کَتھِ ساتھی چُھم لَگن، بیدار چُھس! 144

غزل

کلام: ریاض خاکی

میں خود ہی خود سدھر تا رہا
خوشبوے گلاب بکھرتا رہا
کشمکش میں ہے مبتلا زندگی
روز جیتا رہا روز مرتا رہا
بجلیاں ہچکیاںسسکیاں سسکیاں
پھر بھی الزام ہے میں سنورتا رہا
کس کس سے نہ پوچھا پتہ یار کا
بھوک پیاس سے بھی پھرتا رہا
دم بہ دم ان سے ہوتا ہے ملن
جن کے باعث میں بگڑتا رہا
غالب و میر آتش مومن کی غزل
ذوق کا شوق دل میں ابھرتا رہا
کس کس کی شکایت سنے خاکی
نقد سنتا رہا صبر کرتا رہا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں