تحریر :ڈاکٹر نذیر مشتاق
اندھیرے میں۔۔۔
سرکاری اسپتال اور ریلوے پلیٹ فارم میں کوءی زیادہ فرق نہیں ہوتا ہے۔۔اسٹیٹ گورنمنٹ اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے سامنے کاریڑور میں بہت سارے تیماردار جمع تھے ان میں شام کمار اور اس کی بیوی سدھا بھی شامل تھی شام کمار کی ماں کو ایڑمٹ کیا گیا تھا دن بھر علاج کے بعد اب وہ گہری نیںند میں۔تھی
شام کمار نے اپنی بیوی سے کہا۔۔تم یہاں بستر بچھاو کمبل اوڑھ لو۔۔ماں اب ٹھیک ہے تم آرام کرو میں بازار جاتا ہوں رکشا چلاوں گا تو کچھ نہ کچھ کمالوں گا
شام کمار سٹار سینما کے باہر سواری کا انتظار کر رہا تھا۔
اچانک ایک سہمی ہوءی جوان لڑکی اس کے رکشا میں بیٹھ گءی۔۔۔۔کہاں چلوں ۔۔۔شام کمار نے پوچھا
میں گھر سے بھاگی ہوں کل صبح مجھے کلکتہ جانا ہے آج رات مجھے اپنے گھر میں پناہ دو۔۔شام کمار نے بیڑی سلگاءی اور گھر کی طرف چل دیا۔۔۔لڑکی جلدی سوگءی اور شام کمار شراب پینے لگا۔۔رات کے دو بجے وہ نشے میں دھت لڑکی کے کمرے میں داخل ہوا اور زبردستی اس کی عصمت دری کی۔۔۔صبح وہ جاگا تو لڑکی چلی گئی تھی ۔وہ اٹھا اور رکشا اسپتال کی طرف دوڑانے لگا۔۔۔اسپتال پہنچ کر وہ سیدھا بیوی کے پاس گیا تاکہ اس سے کہ سکے کہ وہ رات کسی لپھڑے میں پھنس گیا تھا اس لیے اسپتال نہ آسکا۔اس نے کہنا چاہا کہ اس کی بیوی نے اس سے کہا۔۔کیوں جی آپ کو کیا ہو گیا تھا۔کل میری آنکھ لگی تھی کہ آپ آیے اور مجھے اپنی باہوں میں بھینچ لیا اور میں نے زرا آنکھ کھولی ہر طرف اندھیرا تھا۔۔آپ کو کیا ہوگیا تھا اتنی بھی بے صبری۔کیا۔۔۔۔۔۔اس کی بیوی کہے جارہی تھی اور وہ اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
آلنفسی
وہ دونوں اب بوڑھے ہوچکے تھے۔ ان کے بیٹے ان سے دور تھے۔اس لیے دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔دونوں کءی بیماریوں میں مبتلا تھے۔۔۔پچھلی بار دونوں ڈاکٹر کے پاس گیے تھے۔ ڈاکٹر نے سمجھایا کہ شوگر اور ہای بلڑ پریشر کی دواییاں زندگی کے آخری دن تک استعمال کرنی ہیں اور ہاں ہای بلڑ پریشر کی دوا کبھی بھول نہ جاءے گا۔۔جس دن مس ہوگءی اسی دن دماغ کی شریان پھٹ جانے کا خطرہ ہوسکتا ہے اور مریض کی جان بھی جاسکتی ہے۔ڈاکٹر کی یہ باتیں دونوں کے دل میں گھر کر گءیں۔۔مرد نے دواییاں خرید کر گھر میں رکھ لیں۔ دونوں کے پاس اپنا اپنا ڈبہ تھاان می شوگر اور ہای بلڑ پریشر کی دواییاں موجود تھیں۔۔۔
آج صبح جب مرد نے دواییوں کا ڈبہ کھولا تو دیکھا کہ ہای بلڑ پریشر کی دوا ختم ہوگءی ہے۔۔۔۔
اس نے بیوی سے کہا۔ بلڑ پریشر کی دوا ختم ہوگءی ہے تمہارے ڈبے میں موجود ہے مجھے ایک ٹیبلٹ دو۔۔۔۔آج تو ہڑتال ہے بازار بند ہے کل ملے گی
بیوی نے ڈبہ کھول کر دیکھا اس میں صرف ایک ٹیبلٹ بچی تھی۔۔۔اسے ڈاکٹر کی بات یاد آگءی اس نے جلدی سے ٹیبلٹ حلق سے اتاری اور شوہر سے کہا
میرے پاس بھی نہیں ہے۔۔۔۔
مسئلہ
اب تو تمہیں خوش ہونا چاہیے تمہیں ایک جیون ساتھی مل گیا اب تم اس کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی کے شب و روز گزارنے کی کوشش کرو۔۔۔شاہدہ نے اپنی سہیلی رضیہ سے کہا۔۔ رضیہ نے جواب دیا۔۔۔۔
تم بالکل صحیح کہہ رہی ہو مگر۔۔۔۔۔۔شاہدہ نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔۔۔۔اگر مگر چھوڑ دو۔ بھول جاو کہ اس سے پہلے کبھی تمہاری شادی ہوءی تھی اور شادی کے دو سال بعد تمہارا شوہر لاپتہ ہوا تھا۔ تم نے پورے آٹھ سال اس کے انتظار میں گزارے ۔وہ نہیں آیا تو تمہارے ماں باپ نے تمہاری شادی کروادی۔۔اب کیا مسءلہ ہے۔ شاہدہ نے اسے سمجھاتے ہویے کہا۔۔۔۔
رضیہ نے کہنا شروع کیا۔ ۔۔۔شاھدہ تمہیں معلوم ہے کہ میں اس سے۔۔۔۔
شاہدہ نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔۔۔۔مجھے معلوم ہے وہ تمہارے بچپن کا ساتھی تھا اور تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جنوں کی حد تک پیار کرتے تھے۔ مگر وہ لاپتہ ہو گیا۔ تمہیں زندہ رہنے کے لیے ایک ساتھی کی ضرورت ہے وہ تمہیں مل گیا۔ اب کیا مسءلہ ہے شاہدہ نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا رضیہ نے شاہدہ کی طرف آنسو بھری آنکھوں سے دیکھتے ہویے کہا۔۔۔۔۔
مسءلہ یہ ہے میرے بچپن کا ساتھی میرا پیار میرا پہلا شوہر آٹھ سال لاپتہ رہنے کے بعد صحیح سلامت واپس آیا ہے۔۔۔۔
شاشو
بڈھے نے آج پھر بستر گیلا کیا ہے اس کے کمرے سے گلی سڑی مچھلیوں کی بو آرہی ہے۔ میرا تو سر چکرا رہا ہے۔صبح سے الٹیاں کر رہی ہوں۔۔میں یہاں سے جارہی ہوں۔
ٹھہرو تم کہیں نہ جاؤ گی۔۔وہ اپنے باپ کے کمرے میں گیا اور غصے میں باپ سے کہا۔۔۔بابا آپ نے میرا جینا حرام کر دیا ہے۔۔تین راتوں سے بسترہ گیلا کرتے ہو اور پھر یہ بدبو۔۔۔کیا کروں میں۔۔۔۔۔بہتر ہے میں آپ کو۔۔۔۔
اولڈ ایج ہوم سے واپس آکر اس نے بیوی کے ساتھ ناشتہ کیا اور باپ کے کمرے میں گیا تاکہ گیلے بسترہ کو باہر آنگن میں رکھے۔۔۔اچانک تکیے کے نیچے اس کی نظر ایک ڈایری پر پڑی۔۔۔۔ڈایری کی ورق گردانی کرتے کرتے ایک صفحے پر اس کی نظریں اٹک گءیں
آج میرے بیٹے شاشو نے پھر سے رات کو بستر گیلا کیا۔چار ماہ سے وہ ایسا کر رہا ہے مجھے سونے بھی نہیں دیتا۔
ایک دوست کے کہنے پر میں ڈاکٹر جمال الدین سے ملا اس نے مجھے سمجھایا کہ یہ ایک سماجی اور نفسیاتی پرابلم ہے۔۔اس نے سارے ٹیسٹ کیے اور پھر کیڑے مار دواءی دی۔۔اور پیار سے میرے بیٹے سے کہا ۔۔تو شاشو ہے۔جو بچہ رات کو بسترہ گیلا کرے اسے شاشو کہتے ہیں مطلب پیشاب کرنے والا۔ تب سے میں بھی منا کو شاشو کہتا ہوں۔۔دوا کھانے کے بعد اب شاشو کبھی کبھی بسترہ گیلا کرتا ہے کمرے میں بدبو پھیل جاتی ہے مگر کیا کروں وہ میری جان ہے اسے اپنے سے الگ کیسے کروں
پڑھتے پڑھتے شاشو کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔اس نے ڈایری سنبھال کے رکھی اور تیز تیز قدموں سے باہر نکلا۔۔۔۔کار اسٹارٹ کی اور سیدھا اولڈ ایج ہوم کی طرف ڈرائیو کرنے لگا۔۔۔۔۔
کرسی۔۔۔۔
۔۔یوم ضد رشوت کے مناسبت سے
صاحب۔ آپ تین مہینے سے ہر روز اس دفتر میں آتے جاتے ہیں کیا آپ کا کام نہیں ہورہاہے ہے۔ اس بہت بڑے محکمہ کے ایک دفتر میں ایک نوجوان نے مجھ سے کہا۔
ہاں بھای یہاں میری کوی سنتا ہی نہیں حالاں کہ میں نے سبھی قانونی تقاضے پورے کیے ہیں میں نے جواب دیا۔
ارے صاحب۔۔قانون کی یہاں کون پروا کرتا ہے قانون تو صرف کتابوں میں درج ہے یہاں قانون نہیں پیسہ چلتا ہے۔
آپمجھے بتادیجیے کہ آپ کو اس دفتر میں کیا کام ہے میں آپ کا کام کرواؤں گا بشرطیکہ آپ وہ پوری رقم ادا کریں گے جو خرچ ہوگی۔۔۔۔۔اس نوجوان نے مجھے سمجھایا۔۔۔۔۔۔اگرمیں رشوت نہ دوں تو ۔۔۔۔میں نے نوجوان سے مسکراتے ہوئے کہا۔
تو آپ کا کام کبھی کوی نہیں کرے گا یہاں رشوت لیے بغیر کوی ملازم کوی کام نہیں کرتا ہے۔۔نوجوان نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔
کوی رستہ نہیں ہے۔ میں نے سوال کیا؟
ہاں صاحب آپ بڑے صاحب سے بات کریں وہ بہت ایماندار اور کام کرنے والے آفیسر ہیں۔۔۔کیا بات ہے ان کی پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں دو بار حج کر چکے ہیں۔۔پکےمومن ہیں درویش صفت انسان ہیں۔ کبھی رشوت نہیں لیتے ہیں وہ شیر ہیں شیر اور ان کے انڈر کام کرنے والے سب کتے ہیں کتے ہر وقت ہڈی کا انتظار کرتے ہیں۔۔۔آپ بڑے صاحب سے ضرور ملیے۔
بڑے صاحب میرے سامنے کرسی پر بیٹھے ہیں میں نے ابنا دکھڑا سنایا اور کہا۔ اب اپنے ماتحت کام کرنے والے ملازموں کو رشوت لینے سے کیوں نہیں روکتے ہیں یہاں گیٹ کیپر سے لےکر اوپر تک سب رشوت کا تقاضا کرتے ہیں۔
آپ کیوں کچھ نہیں کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری بات غور سے سن کر اس نے آہ بھر کر جواب دیا۔
میں کیا کروں میں نے خود یہ کرسی دو کروڑ روپے میں خریدی ہے۔۔۔۔۔۔۔اوپر والوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ؕنسخہ
رحمت علی یارباش اسٹیٹ اسپتال کے وارڑ نمبر گیارہ میں بیڑ نمبر سات پر لیٹا ہوا تھا۔۔اس کی بیوی ایک طرف اور اس کی بیٹی دوسری طرف اسٹول پر بیٹھی تھیں۔اس کے دو بیٹے اس کے پیروں کی طرف کھڑے تھے۔۔وہ سب پریشان تھے کیونکہ رحمت علی صبح سے آنکھیں بند کیے ہویے تھا۔ کسی کے کہنے پر آنکھیں نہیں کھول رہا تھا۔۔سبوں نے کوشش کی مگر وہ کسی بھی صورت میں آنکھیں کھولنے پر راضی نہیں ہورہا تھا۔وہ اپنے گھر والوں سے بہت ناراض تھے جنہوں نے کل رات اسے جایداد تقسیم کرنے کے لئے کہا تھا۔۔۔اس کے دل پر چوٹ لگی تھی کہ اس کے اپنے اس کے مرنے کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔۔۔وہ ان سے روٹھ گیا اور آنکھیں بند کرکے بیڑ پر پڑا رہا۔۔وارڑ کی نرسوں اور جونیر ڈاکٹروں نے بھی بہت کوشش کی ۔بہت سارے حربے آزمائے مگر اس نے آنکھیں نہیں کھولیں۔۔۔اس کی بیوی حد سے زیادہ پریشان تھی۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔کسیکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ رحمت علی آنکھیں کیوں نہیں کھول رہا ہے ۔۔ہر کوی اسی سوچ میں گم تھا کہ وارڑ کے بڑے ڈاکٹر سلامت احمد اپنی ٹیم کے ہمراہ آیے۔۔۔اس نے انچارج ڈاکٹر سے رحمت علی کے بارے میں پوچھا۔۔۔۔ڈاکٹر نے جواب میں کہا۔ سر وہ بالکل صحت مند ہے پرابلم صرف یہ ہے کہ وہ صبح سے آنکھیں بند کیے ہویے سورہا ہے اس کے تیمارداروں اور وارڑ کے سٹاف نے پوری کوشش کی مگر بےسود۔۔۔۔ایسا لگتا ہے جیسے وہ کوما میں چلا گیا ہے۔۔
ڈاکٹر سلامت نے مریض کو غور سے دیکھا۔۔۔۔اور کچھ سوچ کر اچانک سامنے کھڑی نرس سے اونچی آواز میں مخاطب ہوا
کیا بات ہےقدرت نے تجھے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے میں نے تم جیسی حسین وجمیل لڑکی آج تک
نہیں دیکھی ہے تم قدرت کا ایک شاہکار ہو۔ کیا حسن پایا ہے تم نے جی نہیں چاہتا تم سے نظریں ہٹاوں۔۔
اچانک مریض آنکھیں کھول کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔۔
جومی
اب اس کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی۔۔وہ جو کچھ کہتا بالکل صحیح ثابت ہوتا۔ وہ کسی کو جینے مرنے کی بالکل درست تاریخ بتاتا اس کی ہر پیشین گوئی بالکل درست ہوتی اباس کے گھر کے باہر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوتی اور وہ صبحِ سے شام تک لوگوں کے مسایل حل کرتا۔۔۔۔اس کی آمدنی میں بھی قابل قدر اضافہ ہوا تھا۔۔
دو دن پہلے اس کا اکلوتا بیٹا بیمار ہوا۔۔۔اسنے کسی وید سے بیٹے کا علاج کروایا اور خود رات کی تنہائی میں اس کی جنم کنڈلی دیکھی رات بھر کی عرق ریزی کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچاکہ اسکابیٹا صرف سات دنوں کا مہمان ہے اپنے بارے میں وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ ابھی گیارہ سال زندہ رہے گا۔۔۔
وہ پریشان ہوا اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا اس کے سر میں درد ہونے لگا۔۔۔۔وہ ہررات پاگلوں کی طرح کاغذات اور قدیمی کتابیں کھنگالتا شاید کوی ترکیب نکل آیے اور اسکا بیٹا موت سے بچ جانے۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک سات دن بعد آدھی رات کے بعد اچانک اس کا سر چکرایا آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور اس کی ناک سے خون جاری ہوا
دوسرے دن اس کے بیٹے نے اس کی چتا کو آگ لگای
