اُس پار 93

افسانہ۔………………………..۔آخ

افسانہ نگار:- پرویز مانوس

 

فوج کے ترجمان کی طرف سے اخبار میں یہ خبر شائع ہوتے ہی کہ وزارت داخلہ کی طرف سے نور محمد کو دس لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔باشندگان شہر انگشت بدندان رہ گئے۔ آخر وہی ہوا جس کا انھیں خدشہ تھا۔ چونکہ گزشتہ کئی روز سے لوگوں نے ممّہ چچا کو نورمحمد کے گھر مُسلسلآتےجاتےدیکھا تھا۔۔،،
شہر کا اچھا خاصا سیاسی اثر ورسوخ رکھنے والا ممّہ چچا انتظامیہ اور نور محمد کے درمیان پچھلے کئی ماہ سے ایک ثالث کا کردار نبھا رہا تھا ،یہ خبر منظر عام پر آتے ہی لوگوں کا شک یقین میں بدل گیا۔۔۔۔،،شہر کے تمام لوگ بالخصوص نوجوان سراسیمگی میں مبتلا ہوگئے کہ ان کا احتجاج ان کی مانگ۔۔۔ ان کی محنت سب کچھ رائیگاں ہوگیا۔۔۔۔،،
نور محمد ایک موٹر میکنک تھا جو بیمار گاڑیوں کی مرمت کر کے اپنے عیال کی کفالت کرتا تھا ۔۔۔،اس کا خاندان بیوی کے علاوہ دو جوان بیٹیوں اور اکلوتے بیٹے شہزاد پر مشتمل تھا۔ شہزاد کو سارے پیار سے شیرو کہتے تھے وہ تندرست اور مظبوط جسم رکھنے والا خوبرو نوجوان تھا ۔۔۔،اس کے ساتھ ہی وہ فٹبال کا بہترین کھلاڑی بھی تھا جس کی وجہ سے شہر میں اس کے کافی مداح تھے۔ نور محمد نے اپنی جی توڑ محنت سے شہزاد کو گریجوشن تک تعلیم دلوائی تھی ۔اسے پوری طوقع تھی کہ اب ان کے اچھے دن آئیں گے وہ سوچ رہا تھا کہ شہزاد کی کمائئ سے وہ دونوں بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کر کے اپنی ذمہ داریوں سے فراغت پاکر وہ اور اس کی شریکِ حیات راحتی بیت اللہ کی زیارت کرنے چلے جائیں گے۔۔۔،،اس سلسلے ميں اس نے پاسپورٹ کے لیےکاغذات بھی بھر رکھے تھے۔۔ شہزاد جو کہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ اپنے باپ کے سنگ گاڑیوں کی مرمت میں ہاتھ بٹاتا رہتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک اچھا میکنک بن گیا۔ شہر کے تمام نوجوان اور حلقہ احباب اسی سے اپنی گاڑیوں کی مرمت کروانے کو ترجیح دیتے تھے۔ چونکہ خوش اسلوبی کیساتھ ساتھ وہ ملنسار بھی تھا۔ اس کی یہ خوبی سب اپنی طرف متوجہ کرتی تھی کہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اس نے کھبی میکنک کا کام کرنے میں ہتک محسوس نہیں کی۔۔۔اس کا ماننا تھا کہ کوئی بھی کام چھوٹا نہیں ہو تا بلکہ انسان کے خیالات میں فرق ہوتا ہے۔ اسی لئے اس نے من بنا لیا تھا کہ جب تک سرکاری ملازمت کا کوئی بندوبست نہیں ہو جاتا تب تک وہ وقت ضایع کیے بغیر اپنے باپ کے ساتھ کام کر کے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی سعی کرے گا۔۔۔کیونکہ اسے تپ دق میں مبتلا والدہ کا بھر پور احساس تھا جس سے وہ برسوں سے جونجھ رہی تھی۔ خود نور محمد بھی شریف النفس اور منکسرالمزاج تھا ۔وہ خود کو نہایت ہی خوش نصیب سمجھتا تھا کہ خدا نے اسے شہزاد جیسی فرمابردار اولاد عطا کی کہ حالات کے مد نظر وہ باپ کے ساتھ کام کرنےمیں جٹ گیا ۔۔۔،، شہزاد میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود تھی کہ وہ گراہک سے چار پیسے تب ہی وصول کرتا تھا جب گراہک اس کے کام سے مطمئن ہو جاتا۔۔، ایک دن سہ پہر کے وقت نور محمد چائے پینے گھر گیا ہوا تھا اور شہزاد ایک کاریگر کی مدد سے ورکشاپ میں ایک گاڑی کی مرمت کرنے میں مصروف تھا کہ اس کے کالج کا جگری دوست مدثر وہاں آپہنچا،اسے ایک مدت کے بعد دیکھ کر شہزاد خوشی سے کھل اٹھا۔۔۔فرط جذبات میں وہ گریس آلود کپڑوں سمیت بغلگیر ہوتے ہوئے اس سے مخاطب ہوا،، ارے میرے یار آج کیسے فرُصت ملی تجھے ؟فرُصت تو آج بھی نہیں تھی لیکن نکالنی پڑی کیونکہ میری گاڑی تجھ سے ملنے کی ضد کر رہی تھی،مُدثر نے آنکھ مارتے ہوئے کہا ،پھر دونوں نے ایک زور دار قہقہ لگایا۔۔۔،، ہاں بتا کیا پرابلم ہے؟ شہزاد نے گاڑی سے از راہ مذاق پوچھا،،یہ ایسے نہیں مانے گی! پہلے اس کی آغوش میں بیٹھو ،،
مدثرنے شہزاد کو گاڑی کی سیٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ،، اچھا تو یہ بات ہے ، گویا ہماری بسنتی ہم سے روٹھی ہوئی ہے۔ شہزاد نے سیٹ پر بیٹھ کر سیلف دیا تو گاڑی اسٹارٹ ہو گئی ،، لے بھائی یہ تو اسٹارٹ ہو گئی ،،شہزاد نے مدثر کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔،،
ابے الوُ ! اسٹارٹ تھی تبھی تو میں یہاں تک پہنچا۔۔،، پھر کیا پرابلم ہے ؟ ارے میرے یار کل سے اس میں بریک کم لگ رہی ہے یہ نہ ہو کہ کہیں بپچ سڑک میں حادثہ ہو جائے ،اچھا تو ایسا کہو نا ۔۔۔! شہزاد نے پھر سے گاڑی اسٹارٹ کی اور مدثر سے مخاطب ہوا ،،آجا ایک ٹرائی کر کے دیکھتے ہیں،مدثر گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا تو گاڑی سڑک پر دوڑنے لگی اور تھوڑی ہی دیر میں شہر کی حدود سے باہر نکل گئی ۔۔۔،،،اس دوران شہزاد نے کئی مرتبہ گاڑی کی بریک چیک کی اس کو لگا کہ واقعی بریک کم کام کر رہی ہے اور ہینڑ بریک کا اسکریو بھی نکلا ہوا ہے۔ ،،
تقریٍبا پانچ کلو میٹر کا سفر طے کرنے کے بعد شہزاد نے گاڑی کو واپس شہر کی طرف موڑ دیا، شہر کی حدود میں داخل ہونے سے ٹھیک پہلے سامنے کا منظر دیکھ کر وہ ٹھٹھک گیا کیونکہ فوج نے اُتنی ہی دیر میں کیمپ کے باہر رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔،،اس نےکلچ دبا کر پیر سے بریک پر دباؤ ڈالا مگر بدقسمتی سے بریک نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا وہ مضبوط دل رکھنے والا تھا اس نے اپنے ذہن کو منتشر نہیں ہونے دیا البتہ اس کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا مدثر گھبرا گیا اس نے کھڑکی سے باہر بازو نکال کر آگے سے ہٹنے کا اشارہ کیا لیکن گاڑی تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی ، دریں اثنا فوج کے اہلکاروں نے بندوقیں تان لیں۔ شہزاد بھی سر کھڑکی سے باہر نکال کر زور زور سے چلانے لگا،، آگے سے ہٹ جاؤ! آگے سے ہٹ جاؤ ! گاڑی کے بریک فیل ہو گئے ہیں،، اتنے میں اہلکاروں نے گاڑی نہ رکنُے کی پاداش میں انہیں مشکوک سمجھ کر ان پر بندوقوں کے دہانے کھول دیئے۔۔،، ساری فضا گولیوں کی گن گرج سے گونج اٹھی،،مکیں اپنے اپنے گھروں میں سہم کر رہ گئےچند گولیاں شہزاد اور مدثر کے اجسام میں پیوست ہوگئیں اور دونوں لہو لہان ہو گئے،، گاڑی کی پوری طرح چھلنی ہو چکی تھی ،اس دوران گاڑی بے قابو ہو کر ایک بڑے چنار کے درخت سے جا ٹکرائی چند ہی منٹ میں اہلکاروں نے یہ سوچ کر گاڑی کو گھیر لیا کہ انہوں نے جنگجوؤں کو مار ڈالا ۔۔۔۔۔، یہ دیکھ کر آس پاس کے لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر وہاں پہنچ گئے لیکن تب تک کافی سارا خون بہہ جانے کی وجہ سے شہزاد کی روح ملک عدم پرواز کر چکی تھی۔ ،، لوگ اسے پہچان کر ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے ارے ! یہ تو فٹبال پلئیر شہزاد ہے ۔۔۔۔،، مدثر بے ہوش ہو چکا تھا اور اس کی سانسیں چل رہی تھیں۔۔۔لوگوں نے ایک گاڑی والے کی مدد سے اسے اسپتال پہنچایا، یہ سنُ کر کہ یہ دونوں جنگجو نہیں بلکہ عام شہری ہیں فوجی اہلکاروں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا لیکن اب تک یتر کمان سے نکل چکا تھا۔ ،،
شہزاد کے علاقے میں اس کے خون ناحق کی خبر پہنچنے ہی کہرام مچ گیا۔۔،، نور محمد کے سارے خواب چکنا چور ہو کر بکھر گئے ،، اس کی ماں کا دم گھٹنے لگا ۔۔۔، بہنوں کے ہاتھ مہندی کے لئے ترسے رہ گئے ۔۔،سارے علاقے میں ماتم کی فضا چھائی ہوئی تھی -شہزاد کے لئے پتھر تک رو رہے تھے۔ آسمان سُرخ ہو چکا تھا۔۔۔،، اس بربریت اور خون ناحق کے خلاف شہر کے اطراف و اکناف میں احتجاجی مظاہروں کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا ، پولیس نے جلوسوں کو آگے نہ بڑھنے کے لئے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ لاٹھی چارج اور اشک آور گیس سے مظاہرین کو زیر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن لوگوں کے دلوں میں دکھ اور کرب کے الاؤ روشن ۔۔۔،، آپے سے باہر ہو کر لوگوں نے سنگ باری کا سہارا لیا جس سے دونوں جانب سے لوگ مضروب ہو گئے ۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے فورسز اہلکاروں کی طرف سے راست چلائیں گیں۔۔۔جس سے شہر کے ساتھ ساتھ دہیاتوں میں بھی احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ،،
کئ علاقوں میں وردی پوشوں نے انتقامی کارروائیوں کے تحت کئ معصوموں کو موت کی ابدی نیند سلا دیا۔۔۔ حالات کو بے قابو ہو تے دیکھ کر انتظامیہ نے کرفیو جیسے ہتھیار کا نفاذ عمل میں لا کر عوام کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا لیکن لوگ کرفیو کی خلاف ورزی کر کے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔۔۔عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے کئ روز تک لوگوں کو گھروں کے اندر محصور کر دیا گیا۔ تقریباً ایک ماہ کی ایجیٹیشن کے بعد انتظامیہ نے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کا فرمان جاری کیا ،، حالانکہ عوام کا ان تحقیقات پر سے بھروسہ پوری طرح اٹھ چکا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ شہر کے حالات معمول پر آنے لگے اور زندگی کا کارواں چل پڑا ۔۔۔،، اب جبکہ دس ماہ کا وقت گزرنے کے باوجود تحقیقات کے تھیلے سے رپورٹ کی بلی باہر آنے کا نام نہیں لے رہی تھی کہ اس سے پہلے ہی انتظامیہ نے ممہ چچا کی شاطرانہ چالوں سے نور محمد کو اپنے فریب کے شیشے میں اتار کر اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے نور محمد کو دس لاکھ روپے کی رقم بطور معاوضہ ادا کرنا مان لیا تھا۔۔، نور محمد بھی یہ خطیر رقم لینے کے لئے شاید اس لیے راضی ہو گیا تھا کیونکہ ان دس ماہ میں قوم کے کسی بھی ملی یا سیاسی رہنما نے اس کے گھر کی جانب مڑ کر دیکھنے کی زحمت تک گوارہ نہیں کی تھی،،اسے اس بات کا بھی بھی غصہ تھا کہ شہزاد کو سپردِ خاک کرتے وقت ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے اور مدد کے بلند بانگ دعوے کر رہے تھے لیکن چند روز بعد تو نور محمد اور اس کے گھر والوں کی آنکھیں ان کی راہ اور شکل دیکھنےکو ترس گیئں بس اسی غصے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مّمہ چچا نے اس کو بڑے بڑے سبز باغ دکھا کر ورغلایا کیونکہ اس میں اس کا مفاد بھی پوشیدہ تھا۔ ،، انتظامیہ نے اس کا نام ملک کے اعلیٰ اعزاز کے لئے نامزد کیا تھا۔ ۔۔۔،پورے شہر ميں ایسی باتیں گشت کر رہی تھیں کہ نور محمد قوم کا غدار ہے۔ اس نے شہزاد اور باقی نوجوانوں کی شہادتوں کا کوئی پاس و لحاظ نہیں رکھا بس موٹی رقم دیکھ کر ان کا لہو فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے اپنا ضمیر بھی بیچ ڈالا لیکن یہ دردیا احساس تو اُسی جگہ ہوتا ہے جس جگہ پر انگار گرتا ہے، تمام شہر نے اس سے نظریں پھیر لیں اور پڑوس کا بچّہ بچّہ اسے غدار کہہ کے فقرے کستا تھا ۔۔۔،،،تمام رشتہ دار بھی اس کے اس فیصلے پر لعنت ملامت کر رہا تھا۔ ،لیکن مدد کرنے کو کوئی تیار نہیں تھا۔۔۔،،
اب جبکہ انتظامیہ نے عوام کو یہ باور کرانے کے لئے کہ دولت میں بہت طاقت ہے ۔۔۔۔،، نور محمد کو ایک بڑی تقریب میں یہ چیک پیش کرنے کا اہتمام کیا تھا۔ یہ سن کر لوگوں کا خون کھول اٹھا کہ ایک تو چوری دوسرا سینہ زوری ، چند نوجوانوں نے اس تقریب کو درہم برہم کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔۔،،
سارا ہال لوگوں، سیاسی شخصیات اور ان کے گماشتوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔۔۔،،
ایوان صدارت میں وزیر ، انتظامیہ کے اعلیٰ افسران اور ممّہ چچا اپنے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ براجمان تھے- ہال میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے چہروں پر غم اور خوشی کے ملے جلے آثار نمودار ہو رہے تھے۔ چند نوجوانوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ جونہی نور محمد چیک وصول کرے گا تو عین اسی وقت وہ اپنے پیروں سے جوتے نکال کر اس پر پھینک کر اپنے غصے اور ناراضگی کا اظہار کریں گے۔ انہوں نے تو اسُے سنگسار کرنے کا تہیہ کررکھا تھا لیکن سیکورٹی چیکینگ سخت ہو نے کی وجہ سے وہ پتھر اپنے ساتھ ہال میں نہ لا سکے تھے ۔۔۔،، چند حضرات کی تقاریر ختم ہونے کے بعد ناظم تقریب کی آواز لوڈ اسپیکر پر گونجی تو شہزاد کے دوستوں کی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔، اب ہم شری نور محمد صاحب سے نویدن کرتے ہیں کہ وہے منچ پر پر ستت ہوں اور آدرنیے منتری جی کے ہاتھوں دس لاکھ روپے کا چیک گرہن کر کے سورگیہ سہزاد کی آتما کو شانتی پہنچائیں۔۔۔۔، شری نُور محمد پلیز ۔۔۔۔۔!
نور محمد لڑکھڑاتے قدموں اسٹیج پر پہنچا اخبارات کے فوٹو گرافرزاس منظر کو عکس بند کرنے کے لئے بےتاب تھے،،
وزیر کے ہاتھوں چیک وصول کرنے کے بعد نور محمد چیک کو غور سے دیکھنے لگا جس میں سے شہزاد کا عکس ابھر کر اس سے مخاطب ہوا۔۔۔،
بابا۔۔۔۔! افسوس صد افسوس! بجائے اس کے کہ تم میرے قاتلوں کو سزا دلواتے ، تم نے میرے اور ان تمام بے گناہوںکے خون کا سودا کر کےیزیدکے حوصلے اور بلند کر دیئے ہیں۔ کیا میرے مقدس خون کی یہی قیمت ہے صرف دس لاکھ ؟ تمہاری اس حرکت نے میری روح کو بے حد عذاب پہنچایا ہے۔ شکر ہے خدا نے تمہیں اور دو چار بیٹے نہیں دئیے ورنہ تم ان کو بھی کاغذ کے چند ٹکڑوں کے عوض بیچ ڈالتے ۔۔۔۔!!””
نہیں نہیں نہیں۔۔۔۔۔کی آواز سے سارا ہال گونج اٹھا، سب کے کان کھڑے ہو گئے اور آنکھیں اسٹیج پر جم گئیں جہاں نور محمد کا چہرہ اشکوں سے تر تھا اور ہونٹ لرز رہے تھے، ،،، اس نے کھا جانے والی نظروں سے ممّہ چچا کی جانب دیکھا اور پھر دفعتاً چیک کے پرُزے پرُزے کر کے پیروں تلے مسلتے ہوئے زور سے کہا،،،،، آخ تھوں ۔۔۔۔،،،
����

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں