پرویز مانوس
کشمیر سے آنے والے بتا
احوال وہاں کے کیسے ہیں ؟
جنت کی ہوائیں لوٹی ہیں
یا آج بھی دوزخ جیسا ہے؟
بیٹھا ہے مہاجر دُور بہت
اک مُدت سے یہ آس لئے
حالات وہاں کے جان سکے
تم آئے ہو بتلا ؤ ذرا ۔۔۔؟
کیا اب بھی وہاں حق کی باتیں
بے خوف کوئی کر پاتا ہے
کیا اب بھی وہاں کی سڑکوں پر
بے موت کوئی مر جاتا ہے
کیا اب بھی وہاں کے کھیتوں میں
بارود کی فصلیں اُگتی ہیں
کیا اب بھی وہاں کی ہر مسجد
نعروں سے گونجا کرتی ہے
کیا اب بھی وہاں پر فائرنگ کی
گن گرج سُنائی دیتی ہے
کیا اب بھی وہاں ویرانے میں
مصنوعی تصادم ہوتا ہے
کیا اب بھی وہاں کی بستی سے
گھر جلنے کی بُو آتی ہے
کیا اب بھی وہاں پہ راتوں کو
معصوم سے بچے ڈرتے ہیں
کیا اب بھی حوّا کی بیٹی
سہمی سہمی سی رہتی ہے
کیا اب بھی وہاں کوئی پنڈت
بے خوف رہائش رکھتا ہے
کیا اب بھی وہاں کے مندر میں
شنکر کی پوجا ہوتی ہے
کیا اب بھی وہاں ڈل کے باسی
حالات کا رونا رو رو کر
بچوں کو بھوک کھلاتے ہیں
اور گُھٹ گُھٹ کر سو جاتے ہیں
کیا اب بھی وہاں کے باغو ں کی
کلیوں کو مسلا جاتا ہے
کیا اب بھی وہاں پر بہنوں سے
عصمت کی چادر چھنتی ہے
کیا اب بھی وہاں کے آنگن سے
پھولوں سے جنازے اُٹھتے ہیں
پردیس میں ایک مہاجر کے
کب سے یہ کان ترستے ہیں
اے کاش کوئی آ کر کہہ دے
کشمیر سے میرے کانوں میں
بدنام تھا جو کشمیر مرا
جنت کا نمونہ لگتا ہے
پھر چار چناری مہکی ہے
پُر امن ہوائیں چلتی ہیں
لوگوں کے دلوں میں جینے کی
بھر پور اُمنگیں جاگی ہیں
پھر جھیل کے ٹھنڈے پانی پر
بے خوف شکارے جھومیں ہیں
پھر امن رُتوں کا اک جھونکا
پیغام خوشی کا لے آئے
پھر سے جنت یہ کہلائے
پھر سے یہ جنت کہلائے
