اُمت مسلمہ پریشان کیوں؟ 128

اُمت مسلمہ پریشان کیوں؟

تحریر: جی ایم میر نادمؔ

یوں تو امت مسلمہ ماشااللہ سب ایمان والے ہیں۔ وہ اللہ تبارک تعالیٰ کے علاوہ ملائکہ کی موجودگی پر بھی یقین رکھتے ہیں، آسمانی کتب و صحیفوں، تمام انبیا اسکے علاوہ آخرت، قیامت اور تقدیر کو اللہ کی طرف سے مرتب شدہ مانتے ہیں۔

پھر بھی عالمی سطح پر سب سے زیادہ جو قوم پریشان ہے و ہ مسلمان ہیں! کیونکہ مسلمان کا ایمان ان سب باتوں پر ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک تعالیٰ پر مکمل یقین و بھروسہ نہیں کرتے۔ اگر جیب میں کچھ پیسے ہیں، عہدہ ہے، صحت و تندرستی ہے، گاڑی ہے بنگلہ ہے، اولاد صالح اللہ نے دیئے ہیں تو وہ انہی چیزوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ کے سامنے اگر سر بسجود بھی ہوں تو رسمی طور پر۔ دعا بھی مانگیں وہ بھی رسمی طور پر۔ ٹوٹے ہوئے دل سے دعا نہیں مانگتے۔ اللہ کے سامنے گڑ گڑا کر اپنی حاجتیں نہیں رکھتے۔ ہم جتنے بھی نیک اعمال کرتے ہیں، جیسے نماز روزے ، صدقے، حج اگر دنیاوی شہرت حاصل کرنے کیلئے انجام دیتے ہیں تو ہماری عبادت ریاضت ایک رسم کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اللہ کے یہاں خلوص نیت کی بہت ضرورت ہے۔ حقوق اللہ ہو، یا حقوق العباد، دونوں میں خلوصِ نیت کار فرما ہو۔ دنیاوی شہرت نہیں۔ بقول شاعر؎

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ اطاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

جب مسلمان اللہ کے احکامات جیسے نماز، روزہ ، حج انجام دینے میں باقاعدگی لاتا ہے، تب اُسے اپنی زندگی سے رشوت، بے حیائی، کم تولنا، سود کھانا، جھوٹ بولنا، کینہ رکھنا، حسد و بغض کا مریض ہونا مناسب نہیں۔ عابدبننے کیلئے ان سب برائیوں کو چھوڑنا اشد ضروری ہے۔بقول اقبال؎

سجدہ عشق ہوتو عبادت میں مزہ آتا ہے

خالی سجدوں میں تو دنیا ہی بسا کرتی ہے

لوگ کہتے ہیں کہ بس فرض ادا کرنا ہے

ایسے لگتا ہے جیسے کوئی قرض ادا کرنا ہے

تیرے سجدے تجھے کہیں کافرنہ کردیں اقبال

تو جھکتا کہیں اور ہے، سوچتا ہے کہیں اور

عشق قاتل سے مقتول سے ہمدردی بھی

یہ بتاکس سے محبت کی جزا مانگے گا؟

آج کے کورونا وائرس کے بدنصیب دور میں اپنے اپنے گھروں میں نماز ادا کرنا، بھیڑ بھاڑ والی جگہوں سے دور رہنا، مقررہ احتیاطی تدابیر اپنانا نہ صرف سرکاری طور پر بلکہ انسانی و اسلامی طور طریقہ جائز قرار دیا گیا۔ لیکن کثر نمازی لوگوں نے مسجدوں میں بھیڑ جمع کرنا نہیں چھوڑا اور وائرس پھیلاتے رہے۔ کئی کیا سینکڑوں افراد اس وبا کے شکار ہوکر جاں بحق ہوئے۔ عورتیں بیوہ ہوئیں۔ بچے یتیم ہوئے، اور کئی گھر اُجڑ گئے۔ لیکن ان سماج دشمن عناصر نے اپنی اکڑ نہ چھوڑی اور اپنی من مانی کرتے رہے۔

دوسری طرف سے پڑوس میں کوئی شخص توجہ کا محتاج ہے، اُس کی صحت خراب ہے یا اُس کی ضروریات پوری نہیں ہوئی، وہ دانے دانے کا محتاج ہے، اُس کے بچے بے روزگار ہیں، بیٹیاں جوان ہوگئی تھیں۔ اُن کے مناسب رشتے غربت کی وجہ سے دستیاب نہیں، ایسے لوگوں کی طرف یہ خدا کےبندے دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ بلکہ مسجدوں میں نماز پڑھنے کا تکبر سر پر اٹھائےگھومتے پھرتے ہیں اور مسجد میں نماز نہ ادا کرنے والوں کو حقیر نظر سے دیکھتے ہیں۔

ایسے حالات میں اُمت مسلمہ پریشان نہ ہو تو پھر کیا ہو؟ کیونکہ جن باتوں سے اللہ کی رضا مندی حاصل ہوئی ہے وہ سب انجام دینے کے بجائے اپنی من مان کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حقیقی مسلمان ہیں، جبکہ حقیقی دین کی فہم تک اُن کو حاصل ہے۔اب ہم غیر مسلموں کی طرف نظر ڈال کر دیکھیںؓ۔ پہلی بات اُن میں قومیت ہے۔ وہ جس برتن میں کھاتے ہیں اُس میں چھید نہیں کرتے  ہیں۔ وہ اپنے پڑوسیوں ، ہم وطنوں، اپنے عقیدے پر چلنے والے لوگوں کے دُکھ سُکھ کا خیال رکھتے ہیں، اُن میں اتحاد ہے، اتفاق ہے۔ وہ اپنے رہبر اور رہنما چاہے وہ غلط فیصلہ ہی کرلے، اُس کی تابعداری اور فرمانبرداری ہر قیمت پر جاری رکھے ہوئے ہیں یہ صفات اصل میں ہمارے عظیم مذہب و دین اسلام کی تعلیمات ہیں لیکن اُن غیر مذاہب کے اقوام نے اپنایا ہے۔ نتیجہ یہ کہ وہ روز بروز ترقی و خوشحالی سے ہم کنار ہوتے ہیں اور اپنے عزائم میں کامیاب رہتے ہیں اگر چہ وہ ہمارے آخری پیغمبر ﷺ اور اُن پر نازل شدہ قرآن مجید پر ایمان نہیں رکھتے ۔ لیکن اسی کتاب حکیم میں درج تعلیمات پر من و عن عمل کرتے ہیں۔اس طرح سے مسلمان روزبروز کھاتے میں اور غیر مسلم نفع وفائدہ حاصل کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس عمل کی تازہ مثال ملک کے کسان ہیں جو راہ احتجاج اختیار کئے ہوئے ہیں اور اپنے مطالبات پورے ہونے تک حکومت سے اپنی شدید ناراضگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اُن کا پر امن احتجاج اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ جس احتجاج کے دوران وہ مثال ہے۔ جس احتجاج کے دوران وہ اپنے لوگوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ اُن کا کھانا پینا مہیا کرنے کے علاوہ اُن کے دکھ تکلیف کو دور کرنے کے اعلیٰ انتظامات کئے گئے ہیں۔

اس پس منظر میں ہم سب دست بدعا ہیں۔ خالق کاینات ہمیں سیدھی راہ دکھائے، اُن لوگوں کا رستہ جن کو اللہ نے انعام و اکرام سے نوازہ نہ اُن لوگوں کا جو گمراہ ہوئے اور صحیح راہ سے بھٹک گئے۔ آمین۔

انشا اللہ اُمت مسلمہ کی مشکلات دور ہونگے۔ تمام تکالیف سے نجات ملے گی۔ دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی حاصل ہوگی آپسی محبتیں بڑھیں گی، زندگی خوشگوار بنے گی بشرطیکہ وہ مندرجہ بالا حقائق سمجھیں اور اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اُنہیں اپنائیں۔  بقول شاعر؎

زندگی زندہ دلی کا نام ہے

مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں

جو یقین کی راہ پہ چل پڑے اُنہیں منزلوں نے پناہ دی

جنہیں وسوں نے ڈرادیا

وہ قدم قدم پہ ہک گئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں