ڈاکٹر نذیر مشتاق (تنکے سے آشیاں تک) 176

ڈاکٹر نذیر مشتاق (تنکے سے آشیاں تک)

ایم ڈی فرازؔ

ڈاکٹر نذیر مشتاق وادی کشمیر میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ گو کہ سرینگر سے تہران تک ان گنت لوگ اُنہیں جانتے اور پہچانتے ہیں لیکن وادی کشمیر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اُنہیں ایک ایسے معروف معالج کی حیثیت سے جانتی ہے، جو نہ صرف مریضوں کا علاج و معالجہ کرتے ہیں، بلکہ اپنے مہذبانہ لب و لہجے اور سادہ کشمیری اصطلاحات کا استعمال کرتے ہوئے اُنہیں لاحق بیماریوں سے لڑنے کا حوصلہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ چند برس پہلے جب سوشل میڈیا اور نجی ٹیلی ویژن کا ابھی بول بالا نہیں تھا، دُور درشن سرینگر پر اکثر و بیشتر نظر آنے والے نمایاں چہروں میں ڈاکٹر نذیر مشتاق بھی شامل تھے، جو ہمیشہ اپنے پروگرامز اور انٹرویز میں عام یا مہلک بیماریوں سے متعلق سادہ الفاظ میں لوگوں کو جانکاری فراہم کرتے نظر آتے تھے۔

لوگوں کا ایک اور طبقہ ڈاکٹر نذیر کو ایک ایسے ادیب کی حیثیت سے جانتا ہے، جو اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے باوجود سالہاسال سے ادب کی دُنیا میں اپنا کنٹری بیوشن دیتے رہے ہیں۔ وہ ایک ڈارمہ نویس بھی رہے ہیں، ایک افسانہ نگار بھی اور سکرپٹ رائیٹر بھی رہے ہیں۔ اسکے علاوہ طب کے موضوعات پر اُن کے سینکڑوں اخباری شذرات تسلسل کے ساتھ شائع ہوتے رہے ہیں۔  وہ ’صحتِ کامل‘ کے عنوان سے شائع شدہ ایک ضخیم کتاب کے مصنف بھی ہیں۔

اُن کی زندگی سے منسوب متذکرہ دو پہلووں کے علاوہ اُن کی شخصیت کا ایک اور روپ بھی ہے۔ یہ روب اُن کی ہشاشیت، بشاشیت اور زندہ دلی کا ہے، جو اُن لوگوں کو دیکھنے کو ملتا ہے، جو ڈاکٹر صاحب کی نجی محفلوں میں اُٹھتے بیٹھتے ہیں۔

راقم السطور کو اُن کی شخصیت کے ان تینوں پہلووں سے شناسائی حاصل رہی ہے۔ میں ایک مریض کی حیثیت سے اُن کے مطب پر بھی گیا ہوں، ایک قاری کی حیثیت سے اُن کے ادب پارے بھی پڑھ چکا ہوں اور نجی بیٹھکوں میں مختلف موضوعات پر اُن کےساتھ گھنٹوں گپ شپ کرنے کی لطف اندوزی سے بھی محظوظ ہوتا رہا ہوں۔

تاہم فی الوقت میری اس تحریر کا مقصد اُن کی تازہ تصنیف ’’تنکے‘‘ کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرنا ہے۔ اگر چہ میں علم و ادب سے جڑے کسی موضوع کا کوئی ماہر نہیں ہوں لیکن ایک  قاری کی حیثیت سے اپنی آرا ضرور رکھتا ہوں۔

’’تنکے‘‘، ڈاکٹر نذیر مشتاق کے افسانچوں پر مشتمل دو سو صفات پر مشتمل اُس کتاب کا عنوان ہے، جس کے مشمولات میری دانست میں ہمارے معاشرے کے بعض پہلووں کی  عکاسی کرتے ہیں۔

 اس سے زیادہ بہتر نام اس تصنیف کا نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ اس میں معاشرتی زندگی سے جڑے وسیع معاملات اور واقعات کو مختصر افسانچوں میں قلم بند کیا گیا ہے۔ چند سطروں پر مشتمل ہر افسانچہ پڑھنے کے بعد اس کے کردار کچھ جانے پہچانے لگنے لگتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ ہے کہ مصنف نے اپنے معمولات زندگی میں نظر آنے والے اصلی کرداروں سے جڑی کہانیوں کو افسانوی کرداروں میں پیش کیا ہے۔ یعنی یہ ساری کہانیاں اُن حقیقی واقعات کا عکس معلوم ہوتی ہیں، جو ہمیں روزمرہ کی زندگی میں اپنے گرد نواح میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ نذیر مشتاق صاحب محض ایک طبی معالج نہیں ہیں بلکہ  ایک ایسے حساس انسان بھی ہیں، جو اپنے سماج اور معاشرے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

وہ اپنی سوچ اور فکر کو الفاظ کا جامع پہنا کر نہ صرف معاشرے میں موجود منفی روایات اور اس میں پنپ رہے ناپسندیدہ رجحانات کی نشاندہی کرتے نظر آتے ہیں بلکہ اس پر ماتم کناں بھی ہیں۔ اس ضمن میں اُن کی زیر بحث تصنیف میں شامل ’پرائی‘، دیانت‘، ’بھکاری‘،  ’ضرورت‘ جیسے عنوانات کے تحت ضبط تحریر لائے گئے افسانچوں کی مثال دی جاسکتی ہے۔

’دیانت‘ عنوان کے تحت شامل کتاب افسانچے میں یہ بات بھرپور انداز میں کہی گئی ہے کہ ایک با ضمیر انسان انتہائی ناسازگار حالات میں اپنے جذبات سے مغلوب ہوکر بے بسی کے ساتھ اپنی مٹھیاں بھینچ تو سکتا ہے لیکن خیانت کا تصور بھی نہیں کرسکتا ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار محکمہ فوڈ اینڈ سپلائز میں کام کرنے والا ایک کلاس فورتھ ملازم ہے، جس کے پاس چاول سے بھرے گودام کی چاپی  بطور امانت ہوتی ہے۔ لیکن جب اس کی بیوی گھر میں چاول ایک دانہ بھی موجود نہ ہونے اور بچوں کے بھوکے ہونے کی خبر سناتی ہے تو وہ بے بسی کی حالت میں اپنی جیب میں ہاٹھ ڈال کر گودام کی چابی کو زور سے اپنی مٹھی میں بھینچ لیتا ہے اور پھر اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے اپنی بیوی سے مخاطب ہوکر کہتا ہے، ’’آج کی رات کسی طرح گزار لو کل مجھے تنخواہ ملے گی ، میں چاول خرید کے لے آوں گا۔‘‘

یہ ڈاکٹر نذیر کا زور قلم ہی ہے، کہ محض چند سطروں میں دیانت کی انتہا کی تشریح کر پائے ہیں۔

جہاں تک ’تنکے‘ میں شامل افسانچوں کے فنی پہلووں کا تعلق ہے تو اس ضمن میں ممتاز افسانہ نگار نور شاہ کے وہ الفاظ بطور سند تصور کئے جانے چاہیں، جو اُنہوں نے اس کتاب کے پیش لفظ میں لکھے ہیں۔ نور شاہ رقم طراز ہیں: ’’نذیر مشتاق اپنے تجربات اور مشاہدات کی توسط سے انسانی نفسیات کی عکاسی کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ کثرت سے افسانچے لکھنے کے باوجود وہ اپنے معیار اور اپنے انداز کو برقرار رکھنے کی مہارت رکھتے ہیں۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے افسانچے سوشل میڈیا کی وساطت سے لوگوں کے تک پہنچانے کی ایک مہم شروع کررکھی ہے، جو بالکل نئی ہے کیونکہ سوشل میڈیا ترسیلِ خیالات کا ایک جدید ذریعہ ہے۔ شائد وہ یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ عوام کی غالب اکثریت کُتب بینی سے کوسوں دُور ہے، اسلئے اُن تک سماجی پیغامات پہنچانے کا سوشل میڈیا سے زیادہ بہتر کوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا ہے۔ ’’تنکے‘‘ کو’اپنے فیس بک دوستوں کی نذر‘ کرکے ڈاکٹر صاحب نے دراصل یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اُن کی کتاب کو اصحاب علم کے گھروں میں موجود کتب خانوں میں دیکھنے سے زیادہ اس بات کے متمنی ہیں کہ لوگ اُن کے الفاظ کو پڑھیں اور پل بھر کےلئے ہی صحیی لیکن اُن پر غور کریں۔ شاید بحیثیت ایک معالج وہ جانتے ہیں کہ سرسری انداز میں اور غیر ارادی طور پڑھی جانی والی تحریریں بھی انسانوں کے تحت الشعور میں منعکس ہوکر رہ جاتی ہیں اور اُنہیں متاثر کرتی ہیں۔

