100

غزل

منظر زیدی

یہ جب سے موت کا سایا دکھائی دیتا ہے
بدن ہواؤں میں ٹھہرا دکھائی دیتا ہے
میں تم سے ملنا بھی چاہوں تو آ نہیں سکتا
ہر ایک سمت کورونا دکھائی دیتا ہے
کسی کے ہاتھ میں یہ تیز دھار کا خنجر
ہمارے خون کا پیاسہ دکھائی دیتا ہے
وہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے
تمام دشت ہی پیاسہ دکھائی دیتا ہے
وہ اک چراغ ہے کس کس کو روشنی دیدے
ہر ایک سمت اندھیرا دکھائی دیتا ہے
اندھیری رات میں سایہ نہیں مگر پھر بھی
یہ کون ساتھ میں چلتا دکھائی دیتا ہے
میں اسکی سمت یہ پتھر اچھال تو دیتا
مرا مکان بھی شیشہ دکھائی دیتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں