ابو ایمن۔۔۔۔۔۔۔۔شیخ پورہ
برسات کی رات تھی۔رات بھر زوروں کی بارش ہوی اور صبح اکثر لوگ گھروں میں ہی تشریف رکھے ہوے تھے۔مگر کچھ لوگ اپنی مجبوریوں کے سبب اسی برستی بارش میں اپنی اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں تھے۔ان ہی مجبور لوگوں میں ایک میں بھی تھا۔میں چونکہ طفل مکتب تھا لہٰذا مکتب میری منزل تھی۔دو ایک کتابیں ہاتھ میں لیے میں بس سٹاپ کی طرف جا رہا تھا۔دو پانچ منٹ میں بس سٹاپ تک پہنچا اور وہاں بس کا انتظار کرنے لگا۔وہاں کچھ اور سواریاں بھی بس کا انتظار کر رہی تھیں۔بارش چونکہ زوروں سے ہو رہی تھی اسلیے سب سواریاں ایک دکان پر بیٹھ کر گاڑی کا انتظار کرنے لگیں۔دس پندرہ منٹ انتظار کرنے کے بعد گاڑی کی آواز سنائی دی۔آواز سنتے ہی سب سواریاں دکان سے نیچے آگئیں۔اتنے میں بس آگئی۔ہم چونکہ بس سٹاپ پر ہی کھڑے تھے اور یہاں بس روز رکتی تھی۔اس لیے کسی نے بھی گاڑی کو رکنے کا اشارہ ہی نہ کیا۔مگر یہ دیکھ کر سب دھنگ رہ گیے کہ گاڑی سٹاپ پر رکی ہی نہیں۔بس ہم سے دور ہونے ہی والی تھی کہ سواریوں نے ”رک جا رک جا“ کے نعرے لگانے شروع کیے۔مگر گاڑی پھر بھی نہ رکی اور کیوں نہیں رکی یہ کسی بھی سواری کی سمجھ میں نہیں آیا۔خیر چند سواریوں نے رک جا رک جا کے الفاظ پکارتے ہوے اور سیٹیاں مارتے ہوے بس کے پیچھے دوڑنا شروع کیا۔ان میں سے کوئی دس قدم دوڑ کر نا امیدی کے عالم میں وہیں سڑک پر کھڑا رہ گیا۔کوئی بیس قدم دوڑ کر ڈرائیور کے نام گالیاں مارتا ہوا واپس آگیا اور کوئی پچیس قدم دوڑ کر بس کے نام نہ جانے کیا کیا کہتا ہوا تھکا ہارا واپس مڑ گیا۔مگر میں اور میرے ساتھ دو ایک سواریاں ایسی تھیں جو دوڑتے گیے یہاں تک کہ ہم بس کی پچھلی سیڑھی چھونے میں کامیاب ہوے۔کتابوں کو مہنہ میں لیے میں اب سیڑھی پر ہی کھڑا رہا۔بارش رکنے کا نام ہی نہ لیتی تھی اس لیے میں نے کتابیں اپنی پینٹ کی بیلٹ کے اندر چھپا لیں اور آہستہ آہستہ پچھلی کھڑکی کی طرف بڑھنے لگا یہاں تک کہ میں کھڑکی کا ہینڈل ہاتھ میں لینے میں کامیاب ہوگیا۔اپنے جسم کو دو پانچ منٹ آرام دے کر میں نے کھڑکی کو کھولنا چاہا کیونکہ بارش سے نہ صرف میری کتابیں اور کپڑے بلکہ جسم بھی گیلا ہو چکا تھا۔جوں ہی میں نے کھڑکی کھولی تو دیکھا کہ بس کی پچھلی سیٹ پر کچھ فوجی اہلکار بیٹھے تھے۔اب میں جان گیا کہ بس بس سٹاپ پر کیوں نہیں رکی۔خیر میں نے جوں ہی بس کے اندر قدم رکھنا چاہا تو کنڈیکٹر کی سیٹ پر بیٹھا فوجی بولا۔
”کھڑکی بند کرو اور چھت پر بیٹھو“
”وہاں بارش ہو رہی ہے سر“ میں نے عاجزی کے ساتھ بولا۔
”یہاں نہیں بیٹھنا“ اس نے غصے کے ساتھ کہا۔
”سر ہمیں یہاں ہی بیٹھنے دو ورنہ ہماری کتابیں گیلی ہو جاینگی“ میں نے پھر منانے کی کوشش کی۔
”نہیں نہیں“ اس نے تھوڑا زور دے کر کہا۔
”آخر کیوں نہیں سر“ میں نے طفلانہ انداز میں کہا۔
میرا یہ کہنا تھا کہ اس نے ایک زور دار طمانچہ میرے گال پر مارا ۔میں بے تحاشا چیخ اٹھا اور اس چیخ کے ساتھ ہی بسترے سے باہر آگیا اور میری آنکھ کھل گئی۔آج تک اس خواب کو نہیں بھولا ہوں۔
����
