کسی کی یاد میں ۔۔۔۔قطعات 100

غــــــزل

شیخ گلزارؔ

یاد آتا نہ مجھ کو کیا کچھ ہے

دل یہ کس سے نہ آشنا کچھ ہے

یہ بھی الفت کا ایک پہلو ہے

دل یہ رہ رہ کے سوچتا کچھ ہے

آج میں پر سکون ہوں لیکن

دل کے اندر کھچائو سا کچھ ہے

جذب کرتی ہے کیانہیں پھر بھی

آنکھ پُرنم سی یہ فضا کچھ ہے

زندگی جب نڈھال ہو غم سے

بوجھ لگتا نہیں تو کیا کچھ ہے

ذہن و دل ہی نہیں ہو جب بس میں

جسم قابو میں کب رہا کچھ ہے

آکہ کہہ دیں یہ سامنے سب کے

اس میں اپنی نہیں خطا کچھ ہے

جب بھی ہوتا ہوں میں کہیں گلزارؔ

دل وہیں پر نہیں لگا کچھ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں