آہ! اردو صحافت کے درخشاں ستارے غلام نبی شیدا ؔ 146

آہ! اردو صحافت کے درخشاں ستارے غلام نبی شیدا ؔ

تحریر:صوفی یوسف

وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے نامورسینئر صحافی،قلمکار اور روزنامہ وادی کشمیر کے مدیر اعلیٰ غلام نبی شیدا گذشتہ رات چند روز تک محواستراحت رہنے کے بعدداعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔وہ لگ بھگ اسی برس کے تھے اورپیرانہ سالی کی وجہ سے سرینگر کی پریس کالونی میں واقع اپنے دفتر عادت کے برعکس گذشتہ چند ماہ سے بسا اوقات ہی جلوہ افروز ہوتے تھے۔شیدا صاحب کے پسماندگان میں انکی دو صاحبزادیاں ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ شادی شدہ بھی ہیں۔ان کی اہلیہ حیدر آباد سے تھیں جوقریب 20سال قبل کینسر کے مہلک مرض سے انتقال کرگئیں جس کے بعدشیدا صاحب نے ان کے نام پر ’’شمع فاونڈیشن ‘‘ کے نام سے ایک خیراتی ادارہ بھی قائم کر رکھا ہے جہاں سے کینسر کے مریضوں کی امداد کی جاتی ہے تاکہ ان کے علاج و معالجہ میں مدد مل سکے۔۔مرحومہ بھی قلمکار تھیں اور افسانوی ادب میں ایک مقام رکھتی تھیں ۔ان کے کچھ افسانے سرینگر سے شائع ہونے والے اردو روزنامہ کشمیر عظمی میں بھی شائع ہوئے۔غلام نبی شیدا ضلع پلوامہ کے گوری پورہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن انہوں نے عہد جوانی میں قدم رکھتے ہی جب صحافت کو پیشے کے طور اختیار کیا تو سرینگر میں مقیم ہوئے اور برابر5دہائیاں شہر سرینگر میں رہ کرقلم کے ذریعے عوام کی بے لوث خدمت کرتے ہوئے ابدی دنیا کی جانب کوچ کر گئے۔مرحوم کا شمار کشمیر کے ان چوٹی کے صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے صحافت کی شمع کو فروزاں رکھنے کے لئے کبھی حالات سے خطرہ محسوس نہیں کیا۔ایک دورافتادہ گائوں میں جنم پاکر شہر سرینگر میں آکر اخبار کی اشاعت اور پھرتن تنہا ایک پرنٹنگ پریس بھی قائم کرنا،یہ ان دنوں کی بات ہے جب بڑے بڑے بھی اس کام کو جاڑے کے موسم کی زمستان بھری رات میں شمع جلانے کے مترادف سمجھ کر خوف کھا جاتے تھے،شیدا صاحب نے اپنی ذہانت،انتظامی صلاحیت اور لگن کی داغ بٹھائی اور وہ کر کے دکھایا جو بلاشبہ بڑے بڑوں سے بھی نہیں ہوسکا۔وہ پہلے صحافی تھے جو سرینگر میں اخبار مالکان کی انجمن کے صدر تھے اور اس انجمن کو فعال بنانے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔
اخبار کی اشاعت کو جاری و ساری رکھنا جوئے شیر لانے کے برابرہے اور اس کا احساس وہی رکھتے ہیں جو اس پیشے کے ساتھ وابستہ ہیں خاصکر جب معاملہ ایک ایسے خطے کا ہو جہاں نہ جانے کون کون سی ایجنسیاں معمولی سے جنبش قلم پر در پے آزار ہوں۔گذشتہ تیس سال کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے اسی جرم بے گناہی میں محمد شعبان وکیل ،پرواز سلطان اورڈاکٹر شجاعت بخاری جیسے بے باک اور نڈر صحافیوں کو کھودیا۔فوٹو جرنلسٹ مشتاق علی بھی اسی مشن کی آبیاری میں ہاتھ سے جان دھو بیٹھے۔ایک ایسا پیشہ جو ہر وقت ہر قسم کے خطرات سے دوچار رہتا ہے۔جانی خطرہ،مالی خطرہ وغیرہ وغیرہ۔۔ہمہ وقت پیشے میں رشتے اور دوست و احباب بھی پرائے بن جاتے ہیں اور یوں سماجی زندگی بالکل مفقود بن جاتی ہے اور اگر ایک صحافی قلم کو کاٹھ کی تلوار نہ بننے دے تو مصائب کے انبار گھیر لیتے ہیں۔غلام نبی شیدا صاحب انہی صحافیوں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنے مشن کو جاری رکھنے میں ہمیشہ مصائب جھیلے خاصکر 1990کے بعدسے ان کی زندگی میں انقلاب آیا اور وہ یکسر بدل گئے۔کشمیر یوں کا دردو کرب شیدا صاحب کو بے قرار کیا ہوا تھا اور وہ مسئلہ کشمیر کے حل کا دیوانہ وار شیدائی تھا ۔ان کی نظر میں کشمیر میں قتل و غارتگری روکنے کا واحدحل ’’کشمیرحل‘‘تھا۔1990کے بعد شیدا صاحب اور جموں کشمیر محکمہ اطلاعات کے درمیان اکثر ان بن رہی۔خاصکر کلبھوش جنڈیال کے دور میں وادی کی آواز کو سرکار کی جانب سے ملنے والے اشتہارات مہینوں بند رہے اور جب معاملہ عدالت عالیہ تک جاپہنچا توقانونی مجبوری کے سبب آٹے میں نمک کے برابر ہی ان کو اشتہارات فراہم کئے گئے۔نظریے کی پختگی اس قدر تھی کہ 1990کے بعد شیدا صاحب نے اپنے اخبار کے لئے کبھی بھی جموں کشمیر بنک سے ملنے والے اشتہارات کی طرف کبھ رجوع نہیں کیا۔ان کے اخبار میں نہ کبھی بنک اشتہار شائع ہوا جو وہ سود سے لین دین کے مترادف سمجھتے تھے اور نہ ہی انہوں نے یومِ جمہوریہ یا یوم آزادی کے اشتہارات کو اخبار میں جگہ دی حالانکہ کچھ لوگ ان کے اس طرز عمل سے کبیدہ خاطر بھی تھے لیکن شیدا صاحب کا اپنا ایک مزاج اور اپنا ایک نظریہ تھا۔
صوم و صلواۃ کے پابند شیدا صاحب بہت ہی کم گو،انتہائی نرم اورہمدرد انسان تھے جن کے ادارے نے سینکڑوں باصلاحیت اور پیشہ ور صحافیوں کو تیار کیا جو آج کامیابیوں کی بلندیوں کو چھوئے ہوئے ہیں ۔کون اندازہ کرسکتا ہے کہ اس مرد آہن اور جلی صحافی کو اصولوں کی پابندی کرنے کے لئے بسا اوقات عید کے خوشی بھری تقریب پر بھی گھر میں بچوں کو دینے کے لئے عیدی تک دستیاب نہیں ہوتی تھی لیکن جب ان کے دفتر میں انسان داخل ہوتا تھا تو سامنے لکھے بورڈ پر یہ الفاظ دل میں’’ ٹوٹے ہوئے تارے کو مہ کامل بنانے کاجزبہ پیدا کردیتے تھے۔۔
’’ارادے جن کے پختہ ہوں ،نظر جن کی خدا پر ہو‘‘
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے ۔۔
حق مغفرت کرے،عجب آزاد مرد تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں