نام تصنیف ۔۔اقبالؒ کی شاعری کے تخلیقی و فکری زاویے 942

ادب اور سماج کا آپسی تعلق

تحریر: سبزار احمدبٹ

ادب اور سماج کا آپس میں گہرا تعلق ہے ادب روز اول سے ہی نہ صرف سماج کی بہتری کے لیے کوشاں ہے بلکہ ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے ادب سماج کی عکاسی کرتا ہے ادب چاہے کسی بھی زبان کا ہو دراصل یہ اس سماج کا آئینہ ہوتا ہے جس میں یہ پروان چڑھا ہو جس طرح کا سماج ہو گا اسی طرح کا ادب بھی تخلیق ہوتا ہے سماج میں جو بھی پریشانیاں، مشکلات اور برائیاں ہوتی ہیں وہ سب ادب کا حصہ بن جاتی ہیں یوں تو اردو ادب کے دو حصے ہیں نثر اور نظم. حصہ نظم میں غزل، قصیدہ، مرثیہ ،رباعی وغیرہ شامل ہیں اس حصے یعنی شاعری کے زریعے بڑے بڑے پیغامات عوام تک پہنچائے گیے اور شاعری کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ زمان و مکان سے بہت اوپر ہوتی ہے اور شاعری کبھی پرانی نہیں ہوتی بلکہ ہر دور میں شاعری کی بازگشت سنائی دیتی ہے مثلاً موجودہ دور میں بھی سماج کے مختلف مسائل کے حل کے لیے اقبال اور جوش کی شاعری سے کام لیا جاتا ہے لیکن زیادہ تر ادب نثر میں ہی تخلیق کیا جاتا ہے جس میں داستان، افسانہ، ناول، ڈرامہ اور مضامین وغیرہ شامل ہیں کیونکہ ادب کے اس حصے میں کھل کر بات ہوتی ہے اردو ادب کی اگر بات کریں گے تو کسی زمانے میں اردو ادب برائے ادب ہوا کرتا تھا لیکن ترقی پسند تحریک نے اسے ادب برائے زندگی بنا دیا اس کے بعد اردو ادب محض دل بہلانے کا زریع نہیں رہا نہ ہی حسن و عشق اردو ادب کے موضوعات رہے ادب دراصل لافانی ہوتا ہے ادب کے سامنے تلواریں اور بڑے سے بڑے ہتھیار بھی تھرتھراتے ہیں ادب کو یہ شرف حاصل ہے کہ دنیا میںجو انقلاب رونما ہوئے ہیں چاہے انقلاب روس ہو چین ہو یا کوئی اور انقلاب ہو یہ انقلابات ادب کی وجہ سے ہی رونما ہوئے ہیں یہاں تک کہ مختلف ممالک کو ادب کی بدولت ہی آزادی نصیب ہوئی ہے ادب سوئے ہوئے عوام کو جگانے کا کام انجام دیتا ہے بشرطیکہ کہ ادب میں وہ جان اور شدت ہو ادب کے زریعے جو پیغام دیا جاتا ہے وہ دلوں میں اتر جاتا ہے کیونکہ دراصل ادب تخلیق کرتے وقت ادیب نے دل اور احساس سے کام لیا یوتا ہے اور ادب میں زندگی کی حقیقتوں کو پیش کیا جاتا ہے ادیب بھی دراصل اسی سماج کا فرد ہوتا ہے لیکن ادیب حساس ذہنیت کا مالک ہوتا ہے اس کا دل بہت ہی نازک اور گداز ہوتا ہے جہاں کہیں بھی کوئی برائی یا کوئی حساس معاملہ ہوتا ہوا دیکھ لیتا ہے فوراً قلمبند کرتا ہے ادب میں جو کردار پیش کیے جاتے ہیں وہ دراصل اسی سماج کے کردار ہوتے ہیں ادب سماجی برائیوں کو دلچسپ انداز میں سماج کے سامنے رکھ دیتا ہے اور اس طرح سے سماج کو سدھرنے کا موقع مل جاتا ہے اس طرح سے ادب قلم کے زریعے سماج سدھارنے کا بہت بڑا کام انجام دیتا ہے جو تلوار یا بندوق سے انجام نہیں دیا جا سکتا ہے مثال کے طور پر موجودہ دور میں ہر طرف رشوت خوری، ظلم و ستم، بد اخلاقی، بد امنی، اور بد دیانتی کا دور دورہ ہے اور یہی سب کچھ موجودہ دور کے ادب میں نظر آتا ہے ادب میں حقیقت بیان کی جاتی ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی بھی سماج یا معاشرے کے ادب کو پڑھ کر اس سماج یا معاشرے کی اصلیت کا پتہ لگایا جا سکتا ہے ادیب کا غیر جانبدار، منصفانہ اور حقیقت پسندانہ ہونا نہایت ضروری ہے ورنہ ادب ایک کھیل بن کر رہ جاتا ہے کبھی سماج ادب سے چڑ جاتا ہے اور اسے ادب برداشت نہیں ہوتا ہے دراصل وہ سماج خود کو برداشت نہیں کر پاتا ہے کیونکہ ادیب کچھ اور نہیں بلکہ سماج کو اسی کا آئینہ دکھاتا ہے اور سماج اپنے چہرے کو دیکھ کر چڑ جاتا ہے
ادیب سوچوں کے سمندر میں ڈوب کر موتی تلاش کرتا ہے اور انہیں تراش کر اور الفاظ کا جامہ پہنا کر عوام کے سامنے لا کر رکھ دیتا ہے ادبا سماج کا اعلیٰ طبقہ گردانا جاتا ہے کیونکہ ادیب وہ سب دیکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے جو ایک عام انسان نہیں کر پاتا ہے ادیب کو سماج کی تیسری آنکھ تصور کیا جاتا ہے کہی پر بھی کچھ ہو ادیب کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اسی کے ساتھ ہوا ہو بقولِ شاعر
خنجر کہیں پہ بھی چلے تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
دیکھا جائے تو ادب تاریخ کا کام انجام دیتا ہے اس زمانے کے حالات پتہ چلتے ہیں جس زمانے میں ادب تخلیق کیا گیا ہو مثلاً پریم چند کے افسانوں کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ زمانہ ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اس زمانے میں کسان اور گاؤں دیہات کے لوگ ظلم و ستم کے شکار تھے اور یہی سب کچھ ان کے افسانوں اور ناولوں میں پڑھنے کو مل رہا ہےکہا جاتا ہے کہ مشہور افسانہ نگار منٹو سے کہا گیا تھا کہ آپ ایسا کیوں لکھتے ہیں جس میں فحاشی نظر آ رہی ہے منٹو نے جواب دیا تھا کہ آپ ایسا کرنا چھوڑ دیجئے میں ایسا لکھنا بند کر دوں گا آپ اچھا کریں گے میں اچھا لکھوں گا اور ادیب کا کام سچائی بیان کرنا ہوتا ہے ادیب کبھی کالے کو سفید اور سفید کو کالا نہیں کہتا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج تک اردو ادب میں جو داستان، ناولیں، افسانے ،یا ڈرامے تخلیق کئے گئے ہیں وہ اپنے زمانے کی جیتی جاگتی تصویر پیش کر رہے ہیں اس ضمن میں کشمیر کی مثال دی جا سکتی ہے پچھلے کئی دہائیوں سے کشمیر میں جو بد امنی یا شورش ذدہ حالات رہے ان حالات کا اثر یہاں کے ادب پر واضع طور پر دیکھا جاسکتا ہے کشمیری افسانہ نگاروں نے یہاں کے حالات کو جیا ہے ان سے مقابلہ کیا ہے لہذا انہوں نے ان ہی ستم رسیدہ حالات کو اپنے افسانوں کی زینت بنایا ہے نمونے کے طور پر نور شاہ، عمر مجید، دیپک بدکی، دیپک کنول، جیسے افسانہ نگاروں کا ذکر کیا جا سکتا ہے کشمیر کے یہ حالات یہاں کے شاعروں نے بھی اپنی شاعری میں پیش کیے ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کشمیر میں تخلیق کیے گئے ادب کا بغور جائزہ لیں گے تو یہاں کے شورش زدہ حالات، بد امنی،اور بے چینی ہماری آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے
ادب کا ایک بڑا کام یہ ہے کہ ادب میں علم کا خزانہ محفوظ کر کے آنے والی نسلوں تک پہنچایا جاتا ہے اور کسی بھی زبان کا ادب اس زبان کا اور اس زبان میں موجود علم و ادب کا محافظ ہوتا ہے کیونکہ ادب زبان اور اس میں موجود علم کو نئی نسل تک پہنچانے کا زریع ہوتا ہے ادب بچوں کی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے بچوں کے لیے جو ادب تخلیق کیا جاتا ہے وہ بچوں کی اخلاق سنوارنے میں مدد کرتا ہے موجودہ دور میں بھی ایسے ادیبوں اور شاعروں کی کمی نہیں ہے جو بچوں کے لیے لکھتے ہیں لیکن اس عمل میں مزید سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ بچوں میں اخلاقی گراوٹ کو کسی حد تک کم کیا جائے کیونکہ جہاں مختلف انقلابات لانے میں اور کسی بھی سماج کو بہتر بنانے کا سہرا ادب کے سر باندھا جاتا ہے وہاں اگر موجودہ نسل میں پائی جانے والی اخلاقی گراوٹ میں ادب اور ادیبوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے تو بیجا نہ گا.
آجکل دنیا کرونا جیسی وبائی بیماری سے لڑ رہا ہے موجودہ دور میں شاعر، ادیب، افسانہ نگار، ناول نگار بلکہ مختلف اصناف میں لکھنے والے حضرات اس وبائی بیماری کا ذکر شعروادب میں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شعوروادب پر حالات کا بہت گہرا اثر پرتا یے اور کوئی بھی شاعر یا ادیب اپنے قلم کو ارد گرد پیش آنے والے حالات و واقعات سے دور نہیں رکھ سکتا ہے کسی بھی خطے یا دور کے ادب کا مطالعہ کر کے اس خطے اور اس دور کے حالات و واقعات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں