خاموش رفیق
نہ سوز دل کبھی نہ آرام جان ملا
جب ملا بھی کچھ تو بس الزام ملا
وہ سکوت شب آہستہ سکتہ بن گیا
جس میں نہ اُن سے کوئی پیغام ملا
رہی ہر دم کشتی میری در اضطراب
وفا کا مجھے بھی کیا خوب انجام ملا
ہوئے ہیں کمر بستہ غم مجھے ڈھانے کو
وہ اور تھے جنہیں ساقی سے جام ملا
کوئی ہمدم نہیں اس شہر ویران میں
اب اپنا نام بھی ملا تو وہ بھی بدنام ملا
تلاطُم اُٹھ گیا تھا بزم میں جب ہم آئے
گُل سمجھے تھے ہم اُن کو جنکو گُل اندام ملا
آوردہ من ہمیشہ سر گوشیوں میں خاموشؔ
اس کار سازِ دنیا میں ہمیشہ ناکام ملا
