پچاس لفظی افسانچے 136

کلام فلک ریاض

 فلک ریاض
حسینی کالونی چھتر گام

بال کٹائوں بھائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
کووِڑ سے میںڈرتا ہوں
رہ رہ آہیں بھرتا ہوں
ماسک یوز میں کرتا ہوں
گویا اس بنِ مرتا ہوں
بھائی یا پرَجائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
صابون دان میں دکھِتی ہے
ہر سامان میں دکھِتی ہے
پورے مکان میں دکھِتی ہے
اس کی دوکان میں دکھِتی ہے
کووِڈ کی پرچھائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
کووڈِ خبریں پڑھنے دو
بڑھتے بال ہیں بڑھنے دو
دائیں بائیں چڑھنے دو
جوئوں کو جنگ لڑنے دو
چُپ کر بیٹھوں مائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
صبح صبح ”ڈر“ لے آئیں
منع کیا ” پر“ لے آئیں
منُڈوانے سر لے آئیں
نائی کو گھر لے آئیں
اکِ دم بھاگا تائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
ناک سے ناک مِلاتا ہے
سانسیں بھی ٹکراتا ہے
پاس بہت وہ آتا ہے
ہائے دل گھبراتا ہے
کیا جاوں ہرجائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
خوفِ ” کرونا “ دل میں ہے
دل کا رونا دل میں ہے
کیا ہے ہونا ؟ دل میں ہے
دکُھ کا بِچھونا دل میں ہے
نا جائوں سودائی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس
گھر والوں نے جھکڑ لیا
مجھ کو ملِ کے پکڑ لیا
میں تھوڑا سا اکڑ لیا
پَر نائی نے دھکڑ لیا
گویا موت ہو آئی پاس
میں نہیں جانا نائی پاس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں