تحریر: ملک منظور قصبہ کھُل
طفیل گھر کے آنگن میں مغموم کھڑا ہے اس کے ارد گرد چار پانچ عورتیں کھڑی ہیں جو اس کو دلاسہ دے رہی ہیں ۔
ایک عورت:” دیکھو بیٹا طفیل خدا کی مرضی کو کون ٹال سکتا ہے ؟ انسان کے بس میں کچھ نہیں ہے سب کچھ قدرت کے ہاتھوں میں ہے وہ جو چاہے بس وہی ہوتا ہے ۔صبر سے کام لو ۔
دوسری عورت : ” یہ کیا تم مرد ہو کر بھی آنسو بہا رہے ہو”۔
نادان ! چپ کرو ۔تیرے رونے سے وہ واپس تھوڑی نہ آئیں گے ۔آج ہمیں رخصت دو ہم پھر آئیں گے ۔گھر میں بہت کام ہے ۔
طفیل اٹھارہ سال کا نوجوان ہے۔اس کے والدین پانچ دن پہلے ایک سڑک حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے ۔اب وہ اکیلا ہوگیا ہے ۔رشتے دار دھیرے دھیرے گھر جانے لگے ۔
چاچا چاچی اور ماما مامی چاہتے ہیں کہ وہ ان میں سے کسی کے ساتھ رہے تاکہ وہ ان حالات سے باہر نکل آئے ۔لیکن طفیل والدین کے گھر کو خالی نہیں رکھنا چاہتا ۔لہذا پھوپھی اور خالہ نے باری باری طفیل کے گھر میں رہنے کا فیصلہ کیا ۔دن مہینوں میں بدلے اور مہینے سال میں ۔
طفیل کو ایک پرائیویٹ کمپنی میں نوکری ملی ۔خالہ اور پھوپھی نے بھی آہستہ آہستہ طفیل کو اکیلے رہنے کا عادی بنادیا ۔وہ کبھی کھانا پکا کے رکھتیں تھیں تو کبھی صفائی ستھرائی کے بعد شام کو اپنے اپنے گھر جاتی تھیں ۔طفیل نے بھی ان کو اب رخصتی گھر بھیجا اور اکیلے رہنے لگا ۔
طفیل رات دیر گئے تک آفس کا کام کرتا اور صبح دیر سے جاگ جاتا ۔پھر گھڑی کی سویاں دیکھ کر کبھی بغیر منہ دھوئے اور ناشتہ کئے آفس پہنچ جاتا تو کبھی پاجامہ اور قمیض پہن کر ۔آفس میں کام کرنے والے ملازم اس پر ہنستے رہتے تھے۔
ایک دن طفیل چپل اور ٹراؤزر پہن کر آفس پہنچا تو ایک ملازم نے کہا: جناب یہ کیا حالت بنا کر رکھی ہے”۔
طفیل : کیوں کیا ہوا ؟
ملازم : نہ بالوں میں کنگھی نہ شیو نہ کچھ ،اوپر سے یہ ٹراؤزر اور چپل ،آپ آفس نہیں جیسے گاو خانے میں آئے ہیں ۔آفس کے ملازموں نے زور زور سے قہقہ لگایا!
طفیل جب شامکو گھر لوٹا تو سوچنے لگا : میری زندگی میں کوئی رنگ نہیں ہے ۔میری زندگی ایک اجڑے چمن کی مانند ہے ۔ نہ وقت پر کھانا کھاتا ہوں اور نہ ہی کپڑے دھو کر استری کرپاتا ہوں ۔بد نظمی اور بےحسی نے مجھے کیا سے کیا بنادیا ۔کیا کروں ،ماں ہوتی تو ایسے حالات نہیں ہوتے ،ابو کے ہوتے ہوئے یہ آفس کی جھنجھٹ نہیں ہوتی ۔
وہ اٹھ کر باورچی خانے میں گیا تو وہاں کئی دنوں سے برتن نہیں دھوئے تھے ۔جھاڑو نہیں مارا تھا ۔بدبو اور کیڑے مکوڑوں نے کمرے کی حالت خراب کردی تھی ۔اپنے کمرے میں گیا تو دیکھا سارے کپڑے بکھرے پڑے تھے ۔بستر بھی آخری بار پھوپھی نے بچھایا تھا اس کے بعد بچھانے کی نوبت ہی نہیں آئی کیونکہ طفیل نے کبھی اٹھانے کی زحمت ہی نہیں کی تھی ۔طفیل نے حالات کا جائزہ لے کر اپنےسر پر ہاتھ مارے اور افسردہ ہوکر خالہ کو فون لگایا ۔
خالہ : کیسے ہو بیٹا ؟ کھانا کھایا ؟
طفیل : خالہ میری گھر کی حالت انتہائی خراب ہے ۔کیڑے مکوڑوں نے کچن پر حکومت قائم کی ہے اور مکڑے کے جال ہر کمرے کی زینت بنی ہوئی ہیں ۔
خالہ : کوئی بات نہیں ،کل آکرصاف کردوں گی ۔مگر یہ سلسلہ کب تک چلے گا ۔تو شادی کیوں نہیں کرتا ؟
طفیل نے فون رکھ دیا اور سوچنے لگا یہ بھی تو صحیح ہے ۔کب تک میں رشتے داروں پر انحصاررہوںگا ۔شاءد شادی کا وقت آگیا ہے
اگلے دن خالہ نے صفائی ستھرائی کی اور طفیل کے رشتے داروں کو بلا کر کہا کہ طفیل کی شادی کے لئے اچھی سی لڑکی دیکھو ۔چاچا نے اپنی بیٹی ہیما کا رشتہ پیش کیا تو سب یہ سوچ کر مان گئے کہ اپنی ہی بیٹی ہے گھر کا خیال رکھے گی اور طفیل کا ساتھ بھی اچھی طرح سے نبھائے گی۔
لڑکے اور لڑکی دونوں کی رائے لی گئی اور رشتہ طے پایا ۔گھریلو مجبوریات کو ملحوظ خاطر رکھ کر بہت ہی کم وقت میں نکاح کی تقریب منعقد کی گئی اور ہیما طفیل کے گھر دلہن کے روپ میں پہنچ گئی ۔گھر کے حالات بدل گئے ۔گھر جنت کی مانند بن گیا۔
ہیما: اٹھو صبح کے آٹھ بج چکئے ہیں ۔آفس جانے میں دیر ہورہی ہے ۔
طفیل : ٹھیک ہے جی
طفیل نہا دھو کر وقت پر ناشتہ کرنے لگا اور صاف ستھرے استری کئے ہوئے کپڑے پہن کر وقت پر آفس پہنچنے لگا ۔
کپڑے پہنتے وقت بیوی اردگرد دیکھتی رہتی اور بالوں پر تیل لگا کر کنگھی کرکے سج دھج کر روانہ کرتی ۔
آفس میں دوسرے ملازم حیران ہوگئے کہ آخر طفیل میں یہ بدلاؤ کیسے آیا ۔ایک دن ایک ملازم نے پوچھ لیا
ملازم : طفیل صاحب کیا بات ہے آج کل بڑے خوش و خرم رہتے ہو ۔آفس بھی وقت پر پہنچتے ہو ۔اور بیگ میں لنچ بکس بھی لاتے ہو ۔آخر یہ کرشمہ کیسے ہوا ۔
طفیل مسکراتے ہوئے: بھائی یہ سب شریک حیات کی وجہ سے ہورہا ہے ۔یہ جو آپ چہرے کی چمک دمک دیکھ رہے ہو نا ،یہ بیوی کی محبت کا اظہار ہے ۔میری زندگی کو خوبصورت بنانے والی وہی ہے جس کے بغیر حضرت آدم کو جنت میں بھی سکون نہ ملا ۔
آخر ایک مرد اکیلے زندگی بسر کیسے کرسکتا ہے ۔
زندگی کو مقصد بیوی کی وجہ سے ملتا ہے ۔اور محبت کا احساس بھی عورت سے ہی ملتا ہے ۔
ملازم : سچ کہتے ہو جناب عورت کے بغیر مردوں کی ذندگی بے مقصد اور سونی ہے ۔ مرد اگر بھونرا ہے تو بیوی اس بھونرے کی کلی ۔
ملک منظور قصبہ کھُل 9906598163
