ڈیسک 92

”سب ٹھیک ٹھاک ہے“‎

ابو ایمن۔۔۔۔۔۔شیخ پورہ

 

کریم جو کا شمار شہر کے ریسوں میں ہوتا تھا۔ہوتا بھی کیوں نہیں خدا نے انہیں دولت سے مالا مال جو کیا تھا۔رہنے کے لیے عالی شان بنگلہ،سواری کے لیے عمدہ گاڑی ایک ہی نہیں بلکہ گھر کے تقریباً ہر فرد کے پاس اپنی گاڑی تھی۔زمین و جائیداد اتنی کہ گھر کے افراد کو سب جگہوں تک جانے کی فرصت ہی نہیں ملتی تھی۔کارخانے اتنے کہ ان میں کام کررہے مزدوروں کی گنتی بھی معلوم نہیں تھی۔اتنی ساری دولت کا مالک کریم جو دن بہ دن ترقی کرتا ہی جاتا تھا۔مگر مادی ترقی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے غرور و تکبّر میں بھی ترقی کر رہا تھا۔اسے اپنے کارخانوں ،اپنی زمین و جائیداد اور گاڑیوں پر بڑا ناز ہونے لگا۔
کریم جو کا ایک اکلوتا بیٹا تھا۔اس کی شادی کے لیے اس نے دور ایک گائں کے غریب گھرانے کا انتخاب کر لیا۔لڑکی اگرچہ مالی اعتبار سے غریب ہی تھی مگر اخلاقی اعتبار سے بہت امیر تھی۔وہ شرمیلی اور با حیا لڑکی تھی۔لڑکی کے والدین نے اپنی حثیت پر نظر ڈال کر کریم جو کو رشتہ دینے سے انکار کیا۔لیکن کریم جو چونکہ اثرورسوخ والا آدمی تھا اس لیے انہیں سر تسلیم خم ہی کرنا پڑا۔یوں رشتہ طے ہوا اور کریم جو کے اس اکلوتے بیٹے ”بٹو“ کی شادی گائوں کی اس با حیا لڑکی ”آمنہ“ سے ہو گئی۔شادی کے بعد چند سال آمنہ بہت خوش تھی۔اسے چار سو عیش و آرام ہی مہیا تھا۔آمنہ اسی آرام سے لطف اندوز ہو رہی تھی کہ حالات نے اچانک کروٹ بدلی۔بٹو اور کریم جو کے ساتھ ساتھ سبھی افراد خانہ نے آمنہ کو ستانا شروع کیا۔اسے بات بات پر ڈانٹ کھانی پڑھتی تھی۔وہ بہت کمزور ہو گئی۔اس نے معاملے کو کافی حد تک چھپانا چاہا۔وہ اندر ہی اندر یہ سارے ستم سہ لیتی تھی۔مگر اس کے چہرے کا رنگ دیکھ کر میکے والے سب سمجھ گیے۔انہوں نے بٹو اور کریم جو کو سمجھانے کی کوشش کی مگر بے سود۔کیونکہ دونوں باپ بیٹے دولت کے نشے سے چور تھے۔وہ ٹس سے مس نہ ہوے۔
یوں وقت گذرتا گیا۔سسرال والوں کے ظلم و ستم سہتے سہتے آمنہ نفسیاتی بیماری کا شکار ہو گئی۔اسے کئی دفعہ جسمانی تشدد کا بھی شکار ہونا پڑا۔آمنہ کے والدین نے کئی بار شہر کے چند ذمہ داران سے بھی اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی۔انہوں نے کوشش بھی کی مگر کریم جو کی اس بات نے کہ ”یہ ہمارے گھر کا اندرونی معاملہ ہے“ انہیں خاموش ہونے پر مجبور کرلیا۔ادھر آمنہ بہت سارے تکالیف کا شکار ہو گئی۔وہ بہت کمزور ہو گئی اتنی کمزور کہ اس کی زندگی کے بارے میں خدشات ہونے لگے۔اس کے والدین نے اب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا کر بٹو اور کریم جو کے خلاف یہ شکایت درج کرائی کہ انہوں نے ان کی بیٹی کو اذیتیں دے دے کر بیمار بنادیا اور اب اس کا علاج بھی نہیں کراتے۔گھر کی زمین بیچ کر انہوں نے وکلا کی فیس جمع کی۔دو چار پیشیوں کے بعد جج صاحب نے بٹو کے نام یہ حکم نامہ جاری کیا کہ اسے کسی اچھے ڈاکٹر سے اپنی بیوی کا علاج کرانا چاہیے۔حکم نامہ کی تعمیل کرتے ہوے بٹو اسے بہت سارے ڈاکٹروں کے پاس لے گیا۔لیکن ستم ظریفی یہ کہ کسی بھی ڈاکٹر کی لکھی ہوی دوائی نہیں خریدی۔وہ ڈاکٹروں کے لکھے ہوے نسخے آمنہ کے والدین کے علاوہ شہر کے سبھی ذمہ داران کو دکھاتا اور کہتا کہ ”یہ دیکھو آمنہ کا علاج“۔
چند سال بعد عدالت کی جانب سے ایک اور حکم نامہ آگیا۔اب کی بار کریم جو نے باہر سے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو اپنے گھر مدعو کیا۔پورے شہر میں ڈنڈورا پیٹا گیا کہ آج باہر سے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم آمنہ کا علاج کرنے آرہی ہے۔گھر میں ان کے لیے کھانے پینے کا انتظام کرایا۔دولت کی کوئی کمی نہیں تھی اس لیے دعوت میں بھی کسی چیز کی کمی نہ رکھی گئی۔ڈاکٹر صاحبان تشریف لاے تو پہلے دعوت نوش فرمائی۔کھانے کے دوران میں کریم جو نے ڈاکٹر صاحبان سے پوچھا۔”دعوت کیسی ہے۔کسی چیز کی کمی تو نہیں ہے؟“
ڈاکٹر صاحبان نے یک زبان ہو کر جواب دیا۔”نہیں نہیں سب ٹھیک ٹھاک ہے“۔
دعوت کھانے کے بعد ڈاکٹر صاحبان آمنہ سے ان کا حال پوچھتے لیکن اس سے پہلے ہی باہر شور و غوغا اٹھ گیا کہ ڈاکٹر صاحبان نے آمنہ کا علاج کرلیا۔ڈاکٹر صاحبان دم بخود رہ گیے کہ ابھی انہوں نے آمنہ کو دیکھا بھی نہیں مگر آخر کار وہ بھی حالات سے مجبور ہو کر اسی رو میں بہ گیے۔یوں ڈاکٹر صاحبان کی پوری ٹیم آمنہ سے ملے اور بات کیے بغیر ہی واپس چلی گئی۔اگلے دن اخبار میں شہ سرخی چھپی تھی کہ”کریم جو کی بہو کا باہر سے آئی ہوئی ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے علاج۔ڈاکٹروں نے کہا سب ٹھیک ٹھاک ہے“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں