بلال صہبا
نشہ یہ کیسا شراب میں ہے
انگور میں ہے عناب میں ہے
اسی سے ساغر بھی جھومتے ہیں
یہی تو بجتا رباب میں ہے
لکھا ہے جو بھی غزل میں ہم نے
عیاں وہ تیرے شباب میں ہے
طہورِ جنت بتا رہا ہے
حرام سمجھے سراب میں ہے
قلندروں نے جو پی رکھی ہے
کھلے وہ ماخذ جناب میں ہے
چکھو تو زاہد ملے گی تم کو
مہک کہ پیدا گلاب میں ہے
شراب وحدت دکھائے صہبا
چھپا بھی جو کچھ حجاب میں ہے
