اور انتظار کر 90

اور انتظار کر

پیر زاکر حسین

دور نہیں منزلِ مراد اور انتظار کر
اے میرے ہم نشیں! اور انتظار کر
اختصار نہیں منظم طریقہ ء کار
اس عالم اسرار کو اور آشکار کر
ربط و ضبط قائم کر واقف کار ہو
اس آزادی افکار کو اور گرفتار کر
قرار پانا نہیں ہے اپنا سروکار
اس شوقِ دیدار کو اور طلبگار کر
قدر و قیمت سے پھر خبردار ہو
اس نظریہء اقدار کو اور وفادار کر
خندہ زنی شمار ہے مردہ دلی میں
اس چشم تر کو اور اشکبار کر
ذاکر فکر نہ کر راہ دشوار گزار ہے
اس صبر و قرار کو اور پائیدار کر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں