تحریر:نذیر مشتاق
’’اگر فردوس بروئے زمین است، ہمیں است، ہمیں است ، ہمیں است،‘‘ شاعر نے اپنے جذبات کا اظہار اس شعر میں اُس وقت کیا ہے جب اسے معلوم نہ تھا کہ کسی زمانے میں فردوس بروئے زمین جہنم برروئے زمین ہوگا…خیر شاعر نے اس وقت سچ ہی کہا تھا…کشمیر تو سچ مچ کرہ ارض پر جنت کا نظارہ پیش کرتا تھا، یہاں کی نہ صرف سرزمین خوبصورتی میں اپنی مثال ایک تھی (اور ہے) بلکہ اس قطعہ ارض پر رہنے والے لوگ بھی خوبصورتی کی دولت سے مالا مال ہیں یہاں کا حسن و جمال ساری دنیا میں مشہور ہے۔ کشمیری عورتوں کا حسن شاعروں اور ادیبوں نے اپنی نگارشات میں بڑے ہی دلآویز انداز میں بیان کیا ہے۔ ایران کے عظیم اور تمام شاعروں سے زیادہ مقبولیت اور شہرت کے مالک حافظؔ کا کلام ان کی زندگی ہی میں قبول عام کے درجہ تک پہنچاتھا، اُن کے اشعار سیہ چشمان کشمیری اور ترکانِ سمرقند کو بھی بے خودبنا دیا کرتے تھے، وہ ا نہیں سن کر وجدکرنے لگتے تھے ؎
ز شعر حافظ شیرازمی گویند ومی رقضد
سیہ چشمان کشمیری وترکانِ سمرقندی
اسی طرح مورخوں نے بھی اس وادیٔ گلپوش اور یہاں کے رہنے والوں کے حسن کا جابجااظہار کیا ہے…مثلاً سروالٹر آرانس اپنی مشہوری تصنیف’’ویلی آف کشمیر‘‘ میں رقمطراز ہے۔’’میرے خیال میں کشمیری عورتوں کی بے پناہ خوبصورتی سرینگر میں موجود ہے نہ کہ دیہات میں‘‘۔
…مگر لارنس اور شعرائے کرام ظاہری رنگ و روپ سے متاثر ہو کر یہاں کے باشندوں (خاص کر عورتوں) کے حُسن کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کر گئے۔ وہ حقیقت سے ناآشنا تھے۔ وہ نہیں جانتے ہیں کہ یہاں کے مکینوں کا حسن ایک سراب ہے اور یہاں کے ’’چاند سے چہرے‘‘ حسین نہیں بلکہ بیمار ہیں۔ چہروں کی سپید رنگت ظاہری طور خوبصورتی کی علامت ہوسکتی ہے مگر دراصل یہ بیماری اور غربت کی ایک اہم نشانی ہے۔
سرینگر میں رہنے والی تمام لڑکیاں خون کی کمی (Amaemia)کی شکار ہیں۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے ہندوستان کی تیرہ ریاستوں میں ضلعی سطح پر تغذیہ کی صورتحال جانچنے کیلئے ایک سروے کی، جس میں یہ دیکھاگیا کہ آبادی کا کتنا تناسب سوء تغذیہ (فولاد، آیوڈین اور وٹامن اے کی کمی) کا شکار ہے۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر بھی اس سروے میں ایک مرکزی حیثیت کا حامل تھا ۔اس میں ضلع سرینگر اوربارہمولہ شامل تھے۔ ان دو ضلعوں میں حاملہ عورتوں اور غیر شادی شدہ لڑکیوں میں، خون کی کمی کا اندازہ لگانے کے لئے، عالمی ادارہ صحت کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کے بعد جو نتائج اخذ کئے گئے وہ باعث حیرت تھے…ضلع سرینگر میں 96.8فیصد ا وربارہمولہ میں 91.3فیصد حاملہ عورتیں خون کی کمی (Anaemia)کی شکار پائی گئیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سرینگر میں رہنے والی تمام لڑکیاں خون کی کمی کی شکار تھیں جبکہ بارہمولہ کی لڑکیوں میں 91.3فیصد خون کی کمی کی بیماری پائی گئی۔
سروالٹرلارنس اورشاعروں کو کیا پتہ تھا کہ ان کی نظروں کے سامنے جو چاند سے روشن چہرے ہیں وہ دراصل خون کی ایک بیماری میں مبتلا ہیں اور چہروں کی سپید رنگت یا مہتابی چمک قدرے افلاس، غربت اورقدرے عدم واقفیت کی وجہ سے ہے۔ جی ہاںغربت اور افلاس یا بے خبری’حسن‘‘ کی علامت ہوسکتی ہے۔ یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ خون کی کمی اور افلاس یابے خبری’’حسن‘‘ کی علامت ہوسکتی ہے۔ یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ خون کی کمی مناسب و موزوںمقدارمیں غذا نہ کھانے کی وجہ سے ہوسکتی ہے اور ہمارے ہاں یہ وجہ بالکل عام ہے ۔
انیمیا یعنی خون کی کمی جسے فارسی زبان میں کم خونی کہا جاتا ہے، ایک ایسی ’’بیماری‘‘ ہے جو ہمارے کشمیرمیں بالکل عام ہے۔یہ بیماری ہر عمر میں ہر مرد و عورت کو اپنی گرفت میں لیتی ہے فرق صرف یہ ہے کہ عورتوں(خاص کر دوران حاملگی) میں اس کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ کم خونی کے اسباب، علائم بیان کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ ’’خون‘‘ کیا ہے؟انسانی جسم میں خون وہ سرخ محلول ہے جو شریانوں اور وریدوں میں دوڑتا پھرتا ہے اور جسم کے تمام اعضاء کو تغذیہ اور آکسجین فراہم کرتا ہے۔ اسی پر زندگی کا دارومدار ہے اور اگر کسی وجہ سے جسم میں خون کی مقدار کم ہو تو بنی نوع انسان گوناگوں بیماریوں کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے اور خون کی کمی واقع ہو جانے کے بعد انسان کسی بھی صورت میں ایک صحت مند زندگی نہیں گذارسکتا ہے خون میں دو قسم کے اجزاء پائے جاتے ہیں۔ پلازما اور خلے۔ خلیوں میں سرخ خلے،سفید خلیے اور پلیٹلٹ (Platclets)قابل ذکر ہیں۔سرخ خلیوں میں ہیموگلوبن موجود ہوتا ہے جس سے خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ ہیموگلوبن‘‘ ھیم‘‘ اور ’’گلوبن‘‘ سے مل کربنتا ہے ہیم مختلف ہڈیوں کے گودے (Marrow)میں فولاد سے بنتا ہے اور فولاد انسانی جسم کو مختلف غذائوں سے ملتا ہے۔ اس لئے فولاد (Iron)خون بنانے کے لئے اہم ترین جز ہے علاوہ ازیں یہ دماغ کی نشو و نما کیلئے درجہ حرارت اعتدال میں رکھنے کے لئے، عضلات کی کارکردگی کیلئے اور نظام سوخت و ساز کو قائم رکھنے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ سرخ خلئے جسم میں ایک سو بیس دن کام کرنے کے بعد نئے سرے سے ہیم اور گلوبن میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور جسم میں ھیم(فولاد)کی مقدار برابر رہتی ہے۔
خون کی کمی (Anaemia)کیا ہے؟ کم خونی کا مطلب ہے جب کسی شخص کا ھیموگلوبن نارمل مقدار سے کم ہو(بشرطیکہ اس کی عمر اور جنس پیش نظر رکھی جائے) حاملہ عورتوں میں ھیموگلوبن کی مقدار کم ہوتی ہے۔ اگر کسی بالغ مرد کا ھیموگلوبن 12 گرام فی ڈسی لیٹر ہے تو وہ کم خونی کا شکار ہے جبکہ اسی عمر کی بالغ عورت میں یہ نارمل ہے۔ اسی لئے ھیموگلوبن کی مقدار عمر اور جنس پر منحصر ہے۔
وجوہات:
۱۔ کسی بھی وجہ سے جسم سے خون کا ضایع ہونا(ایکسیڈنٹ سے یا کسی بیماری سے) ۲۔ سرخ خلیوں کا کم مقدار میں بننا(۱)غذا کی کمی(۲) فولاد کی کمی (۳)وٹامن B12اور فولک ایسڈ کی کمی، پروٹین (گوشت)کی کمی(۳)دوسری بیماریاں مثلاً جوڑوں گردوں، ہڈیوں،جگر اور طحال کی بیماری(۴)مختلف قسم کے سرطان(۵) مادرزادی کم خونی(۶) سرخ خلیوں کا حد سے زیادہ ٹوٹنا پھوٹنا جس کیلئے ظاہری اورباطنی وجوہات ذمہ دار ہیں۔
علائم:
کم خونی کے علائم اس بات پر منحصر ہیں کہ خون کی کمی کتنی مدت میں اور کس وجہ سے ہوتی ہے۔بعض اوقات خون کی شدید کمی وجود میں آنے کے بعد بھی مریض میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی ہے اور کسی وقت معمولی کمی کی وجہ سے بھی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ علائم کا وجود میں آنا مریض کی عمر اور جنس پر بھی منحصر ہے۔بہرحال عمومی طور علائم خون کی کمی حسب ذیل ہیں:
۱۔ کمزوری،تھاوٹ، بوجھل پن، غنودگی، چکر آنا،سردرد، کمر اور جوڑوں میں درد
۲۔ زرد رنگ، چہرے، جلد ،آنکھوں کے نچلے حصے اور ناخنوں میں زردی چھا جاتی ہے۔
۳۔ دل کی دھڑکن کا تیز ہونا،سانس کا پھولنا، چھاتی میں درداور دل سے وابستہ دوسرے
۴۔ اعصابی نظام کی کمزوری، سردرد، کانوں میں شور، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جانا، زودخستگی، سر خالی خالی لگنا،سرمیں جیسے بھاپ بھری ہوئی ہو آنکھوں کے سامنے تاریکی چھا جانا، غشی طاری ہونا یا بے ہوشی کے دور ے پڑنا، پڑھائی یا کام کرنے میں دل نہ لگنا، روز مرہ کے معمولات میں دلچسپی کم ہونا۔
۵۔ عورتوں میں ماہواری کا کم یا زیادہ ہونا یا بالکل بند ہونا۔
۶۔ غذا کا ہضم نہ ہونا، غذا کھانے کے بعد پیٹ کا پھول جانا، اُبکائی،اُلٹی،قبض کی شکایت، بھوک کی کمی اور وزن کم ہونا۔
۷۔ معمولی بخار کا احساس،بدن گرم یا سرد رہتا ہے۔
تشخیص :
خون کی کمی کا فوری تشخیص کرنا اور بروقت مناسب و موزوں علاج بے حد ضروری ہے ورنہ وقت گذرنے کے ساتھ مریض مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتا ہے اور پھر علاج معالجہ مشکل ہی نہیں ناممکن بن جاتا ہے۔
تشخیص کے لئے ڈاکٹر اور مریض دونوں کیلئے اِن سوالات کا جواب جاننا اور دینا ضروری ہے:
…مکمل اور تفصیلی شرح حال (History)، عمر،جنس…کتنی مدت میں خون کی کمی وجود میں آئی اچانک یا دھیرے دھیرے۔
…خون کا ضایع ہونا۔ جسم سے خون ضایع ہوا تو کیسے؟ نکسیر، زخم معدہ،بواسیر خونی، ماہواری کا حد سے زیادہ ہوا،پیشاب کی سرخی، تھوک کے ساتھ خون کا آنا۔
…بھوک کیسی ہے: وزن کم ہوا ہے؟اسہال ،استفراغ،قبض،یرقان، زبان کے زخم، کوئی آپریشن یا نظام ہاضمہ کی کوئی اور بیماری؟
…حاملہ عورتوں میں؟ کتنے بچوں کو جنم دیا ہے، عادات ایام ماہواری کیا ہیں؟
…رات کو کتنی بار پیشاب کے لئے جانا پڑتا ہے؟
…ہاتھوں پیروں میں سوناپن،چلنے میں دشواری؟
…دانتوں میں سے خون بہنا؟ یا معمولی چوٹ سے بہت دیر تک خون بہنا ہے؟
…جوڑوں اور ہڈیوں میں درد؟
…بخار…دن کو یا رات کو!
…کوئی دوائی…حال یا ماضی میں لی ہو یا لی جارہی ہو۔
پیشہ کیا ہے؟ مثلاً پیپرماشی، کارخانے میں مزدوری وغیرہ
غذا…کیسی غذا، دن میں کیا کیا اور کتنی بار کھائی جاتی ہے۔
… سماجی و اقتصادی صورتحال …سماج کے کس طبقہ سے تعلق رکھتا ہے۔ غریبوں میں ایک قسم کی خون کمی اور امیروں میں دوسری نوع کی خون کی کمی ہوسکتی ہے۔
… شرح حال ماضی…کچھ برس قبل خون کی کمی کے شکار تو نہ تھے۔ وجہ کیا تھی؟ تشخیص کیا تھا اور علاج کیسے اور کتنی دیر تک ہوا تھا۔
معائینہ
خون کی کمی کے شکار مریض خود بھی اپنا معائینہ کرسکتا ہے اور ڈاکٹر کو بھی چاہئے کہ وہ تفصیلی معائینہ کرے۔
جلد:…رنگ،نشانات، جلد نرم ہے یا سخت؟ خون کی کمی میں جلد کا رنگ زرد ہوتا ہے۔
ناخن:… خون کی کمی میں ناخنوں کا رنگ بدل جاتا ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی شکل چمچے جیسی ہوتی ہے۔
آنکھیں، زرد،یرقان زدہ اور چمک غائب ہو جاتی ہے۔
منہ اور دانت: منہ کے اندر کی تہوں کا رنگ زرد ہوتا ہے، دانتوں سے خون بہنا ، مسوڑے متورم ہونا۔
پیٹ: جگر اور طحال سائز میں بڑھ جاتے ہیں۔
نظام دوران خون: فشار خون زیادہ یا کم ہوتا ہے۔
ہڈیاں:… جسم کی ہڈیوں پر دبائو ڈالنے سے درد محسوس ہوتا ہے۔ٹانگوں پر زخم نظر آتے ہیں۔
معائینہ مقصد(Rectum)بواسیر یا سرطان کے آثار:
مریض سے علائم سننے اور پھر معائینہ کرنے کے بعد تشخیص دیا جاسکتا ہے کہ مریض کیوں کس وجہ سے اور کس قسم کی کم خونی میں مبتلا ہے۔ اگر وجہ عیاں ہو تو اس کا علاج کیا جاتا ہے۔خون کی کمی کا بروقت مناسب اور موزوں علاج ضروری ہے اس کے لئے کچھ Testانجام دینا ضروری ہے اور جب تشخیص حتمی ہو تو معالج آپ کے لئے دوائیاں تجویز کرے گا اور آپ کو مشورہ دے گا کہ کس قسم کی غذا کھانا ضروری ہے… اور کس مقدار میں، کتنی دیر تک، کون سی دوائی استعمال کرنا ضروری ہے۔ اپنے معالج کے ہدایات پر ایمانداری اور سختی سے عمل کیجئے اور اپنے جسم میں خون کی مقدار برابر رکھنے کی سعی کیجئے ورنہ آپ کے چاند سے چہرے کو دیکھ کر آپ اور آپ کو دیکھنے والے یہ سمجھیں گے کہ آپ خوبصورت ہیں جبکہ حقیقت میں آپ کسی بیماری کے شکار ہوں گے اور آپ کے جسم میں خون کی کمی ہوگی…آئندہ آئینے میں اپنا چہرہ ضرور دیکھئے اور اگر رنگ کچھ زیادہ ہی سفید یا زرد ہے تو…سوچئے اور پھر اپنے خون کا Testضرور کروائیے تاکہ پتہ چلے آپ سچ مچ’’خوبصورت‘‘ ہیں یا بیمار…؟؟
lRRl
131
