ہم نے دیکھا بالیقیں رات کے پچھلے پہر 100

کھو جاتے ہیں

بلال صہیبا

خواب ہو جاتے ہیں اکثر ذات میں کھو جاتے ہیں
چاند تکتے رہتے ہیں جو رات میں کھو جاتے ہیں
بات باتیں بات کی ہیں بات حسنِ راز کی
فلسفی اکثر یہاں اس بات میں کھو جاتے ہیں
ہم حقیقت کے دوانے ہیں وفاکے پاسباں
تیغ سے ڈرتے نہیں خدشات میں کھو جاتے ہیں
ہو نہ غلبہ عشق کا گر روح پر اندام پر
پھر خرد کے راہ رو ظلمات میں کھو جاتے ہیں
قیس ہو جاتے ہیں جو بھی عشق میں محبوب کے
دشت فرقت کے صریح لمحات میں کھو جاتے ہیں
ہے حرم میں گم وہ واعظ ہاں مگر یہ بادہ کش
روز حسنِ ساقی کے لذٌات میں کھو جاتے ہیں
حال سے ہو بے خبر جو رازسے نا آشنا
وہ مرکب چارکے یوں سات میں کھو جاتے ہے
پر توے خورشید میں بھی صہبا رکھ خاموش لب
لوگ اکثر اس جگہ جذبات میں کھو جاتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں