شوکت بڈھ نمبل کشمیری
کہاں سے لاؤں وہ آنکھ یا رَّب کہ عِشق کے رَنگ و نِصاب دیکھوں
چہرہِ مُحَّمَدؐ دیکھوں، یا موسٰیؑ کا تاب دیکھوں
وہ دیکھوں طوْر کی اِک جھَلک سے ہی جل جانا
یا رُوبرو اَحَمَّدؐ کے اُسے سرِ عرش بے حجاب دیکھوں
وہ دیکھوں زُلیخا خریدار بازارِ عِشق میں
اِدھر سوداِ یوسف دیکھوں حسنِ لاجواب دیکھوں
اللہ بھی شیدائی ہے تری شانِ نرالی کا
وَرَفعْانَ لَکَذِکْرَک پڑھوں یا وجودالکِتاب دیکھوں
تیرے پسینے کی خوشبو سے مُعتر ہے سارا عالم
مشکِ عنّبر لاؤں یا نکہتِ گُلاب دیکھوں
ہوئی جس کے رنگ پہ سیاہ رات فدا
وَلمُزَمِل کہلائے جو وہ انتخاب دیکھوں
قسم کھائے خُدا بھی جس کی زُلفوںکی
یٰس کہوں اُسے یا طحٰی الخِطاب دیکھوں
چھٹ گئیں جس سے شِرک و کُفر کی تاریکیاں جہاں میں
عرب سے بلند ہوا وہ طلوعِ آفتاب دیکھوں
وہ جس کے فیض سے صحابہ کو مقام ملا
مری قسمت میں بھی ہو اُسے جلوہِ بےنقاب دیکھوں
اُنکے تَبّسم سے غَمزدوں کے دل کھِل اٹھے
جیسے نور کا دریا میں سیلاب دیکھوں
وہ جو دُشمن ہیں اُنکے اور گُستاخ ہوئے
کاش اپنی آنکھوں سے اُن پر عذاب دیکھوں
میری اتنی سی طلب ہے دوجہاں میں الہٰی
اُنؐ کے چہرے کو دیکھوں اور بےحساب دیکھوں
اُنؐ کے نام سے ہی دل میں آجاتا ہے سِکوں
ورنہ غمِ فُرقت میں خانۂِ خراب دیکھوں
مجھے تو ستاتی ہے اُمت کی حالتِ خَستگی
ہمیشہ دل میں اپنے میں یہی اِظراب دیکھوں
دہر میں عشق و معرفت کو جو اُمت میں سرشار کرے
جوانِ ملت اِسلامیہ میں ایسا اِنقلاب دیکھوں
کسے کہوں شوکتؔ اپنی چاہ کا عالم
دیدِ نَبّیؐ مل جائے جس میں وہ خواب دیکھوں
بڑھ نمبل کپوارہ کشمیر
فون نمبر: 7889424854
