ڈیسک 100

غــــــزل

یاور حبیب ڈار

ہمیں لوگ کیوں کر گدا سوچتے ہیں
مگر یہ حقیقت بجا سوچتے ہیں
ستائش کرے گی، تمنا کسے ہے
تغافل کریں گے بھلا سوچتے ہیں
رہے عرش سے فرش تک بول بالا
فدا جان اپنی خدا سوچتے ہیں
ہمیں فکر تیری شب و روز رہتی
عجب ہے مگر وہ برا سوچتے ہیں
عداوت سہی ہے مگر دشمنوں سے
کریں کوچ پاشا جیا سوچتے ہیں
رہا ڈوب جانے کو کیا پاس میرے
مجھے لوگ مُفلس و گدا سوچتے ہیں
بتا کب ہویں دھڑکنیں تیز یاور
بھلا سوچتے ہی فنا سوچتے ہیں
یاور حبیب ڈار
بڈکوٹ ہندوارہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں