یہ جو زندگی کی کتاب ہے 127

یہ جو زندگی کی کتاب ہے

عبدالکبیرڈار دلکش

یہ جو زندگی کی کتاب ہے یہ اک بڑا عزاب ہے
کہی خوشنما یہ خواب تو کہی بے تکلف عزاب ہے
کہی آنسوں کی بارشیں کہی درد دل کا سکون ہے
کہی دل لگی کا ساز تو کہی مرجا ہوا گلاب ہے
ملے دکھ تو یہ نڈال ہے کہی سکھ سے بے مثال ہے
یہ رشتہ بڑا عجیب ہے اس سے لڑنا لا جواب ہے
کہی راستہ پُر کھار ہے کہی گلشنوں میں بہار ہے
یہ چمن چمن کی پکار ہے یہی خزاں کا اک نصاب ہے
کہی دلربا کی تلاش میں کہی بے وفا کی نظر میں ہے
کہی دوستوں کا ملن ہے یہ کہی دشمنوں کا عتاب ہے
کہی درد دل کی ہے داستان کہی دلکشی کا باکپن
کہی مرضِ الفت کا زہر قند کہی نفرتوں کا سیلاب ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں