اس جہاں میں جانے کتنے آدمی کے چہرے ہیں 132

افسانچے

افسانہ نگار:پرویز مانوس

“سوالات”

کمرہء عدالت لوگوں سے پوری طرح بھرا ہوا تھا، جس میں گُل خان کے چند رشتہ دار بھی شامل تھے کیونکہ آج سولہ سالہ پُرانے مقدمے کا فیصلہ سُنایا جانا تھا، و ہ اپنے آس پاس کا جائزہ لے کر کٹہرے میں کھڑا ہوگیا ملزم کا وکیل اور سرکاری وکیل دونوں تو چڑھائے ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑے تھے، وکیلِ صفائی کے حوصلے بلند تھے کیونکہ اُس نے وہ تمام ثبوت عدالت میں پیش کئے تھے جو گل خان کو بے گناہ ثابت کرتے تھے، اُس نے اُن تمام گواہان کو جھوٹا ثابت کردیا تھا جو اُسے مجرم ثابت کربے ہر تُلے ہوئے تھے، یہ سولہ برس اُس کے عیال نے کس کسمپُرسی کی حالت میں گُزارے تھے یہ و ہی جانتے تھے، نہ کسی سیاسی رہنما اور نہ ہی کسی ملی رہنما نے اُن کی کفالت کی تھی، محلے والوں کی ہمدردیاں بھی جلدی ہی دم توڑ گئیں، مجبور ہوکر اُس کی ماں سڑکوں پر بھیک مانگ کر اُس کے عیال کو پڑھانے لگی، بیوی پر تو اُس کے گرفتار ہوتے ہی فالج کا دورہ پڑ چُکا تھا اور وہ تب سے بسترِ مرگ پرتھی۔۔۔،، وہ پیشے سے ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا اور بیرون ملکی سیاحوں کے ساتھ اُس کے اچھے تعلقات تھے وہ اُس کے مستقل گراہگ تھے اور ہر سال وادئ گلپوش کی سیر کو آتے تھے ایک بار وہ آسٹریلیاں کے چند سیاحوں کو ملک کی سیر پر لے کے گیا تو کافی دنوں تک گھر نہیں لوٹا، فون بھی بند آ رہا تھا ایک ماہ بعد قومی نیوز چینلوں نے خبر نشر کی کہ گُزشتہ سال ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے عسکریت پسندوں کے حملے میں استعمال ہونے والی ٹیکسی کے ڈرائیور کو پولیس نے گرفتا کر لیا ہے، یہ خبر سُن کر اُس کے اہل خانہ پر گویا برق گر پڑی، محلے والے بھی حیران رہ گئے کیونکہ وہ نہایت ہی شریف انفس، دیندار پنجگانہ نمازی انسان تھا اور پھر اُس کے خلاف آج تک کسی بھی پولیس اسٹیشن میں کوئی ایف آئی آر بھی درج نہیں تھاجس سے ظاہر ہوتا کہ وہ دیش دُنشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے، سارے شہر میں چہ میگوئیاں ہورہی تھی کہ اُسے فرضی کیس میں پھنسایا گیا ہے لیکن نقار خابے میں طوطے کی آواز کون سُنتا ہے، مقدمہ چلتا رہا، کئی وکلاء نے وقت پر فیس نہ ملنے کے سبب یہ کیس چھوڑ دیا، آخر ایک غیر مسلم وکیل نے اُس کے گھر کی حالت دیکھتے ہوئے اُس کا مقدمہ مُفت میں لڑنا منظور کرلیا، مُسلسل تین سال تک وہ ثبوت وغیرہ اکٹھے کرتا رہا اور اب اس کیس کو فیصلے کے مرحلے تک پہنچایا، پچھلی تاریخ پر دونوں وکلاء میں زبردست جرح ہوئی تو جج صاحب نے فیصلہ محفوظ رکھا۔۔۔،،جُونہی جج صاحب اپنے کیبن سے نکل کر کرُسی پر براجمان ہوئے تو اُن کی تعظیم میں تمام لوگ کھڑے ہوکر دوبارہ بیٹھ گئے، جج صاحب نے فائل کی ورق گردانی کرنے کے بعد دونوں وکلاء سے کہا _،،
اس مقدمے کا فیصلہ سُنایا جائے آپ دونوں تیار ہیں؟ تو دونوں نے سر تسلیمِ خم کرتے ہوئے کہا۔۔،یس یورآنر۔۔۔۔۔۔!
اس مقدمے کے تعلق سے دونوں طرف کے وکلاء کے دلائل، گواہان کے بیان اور تمام موجودہ ثبوتوں کی بُنیاد پر عدالت کٹہرے میں کھڑے ملزم گل خان کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے باعزت بری کرتی ہے اور حکومت کو یہ حکم دیتی ہے کہ اُس کی ضبط کی گئی ٹیکسی کے عوض ایک نئی ٹیکسی کے ساتھ ساتھ ضوابط کے مطابق گرفتار ی کے دن سے لے کر اب کا معاوضہ ادا کرے ۔۔۔،، فیصلہ سُنا کر جج صاحب اپنی کُر سی سے اُٹھنے لگے تو گل خان نے رُندے ہوئے گلے سے کہا،، جج صاحب میں کچھ کہنا چاہتا ہوں کیا مجھے اجازت ہے؟ ہاں ہاں بولو کہتے ہوئے جج صاحب واپس کرسی پر بیٹھ گئے تو اس نے کہنا شروع کیا۔۔۔،،
جج صاحب کیا حکومت کا یہ ماوضہ مجھے جیل کی چار دیواری میں گزاری ہوئی میری جوانی کے وہ قیمتی سال واپس دے سکے گا ……؟کیا سماج میں میری عزت اور رتبہ واپس دلاسکے گا ……؟ کیا میرے بچوں کو وہ شفقت واپس دلا سکے گا جس کے وہ حقدار تھے ……؟کیا میری ماں کی آنکھوں کی بصارت واپس دلا سکے گا جو اُس نے میرے انتظار میں گنوا دی ……؟ کیا مجھے میری شریک حیات واپس دلا سکے گا جس کو میری جُدائی نے وقت سے پہلے قبر میں پہنچا دیا ۔۔۔؟؟؟؟؟جج صاحب اس کے سوالات سُن کر سوچنے پر مجبور ہوگئے ۔۔۔،،

“روحی”

ڈاکٹر نواز قد قامت ائینے کے آگے کھڑا ہوکر نکٹائی کا ناٹ باند ھنے کو کوشش کر رہے تھے جب اُنہیں لگا کہ ناٹ اچھی طریقے سے بندھ گیا ہے تو اُنہوں نے کوٹ پہن کر ایک پھر آئینے میں اپنے سراپا کا جائزہ لیا تو اُس کے پیھے سے ایک آواز اُس کے کانوں میں گونج گئی ۔۔۔،،کیا کر رہے ہیں ، ناٹ تو ٹھیک سے باندھئے اور پھر آئینے کے اندر سے دو ہاتھ نکل کر ناٹ کو دُرست کرنے لگے، نواز صاحب پیشے سے ڈاکٹر تھے لیکن شاعری میں بھی اچھا خاصا نام بنا لیا تھا، دفتر کے لئے نکلنا ہو یا کسی مشاعرے میں شرکت کے لئے اُن کی شریک حیات روحی اُن کے پہناوے کا انتخاب خود کرتی ،ایک بار جب وہ کسی محفل میں جانے کے لئے تیار ہوئے تو بیگم سے اجازت لینے کے لئے کچن میں گئے تو روحی اُن پر برس پڑی ۔۔۔،، کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔۔؟ ابھی سے بوڑھوں والے ڈریس پہننے لگے ہو؟ یہ یہ اور کوٹ کون پہنتا ہے؟ قمیض ایک رنگ کی، ٹائی ایک رنگ کی اور سوٹ دوسرے رنگ کا، یہ کیا کمبینیشن ہے ؟ چلیئے چلئیے نکالئے واپس _،، ایک ہی سانس میں اُس نے سب کچھ کہہ دیا تو نواز صاحب نے کہا،، کبڈ میں مجھے جو سامنے ملا اُٹھا کر پہن لیا، ان کپڑوں میں کیا بُرائی ہے؟ ٹھیک تو ہیں ۔۔۔۔،،یہ لیجئے۔۔۔! یہ لیجئے ۔۔۔! یہ لیجئے ۔۔۔! روحی نے کوٹ پتلون اور قمیض کبڈ سے نکال کر بیڈ پر رکھتے ہوئے کہا،،پہن لیجئے، اُس کا چہرہ شرارت سے سُرخ ہو چکا تھا، نواز صاحب جانتے تھے کہ اس کی اس شرارت میں بھی محبت چھپی ہوئی ہے، ندامت سے بولے،، ٹھیک ہے ٹھیک ہے، بدل لیتا ہو، غُصہ تھوک دو۔۔۔،،میں ابھی زندہ ہوں ۔۔۔۔،مری نہیں، لوگ کیا کہیں گے کیسی عورت ہے ان کی، شوہر کو سنوارنے کا سلیقہ بھی نہیں آتا، وہ جل بھن کر بولی ،،
آج تک تم نے ہی تو مجھے سجایا سنوارا ہے، تم سے بہتر سلیقہ مند کون ہوگا،،
یہ لو اب ٹھیک ہے؟ نواز صاحب نے تن کر روحی سے کہا،، ہاں آپ چالیس سال کے نوجوان لگ رہے ہیں، روحی ایک بات کہوں،، نواز نے جھک کر اُس کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا،، کیا یے؟ روحی نے مُنہ دوسری جانب پھیرتے ہو ئے کہا،، تم نے مجھے پوری طرح ڈیپینڈنٹ بنا دیا ہے جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو، مجھے اپنی چیزوں کے بارے کچھ بھی معلوم نہیں، سوچتا ہوں تمہارے بعد میرا کیا ہوگا، مجھے تو چائے کا ایک کپ بھی بنانا نہیں آتا، میں تو اپاہج ہو جاؤں گا۔۔۔،،اینی وے۔۔۔،، آئی لو یو کہہ کر نواز صاحب نے اُس کا ماتھا چوما تو روحی روہانسی انداز میں بولی،، آپ فکر مت کریں میرے مرنے کے بعد میری روح آپ کے سجنے سنورنے میں مدد کیا کرے گی ۔۔۔! روح۔۔۔۔۔۔؟ ہاہاہاہا ۔۔۔،تمہاری روح میری مدد کرے گی؟ نواز صاحب نے زور کا قہقہ لگا کر ناٹ دُرست کررہے ہاتھوں کو چھونا چاہا لیکن وہاں کچھ نہیں تھا ۔۔۔،،،،،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں