پرویز مانوس
خدا کے نام پر دے دے اگر دینا ہے کچھ با بو ۔۔۔۔۔!
رحم کھا میری حالت پر، خُدا تجھ پر بھی کھائے گا
میرے کپڑوں پہ یہ پیوند کاری دین ہے اُس کی
کہ جس نے تجھ کو عالیشان محلوں میں بٹھایا ہے
تجھے دے کر یہ گاڑی قیمتی، بابو بنایا ہے
میری خالی ہتھیلی کو نظر انداز کرکے تُو
مرے چہرے کی لالی میں نہ جانے ڈھونڈتا ہے کیا،
مرے ہر ایک اعضاء کو، یوں گھورے جا رہا ہے کیوں؟
خُدا کا واسطہ تجھ کو ہٹا لے اپنی نظروں کو
تمہاری تیر سی نظریں ہیں چُبھتی جسم کو میرے
مگر بے بس ہوں میں دامن بچاؤں کس طرح تجھ سے
خُدا نے جو دیا جوبن چھپاؤں کس طرح تجھ سے
بھکارن ہی سہی لیکن مری بھی کوئی عزت ہے
ہے پھیلا ہاتھ میرا، پر میرے اندر بھی غیرت ہے
دُعائیں بیچ کر اپنی میں یہ روزی کماتی ہوں
میں کوئی وحشیا، کنجری نہیں نہ ہی طوائف ہوں
پکڑ کر ہاتھ جو میرا تُو گاڑی میں بٹھا لے گا
میرےپاکیزہ دامن کو ہوس سے داغ ڈالے گا
خُدا کا خوف کھا بد بخت ۔۔۔! کیا تُو نے یہ سوچا ہے
اگر اس موڑ پر تیری بہن، بیٹی کھڑی ہوتی
تو کیا تیری نظر ایسے ہی چھاتی پر گڑی ہوتی
نہیں ایسا نہیں ہوتا ………………..!
نیہں ایسا نہیں ہوتا نظر تیری جُھکی ہوتی،
بھکارن ہوں۔۔۔! مری تقدیر نے مجھ کو بنایا ہے
کسی کی ماں بہن بیٹی ہوں میں بھی سوچ لے اتنا
ہتھیلی پر مری تُو کیا دھرے گا، خود بھکاری ہے
بھکارن کی نظر میں تُو ہوس کا اک پجاری ہے
وہ چاہے تو تجھے پل میں ذلیل و خوار کر دے گا
وہ خالق ہے، وہ مالک ہے وہی رزاق ہے سب کا
وہ پالن ہار ہے سب کا میری جھولی بھی بھر دے گا ،،
