونین کلب بنایا گیا تھا۔اسے کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرز پر شروع کیا گیا تھا تاکہ مختلف اہم موضوع پر َطلبہ بحث و مباحثہ کے مقابلوں میں حصہ لے سکیں۔۱۹۰۵ئ میں یونین ہال کی نئی عمارت تعمیر ہونے کے بعدیونین کلب اسمیں منتقل ہو گیا تھا جہاں آج بھی موجود ہے۔ ۱۹۲۰ئ میں مہاتما گاندھی کے کالج میں آنے پر پہلی بار انہیں طلبہ یونین کا تا حیات اعزازی ممبر منا یا گیا تھا۔ اسکے بعد ملک کی ۳۵ خصوصی ہستیوں کو یہ اعزاز دیا گیا ہے جس میں جواہر لال نہرو، سی۔وی۔رمن، سروجنی نائیڈو، جے پرکاش نارائن اور وی۔پی۔سنگھ شامل ہیں۔اسی عمارت میں یو نیورسٹی طلبہ یونین کا دفتر ہے اور یونین کے تمام جلسے اسی ہال میں منعقد ہوتے ہیں۔یونین کے الیکشن میں طلبہ کے ساتھ طالبات بھی حصّہ لیتی ہیں۔مغربی افریکہ کے طالب علم محمد امین بلبلیا جب طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے اس وقت پہلی بار ایم۔ایس ۔سی۔فزکس کی طالبہ زہرہ نقوی انکی کیبنٹ میںممبر منتخب ہوئی تھیں۔ طلبہ یونین کے صدر اور سیکریٹری کے عہدوں پر فائز رہ چکے بہت سے اشخاص ملک کے اہم سیاسی عہدوں پر رہے ہیں۔اس وقت بھی ۱۹۷۲ئ میں یونین کے صدر رہ چکے جناب عارف محمد خان کیرالہ کے گورنر ہیں ۔
ذاکر حسین انجینئرنگ کالج:۔یونیورسٹی کے وجود میں آنے کے ۱۵ برس بعد ۱۹۳۵ئ میں انجینئرنگ کالج کا آغاز ہوا۔اس میں تین شعبوں ، سوِل، الیکٹریکل اور میکینیکل میں طلبہ کو ڈگریاں دی جاتی تھیں۔اب یونیورسٹی میں پرانے تین شعبوں کے علاوہ الیکٹرونکس ، کمپیوٹر، آرکیٹیکٹ، کیمیکل اور پیٹرولیم کے شعبے بھی قائم ہیں۔
انجینئرنگ کالج کے علاوہ یونیورسٹی میں طَلبہ و طالبات کے الگ الگ پولی ٹیکنک ہیں جو انجینئرنگ کے مختلف شعبوں میں ڈپلوما فراہم کراتے ہیں۔انجینئرنگ کالج کے ہر شعبہ میں الگ لائبریری موجود ہے جہاں بُک بینک سیکشن بھی ہیں جہاں سے گھر یا ہاسٹل میں مطالعہ کے لئے کتابیں حاصل کرنے کی سہولت ہے۔انجینئرنگ کالج کا نام ۱۹۴۸ء سے ۱۹۵۶ ئ تک یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے ڈاکٹر ذاکر حسین کے نام سے موسوم ہے۔
جواہر لال نہرو میڈیکل کالج:۔یونیورسٹی میں ۱۹۶۲ئ میں میڈیکل کالج کا آغاز ہوا۔کالج کواُس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے نام پر موسوم کیا گیا ۔کالج کی عمارت کی تعمیر ۱۹۷۰ئ میں ہو جانے کے بعد کالج اور اسپتال نئی عمارت میں منتقل ہو گئے تھے۔اُس وقت کالج میں ۵۰ طالب علم داخلہ لے سکتے تھے مگر اب جبکہ یونیورسٹی کو ۱۰۰ سال ہو رہے ہیں کالج میں ۱۵۰ طالب علم ایم۔بی۔بی۔ ایس ۔ میں اور ۱۴۶ طالب علم پوسٹ گریجوئیشن میں داخلہ لے سکتے ہیں۔اس وقت کالج میں ۲۵ شعبوں میں ۲۴۰ ماہر استاد کے ذریعہ تعلیم دی جاتی ہے۔کالج سے ملحق اسپتال ہے جس میں ۱۲۶۹ مریضوں کو داخل کرنے سہولت ہے ۔میڈیکل کالج کے طلبہ کے لئے ہادی حسن نام سے الگ ہال ہے جہاں طلبہ کو رہنے اور کھانے کی سہولیات مہیّا کرائی جاتی ہیں۔کالج میں نرسنگ کی کلاسیں بھی ہوتی ہیں جہاں سے طلبہ و طالبات کونرسنگ میں ڈپلومہ دیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یونیورسٹی کا دانتوں کا کالج ہے جس کا نام یونیورسٹی کے پہلے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاا لدین کے نام سے موسوم ہے۔ڈاکٹر ضیاالدین دو باریونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے ہیں۔یہ واحد شخص تھے جو ۹ سال وائس چانسلر رہے۔
اجمل خان طبیّہ کالج:۔ ۱۹۲۷ئ میں طبیّہ کالج کا آغاہوا۔اُس وقت کالج میں یونانی طب کی پڑھائی کے بعد بی۔یو۔ایم۔ایس۔ کی ڈگری دی جاتی تھی۔۱۹۷۲ئ میں طبیّہ کالج میں پوسٹ گریجوئیشن کی کلاسیز بھی شروع ہوگئیں اور طلبہ کو میڈیسن میں ایم۔ڈی۔اور سرجری میں ایم۔ایس۔ کی ڈگریاں دی جاتی ہیں۔اس وقت کالج میں ۱۲ شعبے ہیں ۔ کالج کا الگ اسپتال ہے جہاں ۱۲۰ مریضوں کو داخل کرنے کی سہولت موجود ہے ۔ ۱۹۳۲ئ میں طلبہ کے رہنے کے لئے کالج کا الگ ہاسٹل بھی تعمیر کیا گیا۔حکیم اجمل خان کی ۱۰۰ ویں یوم پیدائش کے موقع پر ۱۹۶۹ئ میں کالج کا نام اجمل خان طبیّہ کالج ہو گیا۔
مولانا آزاد لائبریری:۔سر سیّد ہال کے وسط میں ۱۹۰۵ئ میں لائبریری کی تعمیر ہوئی تھی جسکا نام اس وقت کے وائسرائے لارڈ لٹن کے نام پر لٹن لائبریری رکھا گیا تھا۔کرنل بشیر حسین زیدی جب یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے اس دوران وائس چانسلر کی کوٹھی کی قریب ۱۹۶۰ئ میں لائبریری کی نئی عمارت کی تعمیر کرائی گئی جسکا نام بھارت کے پہلے وزیر تعلیم مولانا آزاد سے موسوم کیاگیا۔اسکا افتتاح اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے ذریعہ کیا گیا تھا۔کرنل بشیر حسین زیدی کے زمانہ میں بہت سی نئی عمارتوں کی تعمیر ہوئی جن میں لائبریری کے علاوہ آرٹس فیکلٹی اور کنیڈی ہاؤس قابلِ ذکر ہیں۔اُس وقت کرنل زیدی کو یونیورسٹی کا شاہجہاں کہا جاتا تھا۔کنیڈی ہاؤس ایک بہت بڑا آڈیٹوریم ہے جہاں ڈرمہ کلب کے ڈراموںکے علاوہ یونیورسٹی کے تمام اہم جلسے ہوتے ہیں۔اس کی ایک دیوار پرمشہور مصّور ایم۔ ایف۔ حسین کے ذریعہ خوبصورت پینٹنگ بنائی گئی ہے۔مو لانا آزاد لا ئبریری ایشیا کی سب سے بڑی اور دنیا کی چند بڑی لائبریریز میں ایک ہے۔NAACکے ذریعہ اسے ۲۰۱۵ ئ میں ہندوستان کی تمام یونیورسٹیز کی لائبریریز میں سب سے بہتر کہا گیا ہے۔اس کی سات منزلہ عمارت میں تقریباً اٹھارہ لاکھ کتابیں مختلف موضوع پر موجود ہیں۔اسکے علاوہ ۵۵۰۹۷ ریسرچ جنرلس بھی دستیاب ہیں۔ اس لائبریری میں ہاتھ کے لکھے ہوئے ۱۶۰۰۰ نسخے موجود ہیں۔۱۴۰۰ سال پرانا حضرت علی ؑ کے ہاتھ کا خطِ کوفی میں جانور کی کھال پر لکھا ہوا قرآن شریف اور انکے ہاتھ کی لکھی ہوئی نہج البلاغہ کی کاپی موجود ہے۔مغل رانی جہاں آرا اور شہزادی حنا بیگم کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریریں بھی لائبریری میں رکھی ہیں۔ اس لائبریری میں مہابھارت ،رامائن اور بھگوت گیتا کے فارسی میں ترجمہ بھی ہیں۔لائبریری میں عربی ،فارسی، ہندی،سنسکرت اور اردو ادب سے متعلق ڈیڑھ لاکھ کتابیں موجود ہیں۔مولانا آزاد لائبریری کے علاوہ طلبہ و طالبات کے مطالع کے لئے ہر کالج اورہر ڈپارٹمینٹ میں الگ لائبریریز بھی ہیں جہاں ۱۷۵۵۵۰ کتابیں مطالع کے لئے اور ۱۰۷۴۰۰ کتابیں گھر یا کمرے پر لے جانے کے لئے دستیاب ہیں ۔غرضیکہ کسی بھی طالبِ علم کو کتابیں خریدنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے۔
عبداللہ گرلس کالج:۔محمڈن انگلو اورینٹل کالج کے قیام کے بعد سر سیّد احمد خان نے تعلیم نسواں کی ضرورت پر زور دیا۔اس کی ذ مہّ داری شیخ محمد عبداللہ کو سونپی گئی۔۱۹ ،اکتوبر ۱۹۰۶ئ کو ۵ طالبات اور ایک ٹیچر سے اسکول کی ابتدا شیخ محمد عبداللہ نے کی۔ اسکول کے لئے بیگم بھوپال، سلطان جہاں نے ۱۰۰ روپے ماہانہ کی رقم منظور کی۔۷ نومبر ۱۹۱۱ئ کو اسکول کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔اسکے ساتھ ہی ’وحیدیہ ہاسٹل‘ کے نام سے طالبات کے لئے ہاسٹل کی تعمیر کا کام بھی شروع ہوا۔۱۹۱۶ئ میں دوسرے ہاسٹل کا سنگ بنیاد بیگم بھوپال ،سلطان جہاں کے ہاتھوں رکھا گیا ۔ بعد میں ہاسٹل کا نام سلطان جہاں ہاسٹل کے نام سے موسوم ہوا۔ ۱۹۲۱ئ میں یہ اسکول ہائی اسکول تک ہو گیا اور پھر ۱۹۲۹ئ میں انٹرمیڈیئیٹ کالج بن گیا۔ ۱۹۳۰ئ میں جبکہ سر راس مسعود یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے، گرلس کالج، مسلم یونیورسٹی سے ملحق ہو گیا۔۱۹۳۵ئ میں کالج میں گریجوئیشن کورس کی ابتدا ہوئی۔۱۹۴۹ئ میں جب مولانا ابوالکلام آزاد یونیورسٹی کے کنووکیشن میں تقسیم اسناد کے جلسے میں تشریف لائے تو انہوں نے گرلس کالج کا بھی معائنہ کیا۔وہ کالج کی ترقّی دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے ۹ لاکھ روپے سالانہ کی امداد بھارت سرکار کی طرف سے دئے جانے کا اعلان کیا۔۱۹۳۷ئ میں شیخ محمد عبداللہ کی دختر ممتاز جہاں حیدر کالج کی پرنسپل ہوئیں جو ۱۹۷۰ئ تک اس عہدے پر فائز رہیں۔اِس وقت کالج کے مختلف ہوسٹلوں میں ۱۵۰۰ طالبات کے رہنے کی سہو لت مہیّا ہے۔تقریباً ۲۷۰۰ طالبات کالج میں زیر تعلیم ہیںجو مختلف موضوعات پر گریجوئیٹ تک کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ پوسٹ گریجوئیشن کے لئے طالبات کو یونیورسٹی کیمپس میںجانا ہوتا ہے۔
احمدی اسکول برائے نا بینا:۔ ۱۹۲۷ئ میں جبکہ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب زادہ آفتاب احمد خان تھے، یونیورسٹی کے زیر انتظام نا بینا طالب علموں کے لئے اسکول کی بنیاد رکھی گئی۔یہ ملک کا واحد اسکول ہے جو مرکزی یونیورسٹی کے ذریعہ چلایا جا رہا ہے اور جہاں نابینا طلبہ و طالبات کو ۹و یںاو ر ۱۰ویں درجہ میں سی۔ بی۔ ایس۔ سی۔ کے نصاب کے مطابق مفت تعلیم دی جاتی ہے۔تعلیم کے ساتھ اسکول میں چھٹیوں میں کمپیوٹر ٹائپنگ، کرسی بنائی،موسیقی اور سلائی و کڑھائی کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔اس اسکول میں ملک میں رہنے والے نابینا طالب علموں کو بغیر تفریق مذہب، رنگ اور نسل کے داخلہ دیا جاتا ہے۔اسکول میں طلبہ و طالبات کے لئے الگ الگ ہاسٹل ہیں جہاں ا نہیں رہنے کے ساتھ کھانہ بھی مفت فراہم کرایا جاتا ہے۔اسکے علاوہ طبّی سہولیات بھی مفت فراہم کرائی جاتی ہیں۔
بابِ سیّد اور سینچری گیٹ:۔ علیگڈھ مسلم یونیورسٹی ۴۶۷ ہیکٹیئر(۱۱۵۵، ایکڑ)رقبہ میں پھیلی ہوئی ہے مگر یونیورسٹی کی کوئی باؤنڈری نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی کی خالی پڑی ہوئی زمینوں پر زمین مافیا قبضہ کر رہے تھے۔جب ۱۹۹۵ئ میں محمودالرحما ن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہوئے تو انہوں نے یونیورسٹی کی حد مقرر کرتے ہوئے مافیاؤں سے بہت سی زمینیں خالی کرا کر یونیورسٹی میں داخلہ کے زیادہ تر راستے بند کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کے قریب یونیورسٹی روڈ پر بابِ سیّد کے نام سے عالیشان دروازہ تعمیر کرایا جسکا افتتاح اُس وقت کے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی فاروق عبداللہ کے ذریعہ۱۹ فروری ۲۰۰۰ئ کو کیا گیاتھا۔اب یونیورسٹی کے ۱۰۰ سال مکمل ہونے پراسی طرح کا دوسرا دروازہ یونیورسٹی روڈ پر چنگی کی جانب وائس چانسلرجناب طارق منصور کے ذریعہ تعمیر کرایا گیا ہے۔اس سینچری گیٹ کاافتتاح یونیورسٹی کے چانسلر جناب سیّدنا مفدّن سیف الدین کے ذریعہ کیا گیا ہے۔
یونیورسٹی کی دیگر خصوصیات:۔
یونیورسٹی ترانہ:۔ یونیورسٹی کا اپنا ترانہ ہے جسے ۱۹۳۳ئ میں اردو کے مشہور شاعر اسرارالحق مجازؔ لکھنوی نے لکھا تھا۔مجاز ۱۹۳۰ ء سے ۱۹۳۶ ء تک یونیورسٹی کے طالب علم رہے ۔مجاز نے نظر علیگڈھ کے نام سے یہ نظم لکھی تھی۔مجاز نے طلبہ یونین ہال میں پہلی بار یہ نظم پڑھی ۔ جب انہوں نے نظم کا یہ شعر پڑھا تو یونیورسٹی کے پروو ائس چانسلر اے۔ بی۔احمد حلیم فنکشن سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔
یہاں ہم نے کمندیں ڈالی ہیں
یہاں ہم نے شب خوں مارے ہیں
یہاں ہم نے قبائیں کھینچی ہیں
یہاں ہم نے تاج اتارے ہیں
اسکے بعد طلبہ کے بیحد اصرار کے باوجود بھی مجاز نے یہ نظم کبھی نہیں پڑھی۔تقریباً بیس سال بعداشتیاق احمدخان نے ۱۹۵۴میںسر سیّدڈے کے موقع پر ڈاکٹر ذاکر حسین وائس چانسلر کی موجودگی میں پہلی بار اسٹریچی ہال میںاپنے دوسرے پانچ ساتھیوں کے ساتھ اسے پیش کیا۔ اسکے بعد سے اسے یونیورسٹی ترانہ کے طور پر یونیورسٹی کے ہر فنکشن میں پیش کیا جاتا ہے۔اس کے ایک سال بعد مجاز کا انتقال ہو گیا تھا۔ ترانہ میں مندرجہ بالا شعرکو شامل نہیںکیا گیا ۔ترانہ کے چند اشعار پیش ہیں۔
یہ میرا چمن ہے میرا چمن میں اپنے چمن کا بلُبُل ہوں
سر شارِ نگاہِ نرگس ہوں پا بستۂ گیسوئے سُنبل ہوں
جو طاقِ حرم میں روشن ہے ، وہ شمع یہاں بھی جلتی ہے
اس دشت کے گوشہ گوشہ سے اک جوئے حیات ابلتی ہے
یہ دشتِ جنوں دیوانوں کا، یہ بزمِ وفا پروانوں کی
یہ شہر طرب رومانوں کا، یہ خلدِ بریں ارمانوں کی
فطرت نے سکھائی ہے ہمکو افتاد یہاں پرواز یہاں
گائے ہیں وفا کے گیت یہاں چھیڑا ہے جنوں کا ساز یہاں
ذرّات کا بوسہ لینے کو سو بار جھکا آکاش یہاں
خود آنکھ سے ہم نے دیکھی ہیں باطل کی شکستہ فاش یہاں
رائڈنگ کلب:۔یو نیورسٹی کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں رائڈنگ کلب ہے۔جو عموماً دوسری جگہ نہیں ہے۔۱۲۵ سال پرانہ رائڈنگ کلب خواہشمند طالب علموں کو شہ سواری سکھانے کے ساتھ انہیں گھوڑ سواری کا سرٹیفیکیٹ بھی فراہم کراتا ہے۔
باٹنیکل گارڈن:۔ یونیورسٹی کی شعبہ نباتات کی تحقیق گاہ اور شعبہ سے متعلق باٹنیکل گارڈن ایک قلع میں ہے جسے علیگڈھ قلع یا بونا چور کا قلع کہتے ہیں۔ یہ قلع کئی کلو میٹر میں پھیلا ہوا ہے۔یہ واحد یونیورسٹی ہے جسکے پاس اتنا وسیع باٹنیکل گارڈن ہے۔پہلی بار یہ قلع ابراہیم لودی کے دورِ حکومت میں ۱۵۲۵ئ میں تعمیر کرایا گیا تھا۔ اسکے بعد مہاراجہ سورج مل کے کمانڈنگ افسر کے ذریعہ ۱۷۵۳ئ مین اسکی تین بار توسیع کرائی گئی۔
انجینئرنگ کا شام کا جز وقتی کورس:۔ یونیورسٹی میں نوکری پیشہ افراد کے لئے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کی سہولت بھی ہے۔ انجینئرنگ میں ڈپلوما کرنے کے بعد جو افراد نوکری میں چلے جاتے ہیں اور آگے اپنی پڑھائی بھی جاری رکھنا چاہتے ہیںوہ انجینئرنگ کالج میں شام کو ہونے والی کلاسز میں داخلہ لیکر انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر سکتے ہیں۔
مسلم یونیورسٹی کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہاں تعلیم حاصل کرنے کا خرچ کانوینٹ اسکول کی پرئمری کلاس سے بھی ہمیشہ کم رہا ہے۔ یونیورسٹی کے قیام کے ۵۰ سال بعد یعنی ۱۹۷۰ ئٔ میں جب میں وہاں انجینئرنگ کا طالب علم تھاتب انجینئرنگ کے کورس کے لئے مختلف مد میں کُل ملا کر اوسط ۸۰۰روپے سالانہ جمع ہوتے تھے۔ جس میںہا سٹل میں کھانے، ناشتہ اور کمرے کے لئے ۶۰۰ روپے سالانہ بھی شامل تھے ۔جبکہ دوسرے اسکول و کالجوں میں اس سے کئی گنا فیس جاتی تھی۔اب جبکہ یونیورسٹی کو ۱۰۰ سال ہو گئے ہیں،میڈیکل میں داخلہ کے وقت مختلف مد میں کُل فیس ۴۴۲۴۰ روپے ہے۔ اسکے بعد ۲۴۰۰۰ روپے سالانہ جمع ہوتے ہیں۔ انجینئرنگ کالج میں داخلہ کے وقت مختلف مد میں کُل فیس ۱۸۳۴۰ روپے ہے۔اسکے بعد مختلف مد میں ۱۵۷۰۰ روپے سالانہ جمع ہوتے ہیں۔یونیورسٹی میں دوسرے مضامین میں گریجوئیشن اور پوسٹ گریجوئیشن کرنے والے طلبہ کے لئے اوسط داخلہ فیس ۹۰۰۰ روپے ہے ۔ اسکے بعد مختلف مد میں سالانہ فیس ۴۵۰۰ روپے ہ داخل ہوتی ہے۔اسکے برعکس اچھے کانوینٹ اسکول میں نرسری اور کے۔جی۔ کے بچوں کی اوسط داخلہ فیس ۳۰۰۰۰ روپے ہے اور سالانہ اوسط فیس ۷۰۰۰۰ روپے تک جاتی ہے۔اسکے علاوہ یونیورسٹی میں طلبہ کو مختلف لائبریز سے کتابیں حاصل کر نے کی اتنی سہولیات مہیّا ہیں کہ انہیں بازار سے کوئی کتاب خریدنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ہے ۔
یونیورسٹی کے بارے میں لکھتے وقت اگر بدرالدین طیّب جی کا ذکر نہ کیا جائے تو بات مکمل نہیں ہوگی۔طیّب جی فروری ۱۹۶۲ئ سے فروری ۱۹۶۵ئ تک یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔وہ موٹر سائکل پر یونیورسٹی کا دورہ کرتے ہوئے ہاسٹل میں جاکر طلبہ سے ملاقات کرتے تھے۔اکثر شام کو طلبہ کے ساتھ ٹینِس کھیلنے آجاتے تھے۔ وہ ہر دل عزیز تھے۔ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ جب وہ وائس چانسلر کے عہدے سے سبکدوش ہوکر دہلی واپس جارہے تھے اُس وقت انہیں رخصت کرنے کے لئے تقریباً ۳۰۰۰ طلبہ اسٹیشن گئے تھے۔
