سیفی سرونجی
(بشکریہ استوتی اگرواہ)
محلے میں سب کولن کاکی کے نام سے جانتے تھے ، پورے محلے میں اس کے علاوہ کسی غیر مسلم کا گھر نہیں تھا ۔ کولن کاکی کا کردار اتنا بلند تھا کہ لوگ اس کی تعریف کے گن گاتے تھے ۔ وہ تھی بھی ایسی ہی کہ خود پریشان رہتی لیکن دوسروں کی ہر ممکن مدد کرتی تھی ، اگر کسی کے گھر میں سبزی نہیں تو وہ بازار سے سبزی لادیتی ، کسی کے بچے کو کھلاتی ، کسی کی ڈ ِ لیوری ہوتی تو دن رات اس کی خدمت کرتی ، سارے پڑوسی بھی اس کا خیال رکھتے تھے ۔ پورے محلے میں اس کی خدمات کا ذکر ہوتا ، کئی بچے تو ایسے تھے کہ جو اسی کے ہاتھ سے پیدا ہوئے تھے کہ ڈلیوری کے وقت بغیر آپریشن کے جو ممکن نہیں تھے ، انہیں بھی اپنے نرم نازک اور باکمال ہاتھوں سے پیٹ سے باہر نکالا تھا ۔ وہ دائی کے پورے فرائض انجام دیتی تھی ۔ محلے کے وہ بچے بھی اس کا بڑا احترام کرتے تھے ، جن کی پیدائش کے وقت اس نے دن رات خدمت کی تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ محلے کے سبھی لوگ نہ صرف اس کی عزت کرتے تھے بلکہ اس پر جان دیتے تھے ۔ ہندو مسلمان کا کوئی بھیدبھاؤ نہیں تھا۔انسانی ہمدردی سے پورا محلہ سرشار تھا ۔ کسی کے دل میں کوئی تعصب نہیں تھا ، جب جب محلے میں کوئی شادی یا کوئی تقریب ہوتی ، سب سے پہلے کولن کاکی کو یاد کیا جاتا ، اگر وہ نہیں آتی تو اس کے گھر کھانا اور دیگر تحفے بھیج دئے جاتے تھے ۔ برسوں سے یہ روایت چلی آرہی تھی کہ کئی اہم موقعوں پر کولن کاکی سے ہی مشورہ کیا جاتا تھا ۔ اس کے مشوروں کا نہ صرف سب احترام کرتے بلکہ اسے حکم سمجھ کر عمل کرتے تھے ۔ لیکن پچھلے کچھ دنوں سے محلے میں بڑی خاموشی تھی ۔ آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں نے ہر ہندو کے دماغ میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ ملیچھ مسلمانوں سے رابطہ نہ رکھا جائے ۔ وہ ہماری گائو ماتا کا گوشت کھاتے ہیں ، ہمارے بھگوانوں کو یہ بُرا کہتے ہیں ، ہمارے مندروں اور ہماری پوجا پاٹ کو برا کہتے ہیں ۔یہ دھوکے باز ، غدار ہوتے ہیں ، تمام تنظیموں کے اراکین نے کولن کاکی کو نہ صرف سمجھایا بلکہ اسے محلہ چھوڑنے پر بھی زور دیا کہ کیوں اس ناپاک محلے میں رہتی ہو ۔ کولن کاکی کہتی کہ بھائیو! تم جانتے ہو کہ میری پوری زندگی انہیں میں گزری ہے ، میرا سب نے یہاں ہمیشہ خیال رکھا ہے ۔ مجھے سر آنکھوں پر بٹھایا ہے ، میں یہ باتیں کیسے مان لوں ۔ کولن کاکی اپنے ارادوں پر جمی رہیں ، حالا ت خراب سے خراب ہوتے گئے ، ہندو اور مسلمان کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے ۔ برسوں کی روایت کی دھجیاں اڑ گئیں ، لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے اور جب محلے والوں کو یہ معلوم ہوا کہ کولن کاکی کا لڑکا آر ایس ایس کی اس ٹیم کا سرغنہ ہے ، جو مسلم دشمنی میں سب سے پیش پیش ہے ، جب اس بات کی اطلاع کولن کاکی کو ملی تو وہ صدمے سے دہری ہوگئی کہ میں نے تمام عمر مسلمانوں کا نمک کھایا ہے اور میں نے اب تک کوئی بات اپنے پڑوس میں ایسی نہیں دیکھی ، جس سے پتہ چلتا کہ مجھ سے بھی لوگ دشمنی یا تعصب رکھتے ہیں لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ اس کا بیٹا ہی سب سے متعصب نکلا ، تعصب کی یہ آگ اتنی بڑھ گئی کہ ایک دن کولن کاکی کو معلوم ہوا کہ اسے اور اس کے گھر والوں کو قتل کرنے کا کچھ مسلمان لڑکے ارادہ رکھتے ہیں اور وہ کبھی بھی حملہ بول سکتے ہیں ۔
کولن کاکی بہت دیر تک سناٹے میں بیٹھی سوچتی رہی ۔ کیا مجھے وہ لڑکے مار دیں گے ، جنھیں میں نے گود میں کھلایا ہے ؟ جن کی پیدائش میرے ہاتھوں ہوئی ہے ، میں نے اپنی پوری زندگی مسلمانوں اور ان کی عورتوں کی خدمت میں گزاری ہے ۔ کیا مجھے وہی قتل کریں گے ؟ نہیں نہیں ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا ۔ وہ اپنے آپ سے باتیں کرتی رہی اور آنسوبہاتی رہی ۔ آدھی رات کے وقت اسے زور زور سے کواڑ کھٹکھٹانے کی آواز آئی تو لرز اٹھی ، پتہ نہیں اب کیا ہوگا ؟ کون لوگ ہیں یہ ؟ کیا مجھے آج قتل کر دیں گے ؟ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے درازہ کھولا تو آٹھ دس نوجوان ہاتھوں میں تلواریں اور خنجر لئے کھڑ ے تھے ، ایک دم اندر آگئے اور گیٹ بند کر دیا ۔ کولن کاکی قدموں میں گر پڑ ی ۔ مجھے چھوڑ دو مجھے مت مارو ، میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے ۔ میں نے مانا کہ میرا لڑکا ہندو تنظیم کا سرغنہ ہے لیکن اس میں میرا کیا قصور ہے اور سلیم تو مجھے قتل کرے گا ۔ ارے تو میری قربانی کا نتیجہ ہے ورنہ تو ماں کے پیٹ میں ہی دم توڑ دیتا اور تو نعیم ۔ کیا تیری ماں میرا احسان بھول گئی۔جب اسپتال میں ڈاکٹروں نے بھی آپریشن سے منع کر دیا تھا ، تب ڈلیوری میں نے کرائی تھی ۔ وہ چیخنے لگی ۔ سلیم نے کہا دائی ماں تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو ، ہم تمہیں قتل کرنے نہیں آئے بلکہ تمہاری حفاظت کے لئے آئے ہیں ، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ کچھ دوسرے محلے کے دنگائی تمہیں قتل کرنے اور تمہارا گھر جلانے کے لئے آرہے ہیں ۔ انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ تمہارا بیٹا کسی ایسی تنظیم سے جڑا ہے ، جو مسلمانوں کی دشمن ہے لیکن ہم نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم جان دے دیں گے لیکن تم پر اور تمہارے گھر پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ کولن کاکی کی جان میں جان آئی اور دل ہی دل میں سوچنے لگی کہ کسی نے صحیح کہا ہے کہ کسی کے ساتھ کی ہوئی نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی ۔
سیفی سرونجی،سہ ماہی’انتساب عالمی‘،سرونجی
mn-9425641777
٭٭٭
