حضرت سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدوم رحمۃ اللہ علیہ 123

افسانچے

افسانہ نگار

رئیس احمد کمار
بری گام قاضی گنڈ

دوستی

فیسبک پر ایک یورپی عورت سے دوستی ہونے کے بعد ماجد اکثر اسکے ساتھ گفتگو کرتا رہتا تھا ۔ روزمرہ کے حالات وواقعات کے بارے میں بھی وہ ایک دوسرے کو باخبر کرتے رہتے تھے ۔ روز بروز انکی دوستی گہری ہوتی گئی اور وہ ایک دوسرے پر یقین اور بھروسہ بھی کرنے لگے ۔ ماجد اپنے دوستوں ، ہمسایوں اور رشتے داروں میں فخر کے ساتھ کہتا تھا کہ اسکی دوستی ایک یورپی عورت سے ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔
یورپی عورت نے سال رواں کی گرمائی چھٹیاں کشمیر میں ہی گزارنے کا منصوبہ بنایا ۔ ماجد کو بھی کشمیر سیر کے متعلق آگاہ کیا گیا ۔ ماجد کے کہنے پر ہی یورپی عورت نے کشمیر کے مختلف صحت افزاء مقامات کی سیر کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحت افزاء ان تمام مقامات کی سیر کے دوران یورپی عورت کا دل دکھی ہو گیا جب پالیتھین کے بیگ ، پلاسٹک اور ایک ہی بار استعمال ہونے والے نہ سڑھنے والے اشیاء کے ڈھیر جمع ہوئے تھے اور انکی وجہ سے ان صحت افزاء مقامات کی خوبصورتی پر منفی اثرات مرتب ہورہے تھے ۔ لوگ اس گندگی اور کوڑاکرکٹ کو ٹھکانے لگانے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔
یورپی عورت ایک این جی او سے بھی منسلک تھی جو دنیا بھر کے صحت افزاء مقامات کی صفائی ستھرائی اور دیکھ ریکھ کا کام کرتی تھی ۔۔۔۔۔
یورپی عورت نے ماجد کو اس بارے میں آگاہ کرنا مناسب سمجھا تاکہ کشمیر کے صحت افزاء مقامات کی صفائی ستھرائی اور دیکھ ریکھ ہو سکے ۔ اسکو پورا یقین تھا کہ ماجد اس نیک کام میں اسکا ہاتھ بٹھایا گا اور پورا تعاون پیش کرے گا ۔ اس نے ماجد کو تفصیل کے ساتھ اپنی این جی او کے مقاصد اور اپنے منصوبے کے بارے میں لکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
جب کافی عرصے تک ماجد کا جواب نہیں آیا تو یورپی عورت کو اچانک معلوم ہوا کہ ماجد نے اسکو بلاک کیا تھا ۔ بعد میں فون ملانا چاہا ۔ پہلے رنگ بجتی تھی لیکن اسکے بعد وہ بھی سوئچ آف آیا

سوتیلا سلوک

سب لوگ اس سوچ میں پڑے تھے کہ رشید کا صرف بڑا لڑکا تعلیمی شعبے میں بھی اچھی کارکردگی دکھا پایا اور سرکاری نوکری حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوا ۔ اسکے باقی بیٹے اور بیٹیاں نہ پڑھنے لکھنے میں کچھ خاص کر پائے اور نہ ہی کسی اور شعبے میں انکو کامیابی ملی ۔ صرف بڑے بیٹے کو ہی لوگ زیشعور مانتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رشید کا ایک دوست ایک دن بازار جارہا تھا تو رشید کا بڑا بیٹا بھی اسکو وہاں ملا ۔ جب بڑے بیٹے سے اپنے بھائی بہنوں کے بارے میں پوچھا گیا تو رشید کا دوست حیران ہو گیا کہ آخر اسکا ایک ہی بچہ زندگی میں کچھ پانے میں کامیاب ہوا ہے ۔ جب وجوہات پوچھی گئی تو بڑے بیٹے نے یوں جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ۔۔۔۔۔ میرے باقی بھائی بہنوں کی ناکامی کی وجہ صرف میرا باپ ہے ۔ میرے ساتھ وہ سوتیلے سلوک سے پیش آتا تھا ۔ اپنے سامنے مجھے بیٹھنے تک نہیں دیتا تھا ۔ کسی اچھی کام کو شاباشی دینا تو دور کی بات تھی بلکہ ہمیشہ کوستا رہتا تھا ۔ مجھ سے ایسا پیش آتا تھا کہ میں بعض اوقات یہ سوچنے پر مجبور ہوتا تھا کہ شاید میں اسکا بیٹا ہوں نہیں ۔ میری سلام کا کبھی جواب نہیں دیتا اور نہ مجھ سے بات کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے برعکس باقی بچوں کو اپنے پاس بٹھاتا تھا ۔ انکے کہنے پر لبیک کہہ کر انکی فرمائش کو جائز قرار دیکر پورا کرنے کی دوڑ میں رہتا تھا ۔ حد سے بھی زیادہ ان سے پیار و محبت سے پیش آتا تھا۔ انکو کبھی کوئی کام کرنے کو نہیں کہتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
نتیجہ یہ نکلا کہ باپ کے حد سے زیادہ لاڑ پیار سے وہ سب تباہ و ویراں ہوئے ۔ وہ نہ پڑھنے لکھنے میں کچھ خاص کر پائے اور نہ ہی کوئی کام کرنے کے لائق رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باپ کے سوتیلے سلوک نے مجھے بہت کچھ سکھایا اور سخت محنت کرنے پر مجبور کیا ۔ میں دن رات پوری محنت کرتا رہا اور اللہ سے ہمیشہ یہ دعا کرتا رہا کہ یا اللہ مجھے زندگی میں کسی کا محتاج نہ بنانا کیونکہ مجھے دنیا میں باپ بھی اپنا نہیں مانتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں