افسانہ نگار:ڈاکٹر سیفی سرونجی
(بشکریہ استوتی اگروال)
جاوید ایک خوبصورت ، صحت مند اورا سمارٹ نوجوان تھا ، وہ بی۔ اے فائنل کا طالب علم تھااور پورے کالج میں ہیروکے نام سے مشہور تھا ۔ وہ جس قدر خوبصورت تھا ، اس سے کہیں زیادہ ذہین اور بااخلاق تھا ، کالج کے ہر شخص کی زبان پر صرف اسی کا نام تھا ، اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ وہ باصلاحیت اور محنتی طالب علم تھا اور اپنی کم عمری کے باوجود کالج کے ہر تحریری اور تقریری مقابلہ میں اول آیا کرتا تھا ، چاہے وہ کھیل ہو یا افسانہ نگاری ہو ۔ وہ ہر میدان میں بازی مار جاتا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ ہر لڑکی اسے اپنے خوابوں کا شہزادہ سمجھتی تھی ۔
جس طرح لڑکوں کے حلقے میں جاوید سب کا ہیرو تھا ، اسی طرح لڑکیوں میں زیبا اپنے حسن وخوبصورتی میں بے مثال تھی اگر لڑکوں میں جاوید فرسٹ آتا تو لڑکیوں میں زیبا کا نام ضرور جاوید کے بعد آتا لیکن زیبا اپنے لازوال حسن کی وجہ سے کچھ مغرور ہوگئی تھی ، اسے اپنے حسن پر بڑا ناز تھا ، کالج کا ہر نوجوان لڑکا اس کی ایک جھلک دیکھنے اور اس سے بات کرنے کے لئے بے چین رہتا تھا لیکن وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتی تھی ، سچ بات تو یہ ہے کہ وہ ہر لڑکے کے دل کی دھڑکن بنی ہوئی تھی ۔
آج کالج کا سالانہ جلسہ منعقد ہونے والا تھا اور اس جلسہ میں ایک تقریری مقابلہ تھا ۔ جس کا موضوع تھا ’’جہیز‘‘ آج صبح سے ہی جاوید اور زیبا تیاریوں میں مصرو ف تھے ، یوں تو اس مقابلہ میں اور بھی بہت سے لڑکے اور لڑکیاں حصہ لے رہے تھے لیکن ہر شخص کی زبان پر جاوید اور زیبا ہی کا نام تھا اور لوگوں میں تو شرطیں لگ چکی تھیں ، لڑکیوں کاکہنا تھا کہ اس مقابلہ میں زیبا ضرور جیتے گی اور لڑکوں کا کہنا تھا کہ جاوید سے جیتنا آسان کام نہیں ہے ۔ شکیل جو کہ جاوید کا قریب ترین دوست تھا ۔ اس نے تو ایک ہزار روپئے کی شرط رکھ لی تھی ۔
رات کے نو بج رہے تھے ۔ کالج کے ہال کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ۔ مقابلہ شروع ہونے میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھا ، سب کی بے قرار نگاہیں جاوید کی آمد کی منتظر تھیں ۔ آدھا گھنٹہ بھی یونہی گزر گیا ، اب مقابلہ شروع کر دیا گیا لیکن ہر شخص کی بے تاب نگاہیں جاوید کو تلاش کر رہی تھیں ۔ اچانک اناؤنسر نے زیبا کا نام پکارا اور زیبا اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئی اور جہیز پر اپنے خیالات کااظہارکرنے لگی ۔ ایک تو اس کا مسکراتا ہوا نازک چہرہ اوپر سے اس کی ترنم ریز آواز ۔۔۔۔۔۔۔۔ دونوں نے مل کر عجیب سماں پیدا کر دیا تھا اور تمام حاضرین کو یہ یقین ہوچلا تھا کہ آج کا مقابلہ تو زیبا ہی جیت لے گی ۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔ اچانک ہی جاوید کی آمد نے سب کو چونکا دیا ۔۔۔۔۔ او رہر شخص بجائے زیبا کی تقریر سننے کے جاوید کی جانب نگاہیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگا اور زیبا اپنی تقریر ادھوری چھوڑ کر اسٹیج سے نیچے اتر آئی۔
تھوڑی دیر کے بعد جاوید نے اپنی پر وقار آواز میں تقریر شروع کی ۔
’’دوستو ! جہیز ہمارے ملک میں ایک ایسا بد نما داغ ہے ، جو سب کے لئے باعث شرم ہے ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ جہیز ہمارے ملک میں سب سے بری لعنت ہے ، ہم کچھ بھی نہ کر سکے اس لعنت کے خاتمے کے لئے ، حالانکہ ملک کے بہت سے نوجوانوں نے اسے ہٹانے کا عزم بھی کیا لیکن اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہم عزم تو کر لیتے ہیں لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے ، تو ہتھیار ڈال دیتے ہیں ۔
ہر روز اخبار میں پڑھتے ہیں کہ فلاں لڑکی نے جہیز کم لانے کی وجہ سے خود کشی کر لی ہے ۔ کہیں پڑھتے ہیں کہ ایک غریب باپ نے جہیز کا انتظام نہ کر پانے کی و جہ سے اپنی بیٹی کا گلا گھونٹ دیا ۔۔۔۔۔۔
اس طرح کی بے شمار خبریں ہم آئے دن اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں لیکن ہماری آنکھیں نم نہیں ہوتیں ۔۔۔۔۔۔ ادھر ایک ا فسوسناک خبر پڑھتے ہیں اور ادھر بھلا دیتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ لعنت ہمارے ملک سے کبھی نہ مٹ سکے گی۔۔۔۔۔
ہم اس سماجی لعنت کے خلاف لکھ توسکتے ہیں ، فلمیں بنا سکتے ہیں ، تقاریر کر سکتے ہیں لیکن اس لعنت کو مٹانے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھا سکتے ورنہ ایسا کونسا مسئلہ ہے جسے حل نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر کمر بستہ ہوجائیں تو کیا نہیں ہوسکتا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ عمل کرنے سے سب کچھ ہوتا ہے ۔
ایسے بہت سے لوگ میری نظر میں ہیں ، جنھوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ ہم ہر گز بھی جہیز نہیں لیں گے لیکن جب وقت آتا ہے تو سب سے پہلے وہی لوگ جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں اور نت نئی نئی فرمائشوں میں پیش پیش رہتے ہیں ۔
میں پوچھتا ہوں کیا ہم اس طرح سے اس سماجی لعنت کا خاتمہ کر سکتے ہیں ، یقینا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔۔۔
البتہ اگر عمل کیا جائے ، تو اس طرح کے نہ صر ف لوگوں سے واسطہ نہ رکھا جائے ، بلکہ ایسے لوگوں کو سخت ترین سزائیں دیجائیں ۔ جو کسی بھی ڈھنگ سے جہیز کا مطالبہ کرنے کی کوشش کریں ۔ اگر یہ بدترین لعنت ہمارے ملک اور معاشرے سے جلد نہ مٹی تو وہ دن دور نہیں جب لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی کرنا چھوڑ دیں گے اور اس کا انجام اتنا حسرتناک اور خطرناک ہوگا کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔
اور پھر ۔۔۔۔ یہ مسئلہ حل نہ ہوسکے گا ۔۔۔۔۔۔ اس لئے کہ اگر زخم پر وقت سے مرہم نہ لگایا جائے تو زخم ایک ناسور کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔
ابھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں اور اس زخم کے بڑھنے سے قبل ہی اس کا موثر اور مستقل علاج تلاش کرلیں ۔ ورنہ ڈر ہے کہ یہ معمولی سا نظر آنے والا زخم ایک ناسور بن کر ہمارے پورے سماجی ڈھانچے کو ہی برباد کر ڈالے ۔ آخر میں صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا ؎
مٹاؤ گے نہ یہ جب تک جہیز کی لعنت
کبھی نہ پاؤ گے لوگوخوشی کی دولت ‘‘
جاوید کی پر زور تقریر سن کر ہال میں موجود کوئی بھی شخص متاثرہوئے بغیر نہ رہ سکا اور زیبا تو اس حد تک متاثر ہوئی کہ اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے ۔۔۔۔۔
حالانکہ زیبا اس تقریری مقابلہ میں خود جہیز کے خلاف ایک مقالہ پڑھ چکی تھی لیکن اس کے باوجود جاوید کے خیالات اور جذبات سے متاثرہوئے بغیر نہ رہ سکی ۔ جاوید کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ اسے اپنے جذبات واحساسات کی ترجمانی کرتا ہوا محسوس ہورہا تھا ۔ وہ تڑپ اٹھی اور مقابلہ ختم ہوتے ہی بے اختیار جاوید کو مبارکباد دینے کے لئے اس کے پاس جاپہنچی ۔
مبارک ہو جاوید ۔۔۔۔! تم نے آج واقعی کمال ہی کر دیا ۔ تمہاری زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ سچائی اور حقیقت پر مبنی تھا ۔۔۔۔۔
کاش ۔۔۔۔ آج ہندوستان کا ہر نوجوان تمہارے خوابوں کی شرمندہ تعبیر ہوجائے ، تو ہمارا یہ ملک حقیقی معنوں میں علامہ اقبال کے خوابوں کا چمن بن جائے ۔ میں تمہیں تہہ دل سے مبارکباد دیتی ہوں اور ساتھ ہی تمہاری طر ف اپنی پرخلوص دوستی کا ہاتھ بڑھاتی ہوں ۔ امید ہے تم مجھے مایوس نہیں کرو گے اور مجھے دوست بنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرو گے ۔ زیبا نے مسکراتے ہوئے اپنی بات پوری کی ۔
اور ۔۔۔۔پھر ۔۔۔۔ کچھ ہی دن کے بعد جاوید اور زیبا کی دوستی پیار کے سانچے میں ڈھلنے لگی اور کالج کے اسی ہال میں جہاں تقریری مقابلے ہوتے تھے ، اب چپکے ہی چپکے ان دونوں کی پینگیں بڑھنے لگیں ، عہد وپیمان باندھے جانے لگے ، ہمیشہ ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائی جانے لگیں ۔ ایک روز زیبا نے جاوید سے کہا ۔۔۔۔ ہم دونوں اس طرح کب تک دنیا والوں سے چھپ کر ملتے رہیں گے ۔ تم اپنے گھر والوں سے شادی کی بات چیت کیوں نہیں کر لیتے ۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو ہمارے والدین کے فیصلے ہم دونوں کی محبت کا گلا گھونٹ دیں اور ہم زبردستی ایک دوسرے سے جدا کر دئے جائیں ۔۔۔۔۔ اور ہمارے عہد وپیمان ۔۔۔۔ ہماری یہ قسمیں صرف ایک خواب بن کر رہ جائیں ۔
نہیں ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔زیبا ۔۔۔۔ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا ۔۔۔ ہمیں دنیا کی کوئی طاقت بھی جدا نہیں کر سکتی ۔ تم میرے گھر والوں کو نہیں جانتی ہو ۔ وہ میرے لئے جان دینے سے دریغ نہیں کریں گے ۔
ایسا کرتے ہیں کہ آج تم اپنے گھر والوں سے بات چیت کر لو اور میں اپنے گھر والوں سے بات کر لوں گا ۔ کل شام کو ہم دونوں اسی جگہ ملیں گے ۔
زیبا نے گھر جاکر اپنے والدین سے صاف کہہ دیا کہ میں اگر شادی کروں گی تو صرف جاوید کے ساتھ ۔ ورنہ اپنے آ پ کو ختم کر لوں گی ۔
لیکن ایسا موقع نہیں آیا ۔۔۔۔۔ اور زیبا کے والدین نے لکھ پتی ہوتے ہوئے بھی رشتہ منظور کر لیا ۔۔۔۔۔۔ زیبا کو مارے خوشی کے نیند نہیں آئی اور وہ ساری رات بستر پر لیٹی بے چینی سے کروٹیں بدلتی رہی ، صبح ہوتے ہی وہ بجائے کالج جانے کے جاوید کو خوشخبری سنانے اس کے گھر کی طر ف چل پڑی لیکن جیسے ہی اس نے جاوید کے گھر میں قدم رکھا ۔۔۔ اس کے ہوش اڑ گئے ، جاوید اپنے ڈیڈی سے کہہ رہا تھا ۔
’’ ڈیڈی ۔۔۔۔۔ میں زیبا سے شادی تو کر سکتا ہوںلیکن مجھے ہر حالت میں ایک لاکھ روپئے چاہئے ۔ اس لئے کہ مجھے شہر میں ایک نئی فیکٹری کھولنی ہے اور اس سے اچھا چانس زندگی میں دوبارہ نہیں آسکتا ۔ کیونکہ زیبا ایک لکھ پتی باپ کی اکلوتی بیٹی ہے ۔ اس کے ڈیڈی سے مجھے آسانی سے ایک لاکھ روپئے مل جائیں گے ۔۔
اس سے زیادہ سننے کی تاب زیبا میں نہیں تھی ، وہ یہ شعر پڑھتی ہوئی خاموش آنسو بہاتی ہوئی اپنے گھر کی طر ف لوٹ آئی ۔
مٹاؤ گے نہ یہ جب تک جہیز کی لعنت
افسانہ نگار:ڈاکٹر سیفی سرونجی
9575089694کبھی نہ پاؤ گے لوگو خوشی کی تم دولت
(ختم شد)