 لگ بھگ ایک دہائی قبل جب عالمی سطح پڑھے جانے والے انگریزی جریدے ’نیوز ویک‘ نے جب اپنے پرنٹ ایڈیشن کو بند کرکے جریدے کی تحریروں کو صرف آن لائن دستیاب رکھنے کا اعلان کیا تھا، تو یہ گویا صحافیوں کے لئے ایک پیغام تھا کہ زمانے کی گردش نے ایک اور موڑ لے لیا ہے اور اب قارئین کے موبائل فونز تک سٹوریز پہنچانا ناگزیر بن گیا ہے۔

اس واقعہ کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر نذیر مشتاق نے ’تنکے‘ کو کتابی صورت میں شائع کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں شامل افسانچوں کو آن لائن سوشل میڈیا کی وساطت سے قارئین تک پہنچانے کا عمل شروع کرکے بتادیا ہے کہ وہ اپنے ماضی سے ہی واقف نہیں ہیں بلکہ حال اور مستقبل کے تقاضوں کو سمجھنے کی بھرپور اہلیت بھی رکھتے ہیں۔

حالانکہ بعض دفعہ سوشل میڈیا پر اُن کے کئی افسانچوں پر کھلے عام تنقید کے وار بھی اُنہیں سہنے پڑتے ہیں۔  اس کی مثال حال ہی اُس وقت دیکھنے کو ملی جب ایک معروف قلمکار نے اُن کے ایک افسانچے کے موضوع اور کہانی پر اپنی مخالفانہ رائے کا اظہار کیا اور اس اختلاف رائے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ہی ایک ہلکی پھلکی علمی بحث بھی شروع ہوگئی۔ تاہم اس حوالے سے یہ خوش آیند بات بھی دیکھنے کو ملی کہ مذکورہ افسانچے کی حمایت اور اس کی مخالفت میں اپنے آرا کا اظہار کرنے والے شرکا نے اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا۔ البتہ ایک خاتون، جو غالباً پڑھی لکھی ہیں، نے چند بھدے الفاظ کا استعمال کرکے اس علمی بحث و تمحیض کو کرکرا ضرور کیا۔ لیکن بہرحال کسی بھی انسان کا لب و لہجہ اس کی اپنی شخصت کا آئینہ ہوتا ہے، جسے بدلا نہیں جاسکتا ہے۔

مجموعی طور ’تنکے‘ مختصر افسانچوں پر مشتمل ایک ایسی کتا ب ہے، جو نہ صرف معاشرے کی عکاسی کرتی نظر آرہی ہے بلکہ اس میں پنپ رہے بعض منفی رجحانات اور روایات کی نشاندہی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس کتاب میں بعض افسانچے پڑھ کر رہبر جونپوری کا یہ شعر بے ساختہ ذہن میں آجاتا ہے کہ

قلم خاموش ہے الفاظ کی تاثیر بولے ہے

ہماری صفحۂ قرطاس پر تحریر بولے ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں