نام تصنیف ۔۔اقبالؒ کی شاعری کے تخلیقی و فکری زاویے 210

نشیلی ادویات کا استعمال اور جنتِ بے نظیر‎

تحریر: سبزار احمدبٹ

ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبت زاغ

دنیا کے تقریباً تمام مذاہب نے نشیلی ادویات کے استعمال اور کاروبار سے ممانیت کی ہے اسلام نے تو ہر نشہ دلانے والی شیے کو حرام قرار دیا ہے اسلام ہر مسلمان کو پاکباز، راست باز، با حیا اور نیک اور صالح دیکھنا چاہتا ہے جبکہ شراب یا کوئی بھی نشیلی شیے انسان کے ہوش اڑا دیتی ہے اور انسان حواس باختہ ہو کر مختلف قسم کی غلطیوں کا مرتکب ہو جاتاہے اتنا ہی نہیں نشیلی ادوایات انسان کو بے حیا، بزدل بے عقل اور رزیل بنا دیتی ہیں نشیلی ادوایات میں سب سے مشہور نام شراب کا ہے جسے عربی میں خمر کہتے ہیں جس کے معنی ہیں ڈھانپنا یعنی پردہ ڈالنا شراب عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور انسان کے حوش و حواس رخصت ہو جاتے ہیں اور انسان اپنی انسانی خصلت کے دائرے سے نکل کر وحشی بن جاتا یے ایسے میں انسان سچ اور جھوٹ، حق اور باطل یہاں تک کہ رشتوں کی پہچان کھو دیتا ہے شراب سے انسان اپنی صلاحیت کھو دیتا ہے اور اللہ کے احکام کی تکمیل کے بجائے اللہ رب العزت سے روگردانی کرتا ہے اور اللہ رب العزت کا باغی بن بیٹھتا ہے اسلام نے شراب پینے اور پلانے والے کے ساتھ ساتھ شراب سے منسلک دس لوگوں پر لعنت کی ہے چاہیے وہ کسی بھی طرح سے اس کاروبار سے جڑے ہوئے ہوں یا کسی بھی طرح سے اس کاروبار کے فروغ میں مددگار ثابت ہو رہے ہوں اس کا کاروبار کرنے والوں کی کمائی بھی حرام ہے شراب کی بہت کم مقدار چاہے دوا کے لیے ہی کیوں نہ استعمال ہو حرام اور قطعاً حرام ہے سائنس کی مانیں تو شراب بہت بری اور خطرناک شیے ہے اس سے انسان کے گردے اور پھیپھڑے ناکارہ ہو جاتے ہیں اور انسان بزدل بن جاتا ہے کوئی انسان چاہیے کسی بھی مذہب کو ماننے والا ہو شراب اور باقی نشیلی ادویات سے دور رہنے میں ہی اس کی عافیت اور بھلائی ہے کوئی بھی نشیلی شے کسی بھی مرض کی دوا نہیں ہے بلکہ نشیلی ادویات صرف نقصانات ہی نقصانات کی حامل ہیں کیونکہ جسے پیارے نبی کریم صلی الله عليه وسلم نے حرام قرار دیا وہ چیز کسی بھی صورت میں فایدہ مند یا دوا نہیں ہو سکتی ہے لہذا جو لوگ نشیلی ادویات کا استعمال بطور دوا لینے کا جواز پیش کرتے ہیں ان کا یہ دعوای بالکل فضول اور بے بنیاد ہے قرآن کریم میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔
اے ایمان والو!شراب اور جوا اور بت اور پانسے(ہار جیت؛کے تیر) ناپاک ہی ہیں، شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ، شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوادے،شراب اور جوئے میں اور تمھیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔۔۔۔(سورۂ مآئدہ:آیت۹۰
حدیث شریف میں فرمایا گیا۔۔ہر پینے والی چیز جو نشہ لائے وہ حرام ہے۔۔
ایک اور حدیث میں حضور علیہ الصلاۃوالسلام نے فرمایا کہ جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ لائے تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے۔
مذکورہ آیات اور احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شراب مکمل طور پر حرام ہے اس لیے پوری دنیا خصوصاً مسلمان نوجوانوں کو شراب سے پرہیز کرنا لیکن بے حد افسوس کی بات ہے کہ آئے دن وادی کشمیر کے کسی نہ کسی خطے سے شراب اور باقی نشیلی ادویات کے استعمال کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں حال ہی میں ایسی ہی ایک افسوسناک خبر جنوبی کشمیر کے ایک ضلع سے موصول ہوئی جہاں سوشل میڈیا کے زریعے ایک ایسی جگہ کا پتہ چلا ہے جہاں نوجوانوں کے مختلف نشیلی ادویات کے استعال کرنے کا انکشاف ہوا ہے سوشل میڈیا پر لوگ رو رو کر انتظامیہ اور علمائے وقت سے گزارش کر رہیے تھے کہ اس وبا پر قابو پایا جائے صرف اسی ایک مخصوص ضلع کی بات نہیں ہے بلکہ کشمیر کے ہر ضلع کی تقریباً ایسی ہی تصویر ہے یہ وہی کشمیر ہے جسے کبھی ُ پِر وار، اور کبھی اولیاوں کی سر زمین ہونے کا شرف حاصل تھا اور جہاں کسی نشہ آور چیز کا نام لینا بھی گناہِ کبیرہ مانا جاتا تھا لیکن اب آئے دن وادی کشمیر سے ایسے معاملات سامنے آ رہے ہیں کہ وادی کا ہر ذی شعور شخص اسی سوچ میں گم ہو جاتا ہے کہ آخر ہماری نوجوان نسل کو کیا ہو گیا ہے؟ اقبال کے اس شاہین کو کس کی نظر لگ گئی؟ ہمارے اقدار کا جنازہ کیوں نکلتا جارہا ہے؟ کہ ہمارا نوجوان نشیلی ادویات کا عادی ہوتا جا رہا ہے یہ ایک ایسی بیماری ہے کہ جسے ایک بار لگ جائے وہ اس سے باہر نہیں نکل پاتا ہے بلکہ اس دلدل میں دنستا جا رہا ہے یہ لت انسان کو بلکہ معاشرے کو سماجی،اقتصادی، اور شعوری طور پر مفلوج بنا دیتی ہے اس وبا سے سماج میں جرائم کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے منشیات میں ملوث نوجوان یہ نشیلی ادویات حاصل کرنے کے لیے چوری کے علاوہ بہت سارے جرائم میں مبتلا ہوجاتے ہیں اس طرح سے ایک اچھا خاصا معاشرہ تباہ و برباد ہو جاتا ہے ایسے معاشرے میں پھر رہنا تو کیا سانس لینا بھی دشوار ہوجاتا ہے اس لیے میں جموں و کشمیر کے عوام سے خاص کر نوجوانوں سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتا ہوں کہ خدا کے لیے اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت برباد نہ کریں اپنے آپ کو سماج کا بدنما داغ نہیں بلکہ مشعلِ راہ بنانے کی کوشش کریں نوجوانوں پر قوم کا بھیڑا پار لگانے کی ذمہ داری ہے اس لیے وہ اس بدعت سے دور رہیں اور باقی نوجوانوں کو بھی اس خباثت سے دور رکھنے کی کوشش کریں تاکہ ہماری نئی پود بھی اس لعنت سے دور رہے والدین سے بھی استدعا ہے کہ اپنے بچوں کو اس دلدل سے بچائیں اور والدین ہونے کا حق ادا کریں اپنے بچوں کی سنگت اور ان کے چال چلن پر نظر رکھیں خدانخواستہ ایسی کوئی بھی شکایت ہو تو ایسے افراد کو ہسپتال پہنچانے میں دیر نہ کریں یا ایسے کسی سینٹر پر لے جائیں جہاں نشہ چھڑانے کی مختلف ترکیبیں سکھائی جاتی ہیں جموں و کشمیر میں ایسے بہت سے مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں پر نشیلی ادویات کا استعمال کرنے والے لوگوں کو نشہ چھڑانے میں مدد کی جاتی ہے ایسے لوگ رحم کے قابل ہیں جو اس مصیبت میں پڑ گئے ہوں نشہ چھڑانے میں ان کی مدد کر لینی چاہیے تاکہ جموں وکشمیر منشیات سے چھٹکارا پا سکے اس میں کوئی شک نہیں کہ منشیات کا کاروبار عالمی سطح پر بہت تیزی سے ابھرتا جا رہا ہے اور اس پر قابو پانے کی سخت ضرورت ہے عالمی اداروں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس وبا کو قابو کرنے کے لیے سخت سے سخت اقدامات اٹھائیں اور اس زہر کا کاروبار کرنے والوں کو ایسی سزا دی جائے جو سب کے لیے نمونے عبرت ہو لیکن ہم سب کی اجتماعی اور انفرادی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ ہم اس بدعت سے نمٹنے کے لیے اپنا حق ادا کریں ورہ ہم اللہ کی نافرمانی کے مرتکب ہو جائیں گے اور اللہ ہم سے ناراض ہو جائیں گے وہ ناراضگی پھر عزاب الٰہی کی وجہ بن جائے گی اگر کسی نوجوان سے ایسی حماقت ہوئی ہو کہ اس نے خدانخواستہ شراب یا کسی اور نشیلی شے کا استعمال کیا ہو یا کر رہا ہو تو فوراً اللہ کے حضور معافی طلب کر لینی چاہیے اللہ بے شک رحیم اور معاف کرنے والا ہے ہماری وادی اس وقت ایسے حالات سےیہ ہمارے لیے امتحان کا وقت ہے ہمیں ثابت قدم رہنا ہے اور اپنے اللہ اور اس کے رسول اکرم کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ہے اور اس بدعت سے دور رہنا ہو گا تاکہ آنے والی نسلوں کو ہم پر ناز ہو کہ ان کے اجداد اس امتحان میں سرخرو ہو گیے ایسے موقع پر ہمیں ڈگمگانا نہیں ہے ورنہ ہمارے گناہوں کا کفارہ ہماری نئی پود کو بھگتنا پڑے گا وقت کے آئمہ کرام کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ لوگوں کو منشیات کے مضر اثرات پر بات کرنے کے علاوہ اس حوالے سے اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کریں بصورت ديگر ہم سب نہ ہی ایک دوسرے سے اور نہ ہی خود سے آنکھ ملانے کے قابل ہونگے کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر بہت دور ہو جائے بقولِ شاعر
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی اور صدیوں نے سزا پائی

سبزار احمد بٹ۔۔۔اویل نورآباد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں