اُس پار 94

نــظـم

اُس شہر کا میں باشندہ ہوں
پرویز مانوس

جس شہر کے کوچے گلیوں میں
ہر پل ہے موت کا رقص رواں
جس شہر میں ہر دن ایک نیا
ہوتا ہے تصادم فرضی بھی
جس شہر کی سڑکوں پر کتے
آدم کے لہو کو چاٹتے ہیں
جس شہر میں راکھ مکانوں کی
ارمان اُڑا لے جاتی ہے
جس شہر کی ہر اک بستی سے
اُٹھتی ہیں جوانوں کی میتیں
جس شہر میں باپ کے کاندھے پر
بیٹے کا جنازہ دکھتا ہے
جس شہر میں قبرستانوں کی
آبادی بڑھتی جا تی ہے
جس شہر میں ماؤں کی آنکھیں
خونی آنسو برساتی ہیں
جس شہر میں بیٹی کی چیخیں
افلاک سے باتیں کرتی ہیں
جس شہر میں بہنوں کی عزت
سے کھیل رہا ہو غیر کوئی
جس شہر میں پھول سے کچھ چہرے
مٹی میں اُتر کر بھی ہر پل
لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں
جس شہر میں آدم خور بنے
اپنے ہی محافظ ہوں اکثر
جس شہر میں قانونی پنجہ
مُفلس کی گردن کستا ہو
جس شہر میں پہرے سوچوں پر
دن رات لگائے جاتے ہیں
حق بات نہ کوئی بول سکے
ہر ایک کی لب پر تالے ہوں
جس شہر میں قلم صحافی کا
سچ لکھنے سے کتراتا ہو
جس شہر کے اُرباء شعراء کو
ضمیر ملامت کرتا ہو
جس شہر میں لاشوں پر رہبر
اب روز سیاست کرتے ہیں
جو شہر سیاستدانوں کے
سائے سے بھی گھبراتا ہو
سب دیکھ کے اپنی آنکھوں سے
اس ملت سے شرمندہ ہوں
جس شہر کا دوزخ نام پڑا
اُس شہر کا میں باشندہ ہوں
اُس شہر کا میں باشندہ ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں