تحریر:فلک ریاض
خانقاہ معلٰی سرینگر
ایک شادی شدہ مرد بیچارہ ازل ہی سے ”عورت کے ساتھ عورت کی جنگ“ کے دوران بیچ میں کچلا جا رہا ہے۔ ظلم و ستم کا شکار رہا ہے۔شادی کے بعد پوری طرح سے ”عورتانہ“ بربریت کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔شادی سے پہلے یہ اپنے من کی بات آزادانہ طور کہہ سکتا ہے۔مطلب گھر کے افراد کو مشورہ دے سکتا ہے۔غلط بات پہ احتجاج کر سکتا ہے۔اپنا حکم چلا سکتا ہے۔اسے نہ اپنے ماں باپ،نہ بھائی بہن، نہ اپنی بیوی شک کی نگاہوں سے دیکھتی ہے۔اور اس کی بات بھی سود مند سمجھی جاتی ہے۔اس کا مشورہ من و عن تسلیم کیا جاتا ہے۔مگر جونہی یہ شادی کے بندھن میں بندھ جاتا ہے۔تو اگر گھر والوں کو کوئی رائے کوئی مشورے سے نوازتا ہے، تو نگاہوں کے اشارے شروع ہونے لگتے ہیں ۔کانا پھوسی جھٹ سے شروع” ۔۔۔دیکھو تو۔۔۔ کیا بول رہے ہیں بھیا ۔۔آج سے پہلے کبھی ایسی بات نہیں کی۔۔بیوی کے اشاروں پہ چلنے لگے ہیں بھائی صاحب۔۔“۔۔۔تو دوسری طرف کان دھرنے والا بھائی یا بہن اور زیادہ کلفی میں ناریل چڑھانے کا کام کرتی ہے۔۔۔” کام سے آتے ہی بیوی کے کمرے میں لپکتا ہے۔ جورو کا غلام کہیں کا۔۔“۔۔اور گھر بھر میں یہ جملہ زباں زباں عام ہوجاتا ہے کہ ”۔۔۔ اس کو بیوی نے سکھایا ہوگا۔۔۔۔“۔
ماں گویا امریکہ۔۔بیوی مثلِ روس۔۔ اور بہن ملکِ چین، اور یہ بے چارہ ان سب کے درمیاں ایک کمزور و غریب مُلک کی طرح پِس جاتا ہے۔ماں کی بات کرے تو بیوی کی نظروں میں امریکہ نواز۔بیوی کی طرف سے بات کرے تو روس کا حامی ۔۔اور بیوی کو اگر کوئی مشورہ دے تو بیوی اس بات کو میدانِ چینا سمجھتی ہے مطلب غصہ کی حالت میں اپنے ہونٹوں کو کاٹنے لگتی ہے کہ ”ضرور میری غیر موجودگی میں میری نَنَد مطلب لڑکے کی بہن نے یہ بات کہی ہے،جس کو میرا شوہر اب دہرا رہا ہے۔۔“تو جھٹ سے شوہر کی بات کو رَد کرتی ہے۔۔اور ڈانٹ ڈپٹ بھی۔۔اگر بیوی میکے گئی ہے۔دس پندرہ دن بیت گئے وہاں پہ، کام کی وجہ سے شوہر نہیں جاپایا سسرال بیوی کے پاس، تو بیوی اور ساس جلدی سے لقب تیار کرتی ہیں تیوری چڑھاکے ” ماجِ گَبُر“ مطلب ماں سے لپٹا ہوا چوزا۔۔
یارو میری طرح جو شریف، سلجھا ہُوا اور مصلحت پسند شادی شدہ لڑکا ہوتا ہے اس کی کوشش ہمیشہ ہوتی ہے کہ گھرانے کی نَیا ڈانا ڈول نہ ہو۔۔ساس بہو میں اَن بَن نہ ہونے پائے۔۔وہ دونوں کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔۔ ہوشمندی کو اپناتا ہے۔بہو کو ساس سے کوئی شکایت ہو تو وہ سب سے پہلے شوہر کو سُناتی ہے۔۔شوہر خاموشی کے ساتھ سنتا ہے۔ اور بیوی سے کہتا ہے کہ ”کوئی بات نہیں صبر سے کام لو ماں بزرگ ہے۔ان کی باتیں، حرکتیں ہم کو برداشت کرنی پڑیں گی۔۔“ ماں کوئی شکایت بہو کی کرتی ہے تو مصلحت پسند امن پسند بیٹا سنجیدہ ہوکر کہتا ہے ” کوئی بات نہیں ماں ۔۔دھیرے دھیرے دنیا داری سیکھ جائے گی۔۔میں سمجھا دونگا۔۔“ مگر ان دونوں کو جوابات دے کر ان کی کہی شکایتوں پہ کوئی رِیکشن نہ لینے پہ پتہ ہے آپ کو کہ ماں اور بیوی اپنے اپنے دلوں میں کیا القاب تیار کرتی ہیں؟ ۔۔بیوی ” ناکارہ ڈرپوک شوہر“ اور ماں کہتی ہے ” بیوی کی انگلی پہ ناچنے والا ناکارہ انسان“ یہ دونوں القاب ہیں امن پسند شریف بیٹے کے لئے۔
شادی شدہ لڑکا وہ فٹبال ہے،جس کو گھر میں نہ صرف شک اور الزامات کی لاتوں سے پیٹا جاتا ہے۔بلکہ کینہ سے بھرے الفاظ کے گھونسوں سے بھی کُوٹا جاتا ہے۔دونوں طرف کی آگ میں پھنسایہ بے کس و مظلوم جس کروٹ بھاگتا ہے۔جھلس کے رہ جاتا ہے۔
میرا ایک دوست ہے جس کی شادی کو چھہ مہینے بیت گئے۔کل اپنی رُوداد سُنا رہا تھا۔بولا آفس سے نکل کر گھر کی طرف چل پڑا۔بڑے بازار میں ریڑے والوں کی قطار لگی ہوئی تھی۔جن کے پاس بہترین اقسام کے انگور تھے فروخت کے لئے۔انگور کی طرف نظر پڑتے ہی والد صاحب نظروں کے سامنے آگئے۔ان کو انگور بہت پسند ہیں۔تو ایک کلو خرید لئے ان کے لیے۔خوشی خوشی گھر کی طرف ہو لیا۔کہ والد صاحب کی خدمت کروں۔ گھر پہونچتے ہی سیدھا باورچی خانہ سے اٹیچ کمرے میں گیا۔والد صاحب، والدہ، بہن، اور میری بیوی چائے پی رہے تھے۔میں مسکرا کے والد صاحب کی طرف دیکھنے لگا والد صاحب بھی میری طرف مسکرا کے دیکھنے لگے۔”ابو جی آپ کے لئے“ ابھی بول ہی رہا تھا کہ والد صاحب طنزیہ انداز میں کہنے لگے۔۔” واہ جی واہ۔۔ شادی کے بعد لوگوں کو بازار میں میوے بھی نظر آنے لگے ہیں۔ ورنہ گھر میں صرف میں لاتا تھا سب کے لئے میوے۔۔۔لو بہو اپنے کمرے میں لے جا۔۔۔تھوڑے بہت ہم بوڑھا بوڑھی کے لئے رکھ دو ۔ ہم بھی چکھیںگے۔۔“ والد صاحب کی بات سن کے میرے جذبات کو ٹھیس پہونچی۔۔میں جلدی سے بولا ” نہیں ۔۔۔اپنے کمرے میں کیوں میں آپ دونوں کے لیے خرید لایا ہوں۔ابو امی آپ دونوں کھائیں۔۔“ میں شفقت بھرے لہجہ کے ساتھ بولا تو ابو کے بولوں میں پھر سے تیر پنہاں تھے جو جگر کے پار اتر گئے۔بولیں” چلو ٹھیک ہے۔گلاب کے پودے کو سینچائی کے بہانے گھاس پھوس کی بھی آبیاری۔“ جی میں آیا کہ بچوں کی طرح رو لوں۔ مگر صبر کا دامن تھام لیا۔۔مایوس قدموں کے ساتھ اپنے کمرے میں گیا۔۔تو چند ساعت بعد بیگم بھی آگئی۔۔میں منھ لٹکائے کپڑے بدلنے لگا۔۔تو بیوی موڈ بنا کے بولی۔۔۔” موڈ کیوں خراب ہے“۔۔تو میں ہمدردی کے دو چار الفاظ سننے کے لئے جلدی اس کی طرف مڑا اور جلدی سے بولا” ۔۔۔دیکھا ابو کی الٹی سیدھی باتیں۔
میں یقیناً ان کے لئے ہی انگور لایا تھا۔ ان کو پسند ہیں نا۔۔“ کہہ کے میں معصوم نظروں سے اسے دیکھنے لگا کہ بیوی کا پیار سمیٹ لوں ۔۔اور تسلی کے دو الفاظ سن لوں۔۔۔مگر وہ تیور چڑھا کے بولی” ہاں ورنہ میرے لئے تھوڑی نالاتے۔ میں کون ہوں آپ کی۔ میری چیزیں کہاں یاد رہتی ہیں آپ کو۔۔۔“
اب جی میں آرہا تھا کہ چاک گِریباں کر کے زور زور سے اپنا چہرہ و سینہ پیٹوں۔۔“
میں نے دوست کی یہ رُوداد سنی تو ہنسی بھی آرہی تھی اور حیرت بھی تھی دل میں ۔دراصل بیٹے کی شادی ہوتے ہی،ماں کو گماں ہوتا ہے کہ ایک پرائی لڑکی گھر میں آگئی، اور میرے بیٹے کو مجھ سے چرا کے لے گئی ۔اور بیوی کو لگتا ہے کہ میرا شوہر ہر بات اپنی ماں سے شِیر کرتا ہے۔۔تو اپنے اپنے حق کے دفاع میں دونوں کی سیاست بازی شروع ہوجاتی ہے۔بیچ میں کچلا جاتا ہے تو بے چارہ شادی شدہ لڑکا ۔۔۔۔
عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے دنیا بھر میں اَن گِنَت فورم ہیں، تنظیمیں ہیں۔جو ان کے لئے آوازیں اٹھاتے ہیں۔مگر مردوں کا درد کوئی نہیں سمجھتا۔۔ گھر گھر میں مردوں کاایک خاموش ٹارچر ہورہا ہے ۔بے چارے خاموشی سے سہتے جارہے ہیں۔دم گھٹتا جارہا ہے، مرتے جارہے ہیں۔۔اس ظلم کے خلاف دنیا بھر میں آواز اُٹھنی چاہئے۔۔ورنہ ”ہُد ہُد کی طرح “ مرد ”پَرانی“ کی تعداد بھی دھرتی سے کم ہوجائےگی۔۔جس کی ذمہ داری صرف اور صرف عورتوں پہ عاید ہوتی ہے۔ جو شادی شدہ مردوں کا مینٹل،اموشنل،اور جسمانی ٹارچر بھی کرتی ہیں گھر گھر میں۔۔۔۔
وسلام۔۔۔۔
فون۔۔6005513109