اس یونیورسٹی نے ملک کو گہرِنایاب فرزند عطا کئے ہیںجنہوں نے ملک اور غیر ممالک میں ترقّی کی راہیں ہموار کی ہیں۔ایسے افراد کی لمبی فہرست ہے مگر یہاںصرف ان شخصیات کے نام دئے جا رہے ہیںجنہوں نے اپنے میدان میں کارِ نمایاں انجام دئے ہیں۔
سیاست اور قانون۔ ڈاکٹر ذاکر حسین(صدر ہند)، حامد انصاری(نائب صدر ہند) ،ایوب خان(صدر پاکستان)،لیاقت علی خان (وزیر اعظم پاکستان) فضل الٰہی چودھری(صدر پاکستان)،محمد منصور علی(وزیر اعظم بنگلہ دیش) ،ہمایوں رشید چودھری (صدر اقوام متحدہ اور وزیر خارجہ بنگلہ دیش)، عارف محمد خان( مرکزی وزیر اورحال گورنر کیرالہ)،محسنہ قدوائی(مرکزی وزیراور حال رکن پارلیامینٹ)، شیخ عبداللہ (وزیر اعلی جموں و کشمیر)مفتی محمد سعید(وزیر اعلی جموں و کشمیر)، صاحب سنگھ ورما(وزیر اعلی دہلی)، سیّدہ انورا تیمور (وزیر اعلی آسام) ،رفیع احمد قدوائی(مرکزی وزیر) ، ڈاکٹر ضیاالدین (رکن برٹش انڈیا پارلیامینٹ) ، رام پرکاش سیٹھ( جج سپریم کورٹ)، سیّد مرتضیٰ فضل علی( جج سپریم کورٹ) ظفریاب جیلانی (اڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل،اتّر پردیش)، بہرالاسلام (جج سپریم کورٹ)فن، ادب اور صحافت:۔علی سردار جعفری،جاوید اختر،اسرارالحق مجاز،بشیر بدر اور راہی معصوم رضا(شاعرو مصنّف) سلمہ صدّیقی، سعادت حسن منٹو،پدم بھوشن راجہ راؤاور اصغر وجاہت (مصنّف)، پدم شری ریحانہ خاتون اور آزرمی دُخت صفوی (فارسی ادب)،خواجہ احمد عبّاس( مصنّف، ہدایت کار اور صحافی) پدم بھوشن اکشے کمار جین (صحافی)مظفر علی،انو بھؤ سنگھ اور کے۔ آصف ( فلم ہدا یت کا ر) ، سعید جعفری اور نصیر الدین شاہ (فلم اداکار)مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلر :۔ڈاکٹر ضیاالدین اور عبدالعلیم(علیگڈھ مسلم یونیورسٹی)، پروفیسر مونِس رضا(دہلی یونیورسٹی) ، مسعود حسن خان اورطلعت احمد(جامہ ملیہ اسلامیہ)، مسعود چودھری اور جاوید مسّرت(بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی) اور انیس انصاری (عربی فارسی یونیورسٹی اور اڈیشنل چیف سیکریٹری ،اتر پردیش)اسلامی مطالعہ اور تاریخ :۔ پدم شری اخترالواسع،پروفیسر عرفان حبیب اور ایشوری پرشاد(تاریخ)کھیل کے میدان میں:۔ دھیان چند، گووندہ، جوگیندر سنگھ، انعام الرحمن اور ظفر اقبال(ہاکی)سیّد مشتاق علی اور لالہ امرناتھ (کرکٹ)، غوث محمد (ٹینس) اور انّو راج سنگھ (شوٹنگ)
رابطہ۔ 91-9450931862
email- manzar_zaidi1512@yahoo.com
