افسانہ نگار : ڈاکٹر نذیر مشتاق
آج میں دل کی بیماریوں کا مشہور و معروف سرجن ہوں ۔مجھے یاد نہیں ہے میں نے کتنے ٹوٹے دلوں کو جوڑا ہے اور کتنے مریضوں کو نیی زندگی دی ہے۔۔ہر ہفتے ایک نیا مریض نیا دل نیا تجربہ۔۔۔۔۔۔مجھے کسی مریض سے کویی دلچسپی نہیں ہوتی ہے سواے اس کے دل کے۔۔۔۔۔مگر اس وقت جو عورت میرے سامنے آپریشن ٹیبل پر بیہوش پڑی ہے وہ میرے بچپن کی محبوبہ ہے ہم دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ بیحد پیار کیا مگر ہم ایک نہ ہو سکے۔آخری ملاقات کے بعد جاتے وقت اس نے کہا تھا۔۔۔تم ہمیشہ میرے دل میں رہو گے۔۔۔۔۔۔ میرے اسسٹنٹ نے ابھی اس کا سینہ چاک کیا اس کا دل میرے دونوں ہاتھوں میں دھڑک رہا ہے۔۔میں اس دل میں اپنےآپ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ۔اچانک مجھ سے ایک غلطی سر زد ہوی۔۔میرا scalpel دل کے اوپر والے خانے کو چیرتا ہوا نیچے کے خانے تک پہنچا۔۔۔۔۔۔۔۔او مای گاڈ۔ میرے منہ سے بیساختہ نکلا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔میرےمعاونین نے میری غلطی بھانپ لی۔۔۔۔میں نے اشارہ کیا ۔۔۔۔۔۔جلدی سے تھیٹر میں موجود ہارٹ بینک سے نیا دل لایا گیا اور میں نے بڑی مہارت سے اس کے سینے میں نیا دل فٹ کیا۔۔
ایک ماہ کے بعد وہ اپنا معاینہ کروانے مجھ سے ملنے آیی میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا میں سوچنےلگا کہ۔وہ بچپن کے پیار کے متعلق سب کچھ کہے گی اور مجھ سے پوچھے گی کہ میں نے شادی کیوں نہیں کی۔مگر اس نے ایک عام مریض کی طرح میرا شکریہ ادا کیا اور میری طرف ایک بہت بڑا پیکٹ بڑھایا
میں نے کھول کر دیکھا۔۔دل کی شکل کا ایک بہت بڑا اور خوب صورت کیک تھا۔۔۔۔آپ کے لیے میرا دل۔۔۔۔اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔اور اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔آج سے آپ ہمیشہ میرے دل میں رہیں گے۔۔۔۔۔۔ آآآج س سے۔۔۔۔۔۔۔۔ آج ۔۔ سے۔۔۔۔۔
وہ چلی گئی
میری آنکھیں بھیگ چکی تھیں
