منظر زیدی
یہ جب سے موت کا سایا دکھائی دیتا ہے
بدن ہواؤں میں ٹھہرا دکھائی دیتا ہے
میں تم سے ملنا بھی چاہوں تو آ نہیں سکتا
ہر ایک سمت کورونا دکھائی دیتا ہے
کسی کے ہاتھ میں یہ تیز دھار کا خنجر
ہمارے خون کا پیاسہ دکھائی دیتا ہے
وہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے
تمام دشت ہی پیاسہ دکھائی دیتا ہے
وہ اک چراغ ہے کس کس کو روشنی دیدے
ہر ایک سمت اندھیرا دکھائی دیتا ہے
اندھیری رات میں سایہ نہیں مگر پھر بھی
یہ کون ساتھ میں چلتا دکھائی دیتا ہے
میں اسکی سمت یہ پتھر اچھال تو دیتا
مرا مکان بھی شیشہ دکھائی دیتا ہے
