مُطیبہ کے نام 103

مُطیبہ کے نام

پرویز مانوس

تُو پریوں کے نگر سے
آئی ہے اس شہر میں شاید
مُنزہ ہے، بڑی معصوم ہے
تُو خوبصورت ہے
تیرا چہرا مری آنکھوں
کے آگے رقص کرتا ہے
تیری باتیں میرے کانوں
میں ایسے گھولتی ہیں رس
کہ جیسے باغ میں پیاری
سی کوئی کوکتی کوئل
ندی کی پُر سکوں لہریں
ہوا سے بات کرتی ہوں
ہزاروں پھول جیسے
مسکراتے ہوں مرے آگے
کھلونے کی طرح گُڑیا
کلیدی سے جو چلتی ہے
وہ تتلیّ کی طرح تیرا پُھدکنا
کھلکھلانا، بھاگ جانا
جو پوچھے نام کوئی تو
گلابی اپنے ہونٹوں
صرف اتنا بتا تی ہو
مُطیبہ نام ہے میرا
تو کہہ کر بھاگ جاتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں