تحریر:پرویز مانوس
شاہزیب کے اس غیر متوقع فیصلے نےپورے گھر میں کھلبلی مچادی تھی ۔۔ گھر کے سارے کے سارے افراد اس فیصلے کا سبب جاننے کے لئے سوچوں کے گرداب میں ڈوب گئے ۔۔۔۔۔۔،،،
شاہزیب گُل محمد کا چھوٹا بیٹا تھا ۔۔۔ جو نہایت ہی نازونعم اور لاڈ پیار سے پروان چڑھا تھا گُل محمد نے اُسے اس غرض سے ایم بی اے کرنے کے لئے یورپ بھیجا تھا تاکہ وہ بیرون ممالک تک پھیلے قالین بافی کے اس کاروبار کو سنبھال سکے ۔۔۔ وہ سال میں ایک مرتبہ گھر آتا اور خوب موج مستی کرنے کے بعد اپنا ہدف حاصل کرنے کے لئے واپس لوٹ جاتا ۔۔۔ اب کی بار وہ اپنی تعلیم مکمل کر کے وطن لوٹا تھا ۔۔۔ وہ صنعت و حرفت کی سمت میں کچھ مختلف کرنا چاہتا تھا ،اسی لئے وہ شہر کے تمام چھوٹے بڑے قالین ، نمدے، اور گبے کے کارخانوں کے مالکان سے مل کر اس صنعت کے بارے میں اُن کی تجاویز جاننا چاہتا تھا ۔۔۔ اسی سلسلے میں شاہزیب ایک شاندار آفس میں اس کمپنی کی مالک مس قندیل کے روبرو بیٹھ کر نمونے دیکھنے کے بعد نمدے اور گبے کی تجدید کاری پر محو گفتگو تھا کہ نزدیک کی مسجد سے گونجنے والی اذان سے ساری فضا کو پُر کیف بنادیا ۔۔۔،،، قندیل ہاتھ میں پکڑا ہوا پین قلمدان میں رکھتے ہوئے اُس سے مخاطب ہوئی ،،، ایکسکیوز می! میری نماز کا وقت ہو گیا ہے ۔۔۔ آپ تب تک چائے نوش فرمائیں ،، پھر اُس نے کال بیل بجا کر چپراسی سے چائے لانے کو کہا اور خود اپنے نجی کیبن کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔،، شاہزیب دیر تک ٹکٹکی باندھے اُسے چلتے دیکھتا رہا ۔۔۔،،چونکہ قندیل کو چلنے میں کچھ دُشواری پیش آرہی تھی ،،،،
چپراسی چائے لے کر آفس میں داخل ہوا تو شاہزیب نے اُس سے جھجھکتے ہوئے دریافت کیا ،، بڑے میاں میڈم کے چلنے میں کوئی پرابلم ہے کیا ؟ ارے صاحب کیا پوچھتے ہو! یہ ایک طویل اور درد بھری کہانی ہے ،، چند سال قبل اُن کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا ،، چپراسی نے پلیٹ سمیت چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔،،اوہ ۔۔۔! شاہزیب کے مُنہ سے بے ساختہ نکل گیا ۔۔۔،،
چائے کی چُسکیاں لینےکے دوران وہ قندیل کی شخصیت کے بارے میں سوچتا رہا ۔۔۔،،وہ اُس کے حُسنِ اخلاق ، اندازِ گفتگو اور ہُنر مندانہ صلاحیتوں سے بے حد متاثر ہوا تھا ۔۔۔ خوبصورت نام کے ساتھ گول چہرہ ، پُر کشش آنکھیں ،بھر ے بھرے عارض ، گلابی ہونٹ ، حجاب میں وہ اور بھی خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔،،
شاہزیب نے خالی کپ ٹیبل پر رکھا ہی تھا کہ قندیل اپنے کیبن سے نکل کر اپنی کرسی پر براجمان ہوئی ۔۔۔،،آپ کی چائے پہنچی کہ نہیں ؟ قندیل نے حجاب میں پِن لگاتے ہوئے پوچھا ،، جی بالکل ، میں پی بھی چُکا! شاہزیب نے ٹیبل پر رکھے ہوئے نیپکین سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔،، تو کیسی لگیں آپ کو ہماری تجاویز ؟قندیل نے کرسی کے پُشت سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔،،بہت ہی اچھی اور نفیس ، مجھے یقین ہے کہ ہینڈی کرافٹ کی تجدید کاری اور فروغ کے لئے آپ کی تجاویز بے حد مُفید ثابت ہونگی ۔۔۔،،
شکریہ! قندیل نے اپنا دایاں ہاتھ جبیں تک لاتے آداب بجا لایا ۔۔۔،،، کیا آپ سے ایک ذاتی سوال پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں ؟ شاہزیب نے جھینپتے ہوئے کہا ۔۔۔،،اس بات پر قندیل چونکی نہیں بلکہ مُسکراتے ہوئے بولی ،، دیگر لوگوں کی طرح آپ کا بھی یہی سوال ہوگا کہ میں لنگڑا کر کیوں چلتی ہوں ؟ کیوں ہے نا ؟ قندیل کے مُنہ سے یہ جُملہ سُن کر شاہزیب شرم سے آب آب ہوگیا اور کہہ اُٹھا ،،میرا ارادہ آپ کو تکلیف پہنچانے کا بالکل نہیں تھا ۔۔۔،،شاہزیب صاحب اب تو ایسے سوالات سُننے کی عادت سی ہو گئی ہے ،، قندیل نے مُسکراتے ہوئے کہا تو شاہزیب بھی ندامت بھرے لہجے میں بولا ،، معافی چاہتا ہوں… ،
اٹ از اوکے ۔۔۔ میں آپ کو ضرور سُناؤں گی اپنی بد نصیبی کی کہانی ۔۔۔،، شاہزیب صاحب! یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں ایم بی اے کے فائنل سمسٹر میں تھی ۔۔۔ دیگر لڑکیوں کی طرح میری بھی خواہش تھی کہ میرے پاس بھی ایک عدد اسکوٹی ہو جس پر بیٹھ کر میں یونیورسٹی جایا کروں ۔۔۔،،
لہذا میرے والد نے بینک سے قرض لے کر اسکوٹی خرید کر دی۔۔۔ اب میں خوش تھی کہ آرام سے یونیورسٹی آیا جایا کروں کی ۔۔۔،،،
عید کا وہ بدنصیب دن مجھے آج بھی یاد ہے جب سہ پہر کو میں اپنی ایک سہیلی کے گھر سے لوٹ رہی تھی کہ شہر کے وسط میں پہنچ کر پیچھے سے آرہی ایک تیز رفتار کار نے میری اسکوٹی کو ٹکر مار دی جس کی وجہ سے میں دُور جاگری ۔۔۔ ،
میں نے دیکھا کہ آس پاس کھڑے لوگ کار والے کو پکڑ نے کے بجائےمیرے تڑپنے کی ویڈیو بنانے میں مصروف تھے ۔۔۔،،پھر جب مجھے ہوش آیا تو میں اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہو چُکی تھی ۔۔۔،،، اسپتال سے آنے کے بعد میں چند ماہ تک بیساکھیوں کے سہارے ادھر اُدھر چلتی پھرتی رہی ۔۔۔،،، اس دوران میرے ایک پروفیسر نے ایک غیر سرکاری تنظیم سے رابطہ کیا جو انسانی ہمدردی کی بُنیادی پر معزوروں کو مصنوعی اعضا فراہم کرتی تھی پھر انہوں نے مجھے مصنوعی ٹانگ لگا کر چلنے پھر نے کے قابل بنا دیا ۔۔۔ اس سے میری ہمت اور حوصلہ بڑھ گیا ۔۔۔چند مہینے کے بعد میرے ایک ہم جماعت میری خبر گیری لینے آئےتو انہوں نے مجھے صلاح دی کہ گھر میں بیٹھی بیٹھی اُکتا جاو گی اس سے بہتر ہے کوئی کام شروع کیا جائے ۔۔۔ میں نے اس سے قالین اور نمدے گبے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا مگر اس میں بڑی رقم درکار تھی ۔۔۔ اس نے جیسے تیسے رقم کا بندوبست کر دیا جس سے پہلے میں نے کچھ سلیف ہیلپ گروپ بنائے اور بعد میں اس بنیاد پر بینک سے قرض وغیرہ لے کر یہ بزنس اسٹیبلیش کیا جس میں میرا ہم جماعتی شراکت دار ہے پھر ہم نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نئے نئے ڈیزائین تیار کر کے اپنی ویب سائٹ پر ڈالے جنہیں بیرون مما لک میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا پھر ہمیں بڑے بڑے آرڈر ملنے لگے اور ہمارا حوصلہ مزید بڑھ گیا _ میں نے اپنے یونٹ کو سماجی ویب سائٹ پر خوب تشہیر دی۔۔۔ اب نتیجہ آپ کے سامنے ہے _ قندیل بولے جارہی تھی اور شاہزیب کے چہرے پر سُر خی اور ماتھے پر پسینے کی بوندیں نمایاں طور پر نظر آرہی تھیں ۔۔۔،،،،
واقعی آپ سخت جان اور حوصلہ مند ہیں ،، شاہزیب نے رومال سے اپنے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا ،،آپ کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو عُمر بھر بیساکھیوں کے سہارے اپنے جسم کو گھسیٹی رہتی ۔۔۔ لیکن ایسا کرکے آپ ہزاروں معزوروں کے لئے رول ماڈل بن گئیں ہیں ۔۔۔،،آپ کی ہمت اور حوصلے کو یہ شاہزیب سلام کرتا ہے ۔۔۔اُس نے اپنا ہاتھ ماتھے سے لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔،،، شاہزیب صاحب اس دُنیا میں گرے ہوؤں کو سب گراتے ہیں _ اگر انسان خود اُٹھنے کی کوشش نہ کرے تو عُمر بھر ہمدردی اور رحم کے ٹکڑوں پر زندگی کاٹنی پڑتی ہے ، قندیل نے پانی کا گھونٹ حلق نے اُتارتے ہوئے کہا ۔۔۔،،،،
واقعی گھر والوں نے کافی سوچ سمجھ کر آپ کا نام قندیل رکھا ہے جو خود جل کر دوسروں کو اپنی روشنی سے فیضیاب کرتی ہے ۔۔۔،،،،
اُس کار والے کا کچھ پتہ چلا ؟ شاہزیب نے اُسے پھر کُریدہ ،،
نہیں! اُس کی کار کی رفتار سے لگ رہا تھا کہ وہ کسی رئیس باپ کی بگڑی ہوئی اولاد ہے ۔۔۔پکڑا بھی جاتا تو دولت کے بل بوتے پر رہا ہوجاتا ۔۔۔ لیکن میرے اللہ کی پکڑ بہت مظبوط ہے ،میں نے اس کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ رکھاہے۔۔۔ بس اب انصاف کا انتظار ہے ۔۔۔قندیل نے اپنے سامنے کُھلی ہوئی فائل بند کرتے ہوئے کہا ۔۔۔،،
رات کا تیسرا پہر تھا ، آسمان تاروں سے بھرا ہوا تھا اور چاند اپنے پورے شباب پر تھا _ اس کی ضیا دریچے سے چھن کر کمرے میں داخل ہو رہی تھی ۔۔۔،، شاہزیب اپنے بیڈ پر کروٹیں بدل رہا تھا ،اس کے کانوں میں قندیل کے کہے ہوئے الفاظ کسی نقارے کی مانند گونج رہے تھے ۔۔۔وہ اتنی عُمر میں بہت ساری لڑکیاں دیکھ چُکا تھا ۔۔۔ مگر اس قدر حوصلہ مند ،پُر عزم ، سخت جان اور فراخ دل لڑکی اس نے پہلی مرتبہ دیکھی تھی ۔۔۔
رہ رہ کر قندیل کا حجاب میں لپٹا پُر کشش چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے رقص کر رہا تھا لیکن اُس کی مصنوعی ٹانگ کو یاد کر کے شاہزیب کی آنکھوں کی جھیل میں ارتعاش پیدا ہو گیا ،اس نے دل ہی دل میں ایک فیصلہ کر لیا ۔۔۔ اتنے میں دفعتاً ابر کے ایک ٹکڑے نے چاند کو اپنی آغوش میں لے لیا جس سے کائنات کی تاریکی میں مزید اضافہ ہوگیا ،،،،، شاہزیب نے سرہانے کواپنی بانہوں میں بھینچ کر آنکھیں موند لیں ۔۔۔،،،،،،،
صُبح گھر کے تمام افراد ناشتے کی میز کے گرد بیٹھے تھے کہ شاہزیب نے یہ کہہ کر دھماکہ کر دیا کہ وہ قندیل کو اپنا شریکِ حیات بنانا چاہتا ہے تو پورے گھر میں کھلبلی مچ گئ ۔۔۔، بس تب سے گھر کے سارے افراد ایک جانب ، دادی اور شاہزیب ایک جانب ۔۔۔،، اس معاملے پر امّاں اور گُل محمد میں بحث ہوئی تو اّماں نے اُسے یہ کہہ کر چُپ کرادیا کہ کسی بھی انسان میں ایک نُقص کو دیکھ کر اُس کی باقی ماندہ خوبیوں کو نظر انداز کرنا کہاں کا انصاف ہے گُلو! خُدا کے قہر سے ڈر ، قندیل کی جگہ اگر تمہاری اپنی بیٹی ہوتی تو ؟ اماّں کی تقریر سنُ کر سبھی کے سر ندامت سے نِگوں ہوگئے پھر “ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ” کے مصداق سب کو اماّں جی کے آگے ہتھیار ڈال دینے پڑے ۔۔۔،،،،
شاہزیب قندیل کے آفس میں بیٹھا کوفی کی چُسکیاں لے رہا تھا ۔۔۔ آج آپ کس سلسلے میں تشریف لائے ؟ قندیل نے پیپر ویٹ کو ٹیبل پر گھُماتے ہوئے دریافت کیا ،،،،
دراصل آج میں آپ کی خدمت میں ایک پرپوزل لے کر حاضر ہوا ہوں ۔۔۔ اجازت ہو تو اظہار کروں ؟ شاہزیب نے نرم لہجے میں کہا ۔۔۔،،
پرپوزل ؟ قندیل کی جبیں پر بل پڑ گئے ،،
جی پرپوزل!
آپ سے گزارش ہے کہ نہایت ہی تحمل اور سوچ سمجھ کر جواب دیجیے گا ۔۔۔،،
بات دراصل یہ ہے کہ شاہ کارپٹس کا نام تو آپ نے سُنا ہی ہوگا _ میں اُسی خاندان کا چشم و چراغ ہوں _ شاہزیب کہتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔،،
تو ؟
تو یہ کہ میں آپ کو اپنا شریکِ حیات بنانا چاہتا ہوں اور زندگی بھر کے لئے آپ کا ساتھ چاہتا ہوں ، شاہزیب نے ایک ہی سانس میں کہہ دیا ۔۔۔،،،
اچھا تو یہ بات ہے ؟
یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں شکستہ پاء ہوں ۔۔۔
جی بالکل! ایسے فیصلے جسم کے خوبصورت اعضاء دیکھ کر نہیں بلکہ باطنی خوبیاں دیکھ کر کئے جاتے ہیں ،،
شاہزیب صاحب! یہ تو اچھی بات ہے ۔۔۔،، میں آزاد خیال اور ماڈرن لڑکی ضرور ہوں لیکن یہ اختیار میرے والدین کو ہے ۔۔۔
آپ کے والدین اُن سے مل کر اُن کی رائے جان سکتے ہیں ،،،
پہلے میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں ؟ شاہزیب نے متجسس لہجے میں پوچھا ،،
شاہزیب صاحب مجھے خوشی ہے کہ اوروں کی طرح آپ نے یہ فیصلہ مجھ پر رحم اور ہمدردی کے جذبے کے تحت نہیں بلکہ میری ہُنر مندانہ صلاحیتوں کو مدِ نظر رکھ کر کیا ہے ۔۔۔ میں آپ کے اس فیصلے سے بھی متاثر ہوئی کہ آج کے مادیت پرست دور میں جبکہ نو جوان بیرون ممالک میں دولت کمانے کو ترجحیج دیتے ہیں لیکن آپ اپنے وطن میں رہ کر اپنے لوگوں کی خدمت کرنے کو ترجحیج دے رہے ہیں۔۔۔۔ مجھے تو اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔،،،
یہ سُن کر شاہزیب کے قدم زمین پر نہیں پڑ رہے تھے ۔۔۔۔،،،
وہ سیدھا گھر پہنچا اور والدین کو قندیل کے گھر والوں سے ملنے کے لئے بھیج دیا۔۔۔۔ ، قندیل کے والدین سے مثبت جواب ملتے ہی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔۔۔۔،، شرعی لوازمات اور نکاح خوانی کے بعد قندیل کی وداعی ہو گئی ۔۔۔۔،، قسمت نے قندیل کو چھوٹے سے مکان سے نکال کر محل نُما گھر میں پہنچا دیا تھا ۔۔۔۔ ، پورا گھر روشنیوں سے جگمگا رہا تھا _ چا ر سُو خوشیاں رقص کر رہی تھیں ۔۔۔۔،،
شبِ افروز اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ دمک رہا تھا ۔۔۔۔ قندیل حُجلہء عروسی میں سہمی سمٹی اپنے سرتاج کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔ شاہزیب کو شبِ زفاف کی اتنی خوشی نہیں تھی جتنی قندیل کو حاصل کرنے کی تھی ۔۔۔۔
دروازے کے کِواڑ کھُلے تو قندیل شرم و حیا سے مزید سمٹ گئی ۔۔۔۔،،،
شاہزیب قندیل کے قریب پہنچ کر اُس کا گھونگھٹ اُٹھاتے ہوئے بولا،،
سُبحان اللّہ!
قندیل تم اندازہ نہیں لگا سکتی کہ تمہیں پاکر میں کس قدر مسروُر ہوں ۔۔۔۔،،،
نہیں! میں ہی خوش قسمت ہوں کہ مجھے تم جیسا ہمدرد اور انسانی جذبے کا حامل فرشتہ صفت انسان نصیب ہوا ۔۔۔۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھ شکستہ پاء لڑکی کو آپ جیسا شہزادہ قبول کر کے مجھے عُمر بھر کے لئے اپنا مر ہونِ احسان بنادے گا ۔۔۔۔،، شاہزیب اُسے ایک ٹک دیکھتا رہا ۔۔۔۔ فرطِ جذبات سے اُس کی آنکھیں ڈبڈبانے لگیں وہ دل ہی دل نے سوچ رہا تھا کہ کاش وہ قندیل کو بتا سکتا کہ اُس نے اُسے اس حالت میں قبول کر کے کوئی احسان نہیں کیا بلکہ اُس گناہ کا کفارہ ادا کیا ہے جو چند سال قبل اُس سے سرذد ہوگیا تھا ۔۔۔۔،،،،
����
164
