اُس پار 118

اُس پار

افسانہ نگار :راجہ شاہد شجاعتؔ
ترجمہ کار: پرویز مانوس

کون کہتا ہے کہ انگریزوں نے ہندوستان میں غدر کیا، غدر تو ہم بدقسمت لوگوں کے ساتھ ہُوا ، اور وہ بھی اپنوں نے کیا، بھائی سے بھائی بچھڑ گیا۔۔۔۔ باپ بیٹے سے دُور ہو گیا اور مائین بیٹیوں سے علیحدہ ہو گئیں۔۔۔۔ بس ایک معمولی لکیر کھینچ کر۔ آپ اِسے بونڈری لائین کہہ لو لیکن میں اِسے ہمیشہ سے خونی لکیر کہتا آیا ہوںا ور کہتا رہوں گا۔۔۔۔،،
اِسی خونی لکیر نے میرے بھائی بہن جُدا کیے اور میرا قبیلہ مجھے سے الگ کر دیا۔۔۔،، اللہ مغفرت کرے میری امّاں کو سچ کہتی تھی کہ یہ ’’بچھوڑے کی لکیر ہے‘‘ اور یہی ارمان لے کر وہ کشن گنگا کی اِسی ندی کے کنارے آکر پہروں بیٹھی رہتی تھی۔ اِس ندی کو بُرا بھلا کہتی رہتی اور سینہ کھول کر اُس پار دیکھتی رہتی۔
افسوس ! کہتی تھی،،بیٹے وطن کی ٹھنڈی ہوا آتی ہے جس سے میرے کلیجے میں ٹھنڈک پڑتی ہے۔ میرا سارا قبیلہ جو اُدھر ہے، ہماری قبریں جو اُدھر ہیں۔۔،،
امّاں کی اس حرکت پر بہت بار مخبری بھی ہوئی، پولیس اور اسپیشل سٹاف کے ڈنڈے بھی کھائے لیکن سچ تو سچ ہی ہوتا ہے۔ مجھے بھی یہاں بیٹھ کر سچ مچ سینے میں ٹھنڈک پڑتی ہے اور رہ رہ کر وہ منحوس وقت یاد آتا ہے،
ایسا لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ ٹیٹوال کی یہ بستی جہاں کے کھنڈرات ہر فرد کو چیخ چیخ کر اپنی زبوں حالی کی داستان غم سُناتے ہیں۔ ایک وقت تحصیل ہیڈ کواٹر اور ضلع مظفر آباد سب سے بڑی منڈی تھی جو لاہور تک مشہور تھی۔ گنگا نیلم تہذیب کے اِس گہوارے میں ہندو، مُسلم، سکھ سب قومیں آباد تھیں سچ پوچھو تو ایسا بھائی چارہ نہ کبھی دیکھا اور نہ کہیں سُنا۔۔
نیلم اور کرناہ کا مرکز یہ ٹیٹوال کا بازار چوبیس گھنٹے کُھلا دیکھا ہے۔ میرا ابّا یہاں دکان کرتا تھا اور اُس پار اُس اخروٹ کے پیڑ کی نیچے قبر کے ساتھ اُس کا مکان تھا۔ اِس گائوں کو چہلیان کہتے تھے۔ ٹیٹوال اور چہلیان کے درمیان اس گنگا ندی کے یہاں لکڑی کا ایک پُل ہوتا تھا اِس سے گُزر کر ہم اِس پار ٹیٹوال آتے تھے میں نے بھی ذرا ہوش سنبھالا تو ابّا کے ساتھ دکان پر بیٹھنے لگا۔ اچھا خاصا کاروبار چل پڑا تھا۔ کھالوں میں بھر کر لوگ دیسی گھی لاتے تھے اور گھوڑوں پر لاد کر مظفر آباد لے جاتے تھے۔۔۔،، مہنگائی کا دور نہیں تھاسب کچھ سستا تھا۔ میں نے خود ایک رپئے کا چھ سیر گھی خریدا ہے۔ افسوس کہاں گئے وہ دن اور وقتَ کافی دیر تک کچھ بدامنی کا شور جیسا گونجا لیکن اک دن جُدائی والا سورج چڑھ ہی آیا تو چاروں جانب شور مچا کہ ہندوستانی فوجیں آگئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستان کے جہاز بھی اڑنے لگے،پاکستان کے قبائلی تو پہلے ہی داخل ہو چُکے تھے۔
بس پھر کیا تھا کوئی جان بچانے کی غرض سے دائیں بھاگا تو کوئی بائیں۔ ہزاروں مویشی جہازوں کی گر گراہٹ سے دریا میں چلے گئے، اِسی افراتفری اور شور و غوغا میں ابّا جی اُٹھ کر دکان کی طرف دوڑے۔ امّاں نے بہت منت سماجت کی کہ میں نے بہت بُرا خواب دیکھا ہے لیکن انہوں نے ایک نہ مانی ، کہنے لگے کہ میں نے دُکان کو تالا نہیں لگایا ہے، اگر وہاں فوجی یا قبائلی آئے تو دُکان لٹ جائے گی۔ میں بھی ابّا کے پیچھے دوڑ پڑا تو امّاں بھی ہمارے پیچھے دوڑ پڑی۔ ہم پل پار کر کے دُکان کے پاس پہنچنے والے ہی تھے کہ ایک زبردست دھماکہ ہُوا۔ پیچھے مُڑ کر دیکھا تو جہاز اُس پُل پر بم برسا رہا تھا اور پُل اڑ چُکا تھا۔ ہم اِس طرف پھنس گئے دو روز تو دکان کے اندر شرینی اور ناریل کھا کرگزارے تو تیسرے دن لُنڈی پٹی کی جانب بھاگ کھڑے ہوئے اور ادھِر سے اُدھر لوگوں کے ساتھ چٹانوں کے سائے میں دھکے کھاتے رہے جب ایک مہینے کے بعد واپس لوٹے تو ٹیٹوال کا سارا بازار جل کر اکھ ہو چُکا تھا اور ہمارے درمیان یہ خونی لکیر کھچ چُکی تھی۔ میں اور ابّا جی بیچ بیچ میں آکر اِس جگہ ٓابیٹھتے تھے اُس پار دادی، پہاجی، چھوٹی بہنیں اور باقی قبیلے والے آتے تھے اور ہم ایک دوسرے کو پہروں دیکھتے رہتے تھے اور شام ڈھلنے لگتی تھی۔ امّاں تو وہاں سے پھر بھی نہیں اُٹھتی تھی کہتی تھی کمبختو رچھنی بھی اپنے بچّوں کو تنہا نہیں چھوڑتی خود گولی کھا لیتی ہے پھر میں اپنیاں چھوٹی چھوٹی بچّیوں کو کیسے چھوڑ دوں جو اُس پار میرے دُودھ کے لئے تڑپ رہی ہیں، اُن کو چھوڑ دوں جو اُس پار میرے دُودھ کے لئے تڑپ رہی ہیں، اُن کو چھوڑ کر میں کہاں جائوں، میری چھاتیوں میں دُودھ ابل رہا ہے پھر ابّاں جان اُسے سمجھا بُجھا کر گھر لے آتا۔
پھر ایک روز اچانک ہمارے دروازے پر کافی سارے لوگ جمع ہو گئے۔ امّاں نے مجھے آواز دے کر کہا ذرا باپ کو بول کہ ہمارے پار والے گھر پر بہت سارے لوگ کیوں اکھٹا ہوئے ہیں۔ ابّا جی دوڑ کر ندی کے کنارے پر پہنچے، اتنے میں لوگوں نے دادی کا جنازہ نکال کر کوٹھے اُوپر لایا۔ ابّا نے زور کی چیخ ماری اور بولا ہائے میری امّاں۔۔۔! لوگ اُسے سنبھالتے رہے وہ چلاتے رہے۔۔
ارے۔۔۔۔۔۔!میرے بھائیو آپ کو اللہ کا واسطہ ہے مجھے اپنی امّاں کا مُنّہ دیکھنے دو! مجھے اُس کی میت کو کاندھا دینے دو، میں روزِ محشر اپنی ماں کو کون سا مُنّہ دکھائوں گا۔۔؟
آخر ابّا نے زور کے جھٹکے سے اپنا آپ چھڑا لیا اور سیدھا ندی میں چھلانگ لگا دی۔ جُوں توں کر کے وہ ندی پار کر گیا ابھی وہ کنارے پہنچ کر کھڑا ہی ہوا تھا کہ اتنے میں دو گولیاں چلنے کی آواز فِضا میں گونجی ایک آر کی ایک پار کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ابّا ندی کے کنارے پر ہی ٹھنڈا ہو گئے،،
میں پوچھتا ہوں انسانیت کے علمبرداروں سے اور انسانی حقوق کے پاسداروں سے کہ کیا قصور تھا میرے ابّا کا۔۔ کیا خطا سرذر ہوئی تھی اُس سے، اپنے گھر ہی تو جا رہا تھا وہ بیچارہ۔۔ کیا قصور تھامیری ماں کا جس کی چھاتیاں اپنی معصوم بچّیوں کو دُودھ پلانے کے لئے چھلک رہی تھیں اور کیا قصور تھا اُن بچّیوں کا جو اپنی ماں کو دیکھ تو سکتی تھیں لیکن اُس کا دُودھ پینے کے لئے تڑپ رہی تھیں۔۔،،
اُن کے ہونٹ ماں کو دیکھ کر ہوا میں چُسکی کی حرکت تو کرتے تھے لیکن دُودھ نہیں مِل سکتا تھا۔
ہائے! خانہ خراب ہو ہمیں جُدا کرنے والوں کا۔ ایسے ہی بارڈر تمہارے گھروں کو بھی لگیں۔۔!
وہ میری معصّوم بہن جس سے بچپن میں ماں کا سایہ چھین لیا اور ماں کے ہوتے ہوئے یتیم بنا دیا۔
اُس معصوم بہن کی ڈولی وہ پار سے جا رہی ہے اور یہ بد قسمت بھائی اُ س کی ڈولی کو کاندھا بھی نہیں دے سکتا۔۔۔
میری یتیم بہن، کتنے ارمان تھے کہ تمہاری شادی دھوم دھام سے کروں۔ اور آج گائوں والوں نے چندہ اکھٹا کر کے بیاہیا اور پیڑا تک تمہیں کسی نے جہیز میں نہیں دیا، یہ سب کچھ دیکھ کر بھی تمہارا یہ بد نصیب بھائی زندہ ہے۔۔ کس لئے؟ کیوں؟ میں قیامت کے روز تمہیںکون سا مُنہ دکھائوں گا؟ یہ غم لے کر یہ زندگی گزارنی ہے۔۔آ۔۔۔ آجا میری ندی، میری ماں،،، یہ سارے دُکھ تو اپنے اندر لے لے۔۔۔،،
پتہ نہیں وہ کب سے کشن گنگا ندی کے کنارے بیٹھا ہُوا اُس پار ٹکٹکی باندھے دیکھتا اور اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا۔ لگتا تھا گنگا مَیا بانہیں پھیلاکراُسے اپنے سینے سے لگانے کے لئے بُلا رہی تھی کہ اچانک کسی اجنبی شخص نے آکر اُس کا کاندھا ہلایا اور وہ چونک پڑا، فوراً وہ اجنبی اُس سے مخاطب ہوا،،
’تو کیوں ڈر گیا میں کوئی غیر نہیں، میرا نام امجد ہے۔
پاس میں ہی میر ا گھر ہے، مجھے معلوم ہے تم کیا سوچ رہے ہو!
سب بے سود! تمہاری فریاد اِس دُنیا میں کوئی نہ سُن سکے گا۔ یہاں سب اندھے اور بہرے ہیں۔ انسانی حقوق کی بولی جو ریڈیو بولتا ہے، اُس کی طرف کان مت رکھنا۔ سب جھوٹ اور فراڈ ہے۔ تمہارے غم کا مداوا کوئی نہیں کرنے والا سب غیر ہیں۔ اپنی صرف یہ گنگا ماں ہے اور کوئی نہیں! ۔۔۔۔۔ وہ پار دیکھ رہا ہے؟ وہ اخروٹ کے درختوں کے بیچ میں سے سے ڈولی گُزر رہی ہے۔ وہ کسی غیر کی ڈولی نہیں ہے۔۔۔۔۔ وہ میری منگیتر میری سلمہٰ کی ڈولی ہے۔ دیکھ سارے کتنے خوش ہیں۔ روایتی گیت گا رہے ہیں۔ شرینی برسا رہے ہیں لیکن اُن بے وقوفوں کوکیا معلوم کہ اِس میں سلمٰہ نہیں بلکہ اُس کی لاش ہے۔۔۔،،
کیا بکواس کر رہے ہوتم؟ میری معصوم بہن کو اپنی منگیتر کہہ رہا ہے۔۔۔ تمہارے گھر میں ماں بہن نہیں ہے؟ وہ غُصے میں امجد کو مارنے کے لئے اُٹھا لیکن اُس سے پہلے امجد وہاں سے بھاگ گیا وہ امجد کے پیچھے دوڑ گیا اور دوڑتے دوڑتے امجد ایک گھر میں پہنچ گیا اُس کا پیچھا کرتے ہوئے وہ بھی اُسی گھر کے دروازے پر پہنچ گیا اور دستک دینے لگا اندر سے ایک ادھیڑ عُمر شخص باہر آیا اور اُس سے دریافت کیا کہ امجد کہاں ہے؟ اُس نے مجھے بہن کی گالی دی ہے–
پہلے تو اُسے اِس کی بات سمجھ نہ آئی پھر فوراً بولا،،
اچھا تم امجد کے بارے میں پوچھ رہے ہو!
وہ میرا بڑا بھائی ہے۔۔۔،،
لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ وہ بیس سال کا نوجوان ہے اور ابھی ابھی اِسی گھر میں گُھسا ہے۔
بالکل وہی امجد میرا بڑا بھائی ہے، شاید تمہاری ملاقات اُس سے گنگا کنارے ہوئی ہے۔ اُس پار کِسے کی ڈولی جا رہی ہو گی اور اُس نے تم سے کہا ہو گا کہ یہ اُس کی سلمٰہ کی ڈولی ہے۔ جی جی بالکل یہی بات کہی اُس نے ! لیکن آپ کو کیسے معلوم؟ بیٹا یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ اِس ندی کے پار اُس چُھور کے پیڑ کے پاس اُس کا مکان تھا۔ایک دن میں اور امجد پہاجی پُل کے اِس پار ٹیٹوال کا پُل تباہ ہو گیا۔ اُس کا سارا قبیلہ اُس پار رہ گیا میں اور امجد پہاجی اِس پار خالہ کے گھر پر رہ گئے میں تو چھوٹا تھا لیکن پہاجی کو کافی سنبھال تھی سلمٰہ اُس کی چچا ذاد بہن تھی اور اُس کی منگیتر تھی، چھوٹی عُمر میں ہی اُس کی سگائی سلمٰہ سے ہو گئی تھی وہ نہایت ہی خوبصورت اور لائق تھی دونوں ایک ساتھ ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے اور ایک دوسرے کو بے حد چاہتے تھے لیکن اُن کی بدقسمتی کہ اِس خونی لکیر نے اُن دونوں کو جُدا کر دیا۔
سلمٰہ اور امجد دونوں ندی کی دو کناروں پر بیٹھ کر ایک دوسرے کو پہروں دیکھتے رہتے اور شام ہو جاتی۔ سلمٰہ خاصی جوان ہو چُکی تھی پہلے تو تایا جی انتظار کرتے رہے کہ مت بونڈری لائین ٹوٹ جائے۔ پنڈی اور کراچی تک اُس نے دوڑ دھوپ کی لیکن اِس خونی لکیر کے مٹنے کی کوئی اُمید نظر نہیں آئی۔
آخر کار تایا جی کو سلمٰہ کی شادی کِسی دوسرے سے کرنا پڑی جس وقت سلمٰہ کی ڈولی اُس پار اخروٹ کے درختوں میں گزری تو امجد نے ایک چیخ مار کر ندی میں چھلانگ لگا دی۔
پار اور آر کے تمام لوگ اکھٹے ہو گئے باراتی بھی ڈولی کو چھوڑ کر ندی پار آپہنچے اتنے میں سلمٰہ بھی ڈولی میں بھاگ کر آئی اور ندی میں کُود گئی۔۔۔،،
کافی کوششوں اور تلاش کے بعد سلمٰہ کی لاش مِل گئی لیکن امجد پہاجی کی لاش کا کچھ پتہ نہ چل سکا بس اُس کے بعد جب بھی کوئی ڈولی پار سے گزرتی ہے تو پہاجی کسی نہ کسی بہانے کسی کو ملتا ہے اور اپنی سلمٰہ کے بارے میں پوچھتا ہے۔
������

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں