‏قصہ کیا دل نشین تھا، نہ رہا 114

‏قصہ کیا دل نشین تھا، نہ رہا

غزل
محمد اشرف شاہ [ المسافر ]

‏قصہ کیا دل نشین تھا، نہ رہا
کوئی دل کا مکین تھا، نہ رہا
اب نشیمن سے ہم کو کیا لینا
جو مرا ہم نشین تھا، نہ رہا
آج مدت کے بعد دیکھا ہے
آئینہ کیا حسین تھا، نہ رہا
یہ الگ غم ہے تیرے قصے میں
اندھا خود پر یقین تھا، نہ رہا
کیا ہے اوقات آپ کی مسافر
یہاں جو بہترین تھا، نہ رہا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں