شوکت بڈھ نمبل کشمیری
گنہگار میں ہوں خدایا میرا عشق گنہگار نہیں
میرا دل چاہتا ہے فقط تمہیں مگر میرا نفس طلبگار نہیں
اُکسایا جاتا ہے الہٰی اِسے ابلیس کے حربوں سے
ورنہ سراپا میرا وجود اس کا پیروکار نہیں
الہٰی بخش میری خطاؤں کو اور عطا کر قُرب اپنا
یہ پل بھر کی فریبی خوشیاں مجھے اب درکار نہیں
الہٰی میری بساط نہیں کہ کروں گلہ شکوہ تری کریمی پہ
کہ میں وہ ظالم ہوں جو خود پہ خود وفادار نہیں
ولیکن پُر امید ہوں مالک تیری ہی بے نیازی سے
عطا کر مجھ کو بخشش کہ جس کا میں حقدار نہیں
جو تھے مقاصد میری تخلیق سے میرے خالق کو
ہوجاتے جس میں وہ حاصل میرا وہ کردار نہیں
گیرا ہوں ظلمتوں سے ہر سو اور پریشاں و مضطر ہوں
ہوں ناداں پھر بھی سمجھتا ہوں میں گرفتار نہیں
الہٰی حقیقت یہی ہے میں چھپاوں بلا تجھ سے کیسے
کہ بندہ نادم ہوں مگر مجھ میں سلیقہ گفتار نہیں
نہ سنا فیصلہ یا ربّ جزا کے میرے اعمال دیکھ کر
عطا کر فضل سے اپنے کہ مجھے خود پہ انحصار نہیں
میں جو ہوگیا ہوں آقاؐ کی مبارک سنتوں سے دور
ہے یہی وجہ کہ میری زندگی میں اب بہار نہیں
جو چاہو حاصل ہو تمہیں دونوں عالم کی خوشیاں
کہو پھر دینِ مُحَّمَدؐ سے تمہیں کوئی انکار نہیں
ہے بس اک ہی چاہ دوجہاں میں الہٰی مجھے دیدِ نِبّیؐ کی
کہ جس کی خاطر شب و روز دل و جاں میں قرار نہیں
چلائے جا اے شؔوکت خامٓہ دل کو ذکرِ مُحَّمد میں
کہ جو نہ ہوں اُن کے غلام وہ محبوبِ پروردگار نہیں
شوکت بڈھ نمبل کشمیری
بڈھ نمبل کپوراہ کشمیر
