پہاڑی افسانہ ۔۔افسانہ نگار :راجہ نذیر بونیاریؔ
۔۔۔۔۔
ترجمہ کار: پرویز مانوس
“کْک…کْک…کْک…کْک _
کڑاں __کڑاں ___کڑاں ___کْک کْک کْک
“ہو__ہْو……ہوْے ہوْ ے ___ہش ہش… شی شی… شی…. شی… ہووے _ہوْووے
اونْہہ…… پتہ نہیں کیا ہوگیا….. اس مْرغی کو….. صْبح سے کڑاں کڑاں کر رہی ہے _
رحمت جان نے تھوڑے فاصلے پر بیٹھی ہوئی اْلفت بیگم سے کہا،جو جو گیہوں کی گھاس سے چٹائی بْننے مصروف تھی _،،
“وہی مْوا…. کوّا آیا ہوگا…اور کیا خْدا جونی مرگ کرے کمینے کو ،بڑا زبردست چور ہے… ،،اْلفت بیگم نے جواب میں کہا ___،،
رحمت جان نے چرخہ،پوچھا،اٹی،اْون وہیں چھوڑی اور اپنے کوٹھے کے پچھواڑے کھٹے انار وں کی جھاڑیوں کی طرف بھاگی جہاں خورد گھاس میں اس مْرغی اور نو عدد چوزے کہیں دْبکے ہوئے چْوں چْوں کر رہے تھے _رحمت جان نے جْوں ہی ایک لکڑی سے گھاس ادھر اْدھر ہٹانے کی کوشش کی… تاکہ وہ مْرغی اور اْس کے دس دنوں کی عْمر کے چپوزوں کی خبر لیتی…. گھاس سے کک کک کک کک کڑاں کی آؤآز سے وہ جیسے پْھدک سی گئی__،،رحمت نے اپنے دل پر ہاتھ کر کہا،،….. توبہ… توبہ…اس مْرغی نے تو میری جان ہی نکال دی تھی ،دیکھو میرا دل کیسے دھڑک رہا ہے…. ایک طرف چْھپ کر بیٹھی ہے نالائق کہیں کی __،ہائے ایسی ماؤں کو لے جائیں چور __،،کْک کْک کڑاں کڑاں… ،،
مْرغی چلائے جا رہی تھی.. اری میں ہوں میں تیری مالکن… تم دوست اور دْشمن کو بھی نہیں پہچانتی… رحمت جان نے مْرغی کی طرف مخاطب ہو کر کہا،، آؤ… آؤ ذرا تمہیں چوگ چْگا دوں __
آہ… ..آہ….. آہ……آہ…،،وہ مْرغی اور چْوزوں کو بْکانے لگی ، وہ تو گھاس سے باہر نکلنے کا نام نہیں لے رہے تھے… فقط وقفے وقفے سے کک کک کک کڑاں کر ڈالتی اور چْزے مْرغی کے پروں میں سے سر نکال کر چْوں چْوں کرنے لگتے….. ایسا تب ہوتا تھا جب اْنہیں کوئی خطرہ محسوس ہو یا کوئی دْشمن نظر آئے __رحمت جان نے جْھک کر اِدھر اْھر دیکھا…اچانک اس کی نظر قریب کے املوک کے. درخت کی طرف گئی جہاں لچکتی شاخ پر ایک سیاہ کوّا بیٹھا اپنی چونچ صاف کر رہا تھا ___،،
“اچھا……!!! تو یہ حضرت یہاں براجمان ہیں_آج میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گی ،کالے… مْشٹنڈے ،تْو میرے چْوزوں کو دیکھ کر چونچ تیز کر رہا ہے ؟دیکھ۔۔تو ذرا کمبخت کی چونچ سے کس طرح رال ٹپک رہی ہے __رحمت جان جْو نہی ایک پتھر اْٹھانے کے جْھکی ،کوّا چْپ کے سے کھسک لیا…. رحمت جان نے پھر بھی غْصے میں وہ پتھر درخت کی طرح دے مارا___،،ہوْے ہْوے… ہش ہش… کہتے ہوئے وہ پھر سے چرخہ کاتنے بیٹھ گئی _____،،
کیا بات تھی ؟شور کیسا تھا ؟اْلفت جان نے رحمت سے پوچھ لیا __،،
ارے وہی کلموہا… کوّا…پتہ نہیں یہ ہمارے گھر ڈیرہ جما کر بیٹھا ہے __
خْدا غارت کرے اس غنیم کو __،،
یہ سب چْوزے کھا جائے گا _اس نے چپوزوں کو دیکھ لیا ہے…! میری مْرغی اپنے بچوں کی رکھوالی شیرنی کی طرح کرتی ہے _مجال ہے جو کوئی کوّا،چیل یا نیولا کسی چوزے کی طرف آنکھ اْٹھا کر بھی دیکھے…! ،،
ارے بہن…!میں سمجھتی تھی کہ چوزے ہیں اور ان کی قْدرتی رکھوالی ہو جاتی ہے لیکن زنانہ بدلنے سے وہ سب روایتں اور کہاوتیں بھی بدل گئیں ہیں… اب دیکھو نا ایک چوزہ دو دن پہلے لاپتہ ہو گیا اور یہ کوّا تو املوک کے پیڑ پر ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے…..!
چلو چھوڑو،دفع کرو اْسے __یہ بتاؤ کہ بھائی صاحب شہر سے لوٹے کہ نہیں ؟،،
ارے بھی کہاں ____! اْن کی فکر الگ سے کھائے جارہی ہے….. ،،
لیکن وہ شہر کس کام سے گئے تھے ؟ اگر میں غلط نہیں ہوں تو گْزشتہ ایک ماہ کے دوران وہ چار مرتبہ شہر جا چْکے ہیں…! خیریت تو ہے ؟
ہاں خیریت ہی ہے… ارے وہ پاسپورٹ اور ویزے کے کاغذات ہی نہیں بن رہے ہیں ،کبھی کوئی رکاوٹ تو کبھی کوئی اڑچن… اْدھر پار خالہ کا انتقال ہو گیا ہے ،جانا ضروری ہے __خیر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے…! اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں_،،
کک.. کک… کک… کک… کڑاں ____،، پھر مْرغی کا رونا__ لگتا ہے دْشمن پھر سے آگیا __اسی لئے مْرغی نے آسمان سر پر اْٹھا لیا ہے ،،آئی آئی….. کہہ کر رحمت پھر اْسی طرف بھاگی،اْس نے دیکھا کہ ایک فربہ اندام کوّا مْرغی کے ساتھ گْتھم گْتھا ہے. …اور بار بار ایک چوزے پر جھپٹ رہا تھا لیکن مْرغی اپنے لختِ جگر کی جان بچانے کے لئے کوّے پر تابڑ توڑ حملے کر رہی ہے _رحمت نے اِدھر اْدھر دیکھا جب اْسے کچھ نہ ملا تو مٹی کا ایک ڈھیلا اْٹھا کر کوّے کی طرف اْچھالا _ بد قسمتی سے ڈھیلا کوّے کے بجائے مْرغی کو جا لگا ،وہ درد سے کراہ اْٹھی ،بس اسی موقعے کا فائدہ اْٹھا کر کوّا چوزے کو چونچ میں دبا کر اْٹھا لے جانے میں کامیاب ہوگیا اور مشرق کی جانب جو پہاری ہے اْس کی طرف اْڑ گیا _ رحمت جان ہوْے ہْوے… ہش ہش ….ہائے …ہائے کرتے ہوئے اسی طرف دوڑ پڑی _اْس کے ہاتھ میں ایک پتھر تھا جو اْس نے پہاڑی سے نیچے ایک گھاٹی کی طرف جاتے ہوئے کوّے کی طرف اْچھال دیا لیکن شکاری اس پتھر کی پہنچ سے کافی دْور ہو گیا تھا اور نالہ پار کرکے ایک درخت پر بیٹھ گیا ،جہاں اْسے چوزے کی ننھّی ننھّی بوٹیاں تناول کرنا تھیں_،، رحمت جان کو کوّے پر بے حد غْصہ آرہا تھا اور وہ ننگے پیروں اْس نالے کی طرف دوڑے جا رہی تھی _اْس کے مْنہ سے کوّے کی سات پیڑیوں اور اْس کی ماں بہن کے نام گالیاں اور بد دْعائیں نکل رہی تھیں اْدھر کوّے نے اب اپنے شکار کو پنجوں میں جکڑ کر نوچنا شروع کر دیا تھا ___،،رحمت جان غْصے سے لال اور پسینہ سے شرابور ہانپتی ہوئی اس پیڑ کی طرف دوڑ رہی تھی کہ اچانک اْس کے کانوں میں “تھم “کی آواز پڑی،،وہ مْنہ کے بل گرتے گرتے بچی اور ہانپتی ہوئی زمین پر بیٹھ گئی __وہ اب بول بھی نہیں سکتی تھی __البتہ اشارے سے سنتری کو کوّے کی طرف دیکھنے کو کہہ رہی تھی __،،
تم کون ہو اور کہاں جارہی ہو ؟،،سنتری نے تحکمانہ لہجے میں پوچھا__ رحمت جان نے اپنی سانسوں پر قابو پاتے ہوئے رْک رْک کر کہنے لگی… وہ…وہ…کوّا…میری …مْرغی کا… چوْزہ ے لے گیا ،،،وہ ہ ہ ہ. دیکھو اْس درخت پر بیٹھا ہے….. اْس چوزے کو کھا رہا ہے ____،،،،
سنتری نے مڑ کر اْس درخت کی طرف دیکھا اور پھر بولا،،
جاؤ مائی بھاگ جاؤ یہاں سے….. تمہیں کچھ معلوم بھی ہے کہ وہ کوّا اس وقت کہاں ہے ؟_،،
پیڑ پر ہے اور کہاں ہے ،،رحمت جان نے اپنی سادگی سے جواب دیا ___،،،
میرا مطلب ہے کوّا اس وقت کس مْلک میں ہے…. ؟،،سنتری نے اْسے سمجھاتے ہوئے کہا،،
کہاں ہے ؟؟رحمت جان نے معصومیت سے کہا،،
ارے مائی وہ دوسرا مْلک ہے ،تم اْدھر نہیں جا سکتی،،وہ لوگ تجھے گولی مار دیں گے ،،یہاں سے آگے ایک بھی قدم مت بڑھانا ____،،،
رحمت جان نے زمین کی طرف دیکھا ،،وہاں نہ کوئی لکیر تھی نہ کوئی نشان__
ایک ہی زمین_____ایک جیسے کھیت _____ایک ہی جنگل ___ اور ایک نالہ……دوسرے مْلک کی کیا شناخت یا پہچان ہے…یہ اْس کی سمجھ میں بالکل نہیں آیا ،دفعتاً اْس نے سنتری سے کہا___؟،، تم اس کوّے کو گولی ماردو….!!! تمہارے پاس تو بندوق ہے.!،،
نہیں مائی میں ایسا نہیں کر سکتا…. ،،اگر میں نے گولی چلادی تو اْس مْلک کا سپاہی بھی جوابی فائر کر دے گا اور پگر جنگ بندی ٹوٹ جائے گی اور جنگ چھڑ جائے گی…!
جا مائی…. تْو اپنے گھر جا…. چل لوٹ جا ،ورنہ میں تجھے بھی گولی مار دوں گا _____!! ارے واہ……!! مجھے گولی مار دو گے ؟اْس کوّے کا تو تم کچھ بگاڑ نہیں سکتے جو دن میں کئی مرتبہ تمہاری بنائی ہوئی اس سرحد کے آر پار بغیر اجازت اور پاسپورٹ کے آتا جاتا ہے.. اور تم مجھے گولی مارو گے ؟؟؟
سْنو…!!میرا کْتا بھی ایسا ہی کرتا ہے _آج بھی وہ سرحد کے اْس پار گیا ہوا ہے… اور ریچھ اِدھر سے اْدھر اور اْدھر سے اِدھر جا کر مکئی کھا جاتے ہیں __بندر ،لومڑیاں،گیدڑ ،شیر،سانپ ،بچھو، تتلیاں ، پتنگے ،چڑیاں ،کو ّے چیلیں ،کبوتر اور قْمریاں… دن بھر اِدھر سے اْدھر اور اْدھر سے اِدھر…
اے مائی…!بکواس بند کرو!! یہ مجھے نت سْناؤ ،یہ جاکر اوپر والے افسروں والوں…..
ہاں ہاں میں تو بکواس کر رہی ہوں… کیا یہ پابندیاں صرف انسانوں کے لئے ہیں ؟
نام نہاد مہذب انسانوں کے لئے ؟؟؟کہتے ہوئے رحمت جان کا چہرہ سْرخ ہو رہا تھا ،،لیکن رحمت جان کی باتو ں کا جواب دینے والا وہاں کوئی نہیں تھا __اْس کی آواز ان پہاڑیوں اور گھاٹیوں میں گونجتی ہوئی صدائے بازگشتبن کر رہ گئی…جواب دو ______!جواب دو____! رحمت جان .چلاتی رہ گئی _____،،،،،
٭٭٭
