طاق میں روشن دیا سا ہے یہاں 125

نشہ کیسا شراب میں ہے

بلال صہبا

نشہ یہ کیسا شراب میں ہے
انگور میں ہے عناب میں ہے

اسی سے ساغر بھی جھومتے ہیں
یہی تو بجتا رباب میں ہے

لکھا ہے جو بھی غزل میں ہم نے
عیاں وہ تیرے شباب میں ہے

طہورِ جنت بتا رہا ہے
حرام سمجھے سراب میں ہے

قلندروں نے جو پی رکھی ہے
کھلے وہ ماخذ جناب میں ہے

چکھو تو زاہد ملے گی تم کو
مہک کہ پیدا گلاب میں ہے

شراب وحدت دکھائے صہبا
چھپا بھی جو کچھ حجاب میں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں